امیر سخن حضرت امام علی علیه السلام کے خطبات
تیسری صدی ہجری کے اواخر میں امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام سے منسوب خطبوں کی تعداد تقریباً چار سو کے قریب تھی۔ نصف صدی بعد اس تعداد ۴۸۰ لکھی گئی۔ متقدمین میں سے راویانِ حدیث نے آپ کے خطبوں کے مجموعے مرتب کئے تھے، منجملہ زید بن وہب جُہنی (پہلی صدی کے اواخر)، مسعدة بن صدقة عبدی (دوسری صدی کے اواخر)، اسماعیل بن مہران سکونی (یہ ۲۲۴ ھ میں زندہ تھے)، صالح بن ابی حمّاد رازی (تیسری صدی کے وسط)، عبدالعظیم بن عبداللہ حسنی (متوفی ۲۵۲ھ)۔
کچھ دیگر افراد نے اپنی کتب میں امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے خطبات، مکتوبات اور اقوال کو مستقل ابواب میں ذکر کیا ہے ۔ ان میں متقدم مؤرخین میں محمد بن عمر واقدی (متوفی ۲۰۷ھ)، علی بن محمد مدائنی (متوفی ۲۲۵ھ)، احمد بن محمد بن عبدربہ (متوفی ۳۲۸ھ) اور عبدالعزیز بن یحیی جلودی (متوفی ۳۳۲ھ) شامل ہیں۔ اسی طرح کچھ دیگر افراد نے حضرت کے خطوط کو جمع کرنے کا کام کیا، جیسے ابراہیم بن محمد ثقفی (متوفی ۲۸۳ھ)۔
پہلی قسم میں باقی رہ جانے والی قدیم ترین کتاب ’’نہج البلاغه‘‘ ہے، جو امیر المؤمین حضرت امام علی علیہ السلام سے منسوب خطبات، مکتوبات اور کلماتِ قصار کا ایک منتخب مجموعہ ہے۔ اسے محمد بن حسین موسوی شریف رضی (متوفی۴۰۶ھ) نے سنہ ۴۰۰ھ میں تألیف کیا۔اس کتاب کے بہت سے مضامین پہلے کے مصادر میں بھی موجود ہیں، جن میں سے بعض کی طرف خود نہج البلاغه میں بھی اشارہ کیا گیا ہے۔ حالیہ زمانے میں کچھ کتب نے قدیم مصادر میں تحقیق کر کے نہج البلاغه کے مضامین کی مستند نشاندہی کی ہے۔دور حاضر میں اس نوعیت کی کتاب ’’مدارک نهج البلاغه‘‘ ہے جو جناب رضا استادی (قم، ۱۳۹۶ھ) کی کتاب ہے ۔
نہج البلاغه کے ایک حالیہ ایڈیشن (تحقیق: جعفر الحسنی، قم،۱۴۱۹ھ) میں صفحہ۵۹۱ ـ ۶۲۱ تک ایک حصہ اس کتاب کے مضامین کے مصادر کے بارے میں بھی شامل ہے۔کچھ موارد میں ایسا ہوا ہے کہ قدیم مصادر میں بعض اقوال دوسرے اشخاص سے منسوب تھے لیکن وہ نہج البلاغه میں امیرالمؤمنین علیہ السلام کے نام سے نقل ہوئے ہیں۔ بظاہر یہ ایسے قدیم مصادر کی بنیاد پر ہے جو اب باقی نہیں رہے۔
ابن تیمیہ اور ذہبی نے نہج البلاغه کے بہت سے مضامین کی اصالت کے بارے میں شبہات کا اظہار کیا ہے۔ ابن خلکان نے بھی اپنی کتاب وفیات(ج۳،ص۳۱۳) میں یہی طرزِ عمل اختیار کیا ہے، اگرچہ خود انہوں نے ایک اور مقام (ج۵،ص۸) پر بغیر کسی اعتراض کے ان سے نقل بھی کیا ہے۔
خطیب بغدادی نے کتاب جامع(ج۳ ،ص۱۶۱) میں حضرت امام علی علیہ السلام سے منسوب ان خطبوں کو من گھڑت قرار دیا ہے ، جو ملاحم (آئندہ پیش آنے والے واقعات) اور فتن (فتنوں) سے متعلق ہیں۔ اس نوع کے بعض خطبات نہج البلاغه میں بھی موجود ہیں۔
نہج البلاغه متعدد اشاعتوں اور پانچویں صدی ہجری کے بعد کے بہت سے قلمی نسخوں کے ساتھ دستیاب ہے۔ دسویں صدی سے پہلے کے نسخوں کی فہرست کے لئے مجلہ تراثنا (قم) کی طرف رجوع فرمائیں، جس میں’’ فی رحاب نهج البلاغه‘‘ کےعنوان سےسید عبد العزیز طباطبائی کا مقالہ شامل ہے۔ شمارہ۵ (صفحات ۲۵ تا۱۰۲)، شمارہ ۷-۸ (صفحات۱۳ تا ۳۶)، شمارہ ۲۹ (صفحات۷ تا۲۵)۔
محمد باقر محمودی کی’’نهج السعادة فی مستدرک نهج البلاغة‘‘ کے عنوان سے ایک حالیہ تحقیق (دوسرا ایڈیشن، تہران، ۱۹۹۸ء)میں امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام سے منسوب ان خطات،مکتوبات اور کلمات قصار کو جمع کرنے کی کوشش کی گئی ہے کہ جو’’ نہج البلاغه‘‘ میں شامل نہیں ہوئے۔[1]








