امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیه السلام کے چند فضائل

امیرالمؤمنین حضرت امام علی  علیه السلام کے چند فضائل

مورخین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ حضرت علی علیہ السلام نے دونوں قبلوں (یعنی بیت المقدس اور کعبہ) کی طرف نماز ادا کی، ہجرت کی، اور جنگِ تبوک کے علاوہ تمام جنگوں میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے ہمراہ رہے۔ جنگِ تبوک میں بھی رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے انہیں مدینہ میں اپنے اہلِ خانہ کی حفاظت کے لئے اپنا جانشین مقرر کیا، اور ان سے فرمایا:’’تمہیں مجھ سے وہی نسبت حاصل ہے جو ہارون کو موسیٰ سے تھی، مگر یہ کہ میرے بعد کوئی نبی نہیں ہے‘‘۔اور اس روایت کو صحابہ کی ایک جماعت نے نقل کیا ہے۔[1]

روایت کیا گیا ہے کہ جب رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مہاجرین اور انصار کے درمیان بھائی چارہ قائم کیا اور  جب بھی دو افراد کو ایک دوسرے کا بھائی قرار دیا تو حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا: ’’تم دنیا اور آخرت میں میرے بھائی ہو‘‘۔

آپ نے حضرت علی علیہ السلام کو اپنا بھائی قرار دیا ۔ اسی وجہ سے حضرت علی علیہ السلام نے اہلِ شوریٰ سے فرمایا:میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں! کیا تم میں میرے سوا کوئی اور ہے جسے رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے مسلمانوں کے درمیان بھائی چارہ قائم کرتے وقت اپنا بھائی قرار دیا ہو؟

سب نے کہا: خدا کی قسم! نہیں۔

حضرت امام علی علیہ السلام ہمیشہ فرمایا کرتے تھے: میں خدا کا عبد اور رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا بھائی ہوں ۔

کوئی دوسرا شخص یہ دعویٰ نہیں کر سکتا، مگر یہ کہ وہ جھوٹا ہو۔

بُرَیدہ، ابو ہریرہ، جابر، براء بن عازب اور زید بن ارقم میں سے ہر ایک  نے رسول  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  سے روایت کی ہے کہ آپ  نے غدیر خم [2]کے دن فرمایا:’’جس کا میں مولا ہوں، اس کے علی مولا ہیں‘‘ ۔

بعض دیگر روایات میں آیا ہے کہ نبی اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:’’خدایا! جو علی سے محبت کرے تو اس سے محبت کر، اور جو علی سے دشمنی کرے تو اس سے دشمنی کر‘‘۔

اس سے پہلے ہم جنگِ خیبر کے ضمن میں ذکر کیا ہے [3]کہ رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے فرمایا:

’’کل میں پرچم ایسے شخص کو دوں گا جو خدا اور اس کے رسول سے محبت کرتا ہے، اور خدا اور اس کا رسول بھی اس سے محبت کرتے ہیں، وہ جنگ سے بھاگنے والا نہیں ہوگا، اور خدا  اس کے ہاتھوں فتح عطا فرمائے گا۔پھر آپ نے علی علیہ السلام کو پرچم دیا اور خدا نے ان کے ہاتھ سے خیبر کا دروازہ کھلوایا ‘‘۔

حضرت علی علیہ السلام نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  سے عرض کیا:یا  رسول اللہ! میں نہیں جانتا کہ قضاوت  کیا ہے؟

پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اپنا دستِ مبارک ان کے سینے پر رکھا اور فرمایا:’’خدایا! ان کے دل کو ہدایت دے اور اس کی زبان کو حق بیان کرنے پر ثابت قدم رکھ‘‘۔

حضرت علی علیہ السلام فرمایا کرتے تھے:خدا کی قسم! اس کے بعد میں نے جب بھی دو افراد کے درمیان فیصلہ کیا، کبھی شک و تردّد میں مبتلا نہیں ہوا۔

اور جب یہ آیت نازل ہوئی کہ خدا نے فرمایا ہے:’’بیشک خدا یہی چاہتا ہے کہ آپ اہل بیت سے ہر طرح کی ناپاکی دور کر دے خوب پاک و پاکیزہ بنا دے‘‘۔[4]

پیغمبر اکرم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت فاطمہ زہراء، حضرت امام علی، حضرت امام حسن اور حضرت امام حسین علیہم السلام کو امّ سلمہ کے گھر میں بلایا اور فرمایا:’’خدایا! یہ میرے اہلِ بیت ہیں۔ خدایا! ان سے گناہ کو دور کر دے اور انہیں خوب پاک و پاکیزہ بنا دے‘‘۔

ابن عبدالبر کہتے ہیں: رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے صحابہ کی ایک جماعت نے روایت کیا ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:’’تم سے محبت نہیں رکھتا مگر مؤمن، اور تم سے دشمنی نہیں رکھتا مگر منافق‘‘۔

اور رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے ان سے یہ بھی فرمایا:’’تمہارے بارے میں دو گروہ ہلاک ہوں گے: ایک وہ جو تمہاری محبت میں غلو اور مبالغہ کرے گا، اور دوسرا وہ جو جھوٹ اور دشمنی کی بنا پر تمہاری تکذیب کرے گا‘‘۔[5]

رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے حضرت علی علیہ السلام سے فرمایا:’’میری امت تمہارے بارے میں گروہوں میں بٹ جائے گی ، جیسے بنی اسرائیل حضرت عیسیٰ کے بارے میں مختلف گروہوں میں بٹ گئے تھے۔

اور نبی کریم  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے یہ بھی روایت ہے کہ آپ نے فرمایا:’’ میں علم کا شہر ہوں اور علی اس شہر کا دروازہ ہیں، پس جو علم کا طالب ہو اسے چاہئے کہ وہ دروازے سے داخل ہو‘‘۔[6]

اور آپ اپنے صحابہ کے بارے میں فرمایا کرتے تھے:’’ان میں علی علیہ السلام سب سے بڑھے قاضی (فیصلہ کرنے) ہیں‘‘۔[7]

عمر ہمیشہ ان مشکل مسائل سے خدا  کی پناہ مانگتا تھا جن کے حل کے لئے امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام موجود نہ ہوں۔

ایک عورت نے شادی کے چھ ماہ بعد بچے کو جنم دیا تھا اور عمر اسے سنگسار کرنا چاہتا تھا لیکن حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:خداوند تبارک و تعالیٰ فرماتا ہے:اس (بچے) کا حمل اور اس کا دودھ چھڑانا تیس ماہ ہے‘‘۔[8]

اور  دوسری جگہ فرماتا ہے: ’’اور اس کا دودھ چھڑانا دو سال ہے‘‘۔[9]

پس اس عورت پر حد جاری نہیں کی گئی۔

حضرت علی علیہ السلام میراث کے علم میں تمام لوگوں میں سب سے زیادہ دانا تھے اور اس بارے میں آپ سے بہت سی روایات نقل ہوئی ہیں۔ انہی میں سے ایک واقعہ وہ ہے جسے ابن عبدالبر نے اپنی سند کے ساتھ زِر بن حُبیش سے روایت کیا ہے:

دو آدمی ایک ساتھ کھانا کھانے کے لئے بیٹھے۔ ان میں سے ایک کے پاس پانچ روٹیاں تھیں اور دوسرے کے پاس تین روٹیاں۔ جب انہوں نے دسترخوان بچھایا تو ایک تیسرا آدمی وہاں سے گزرا، اس نے سلام کیا۔ انہوں نے اسے کہا: بیٹھ جاؤ اور ہمارے ساتھ کھانا کھاؤ۔ وہ بھی بیٹھ گیا اور ان کے ساتھ کھانے لگا، یہاں تک کہ تینوں نے مل کر آٹھوں روٹیاں کھا لیں۔

جب وہ تیسرا آدمی اٹھنے لگا تو اس نے انہیں آٹھ درہم دیئے اور کہا: یہ اس کھانے کے بدلے ہیں جو میں نے تمہارے ساتھ کھایا۔

اب وہ دونوں شخص درہم کی تقسیم پر جھگڑنے لگے۔ جس کے پاس پانچ روٹیاں تھیں، اس نے کہا: پانچ درہم میرے اور تین تمہارے ہوں گے،لیکن جس کے پاس تین روٹیاں تھیں، اس نے کہا: میں اس وقت تک راضی نہیں ہوں گا جب تک تم  آدھا حصہ مجھے نہیں دو گے ۔

پھر وہ دونوں اپنا معاملہ امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے پاس لے گئے اور سارا واقعہ بیان کیا۔

جس کے پاس تین روٹیاں تھیں ،حضرت علی علیہ السلام نے اُس شخص سے فرمایا:

تمہارے اس ساتھی کی روٹیاں تم سے زیادہ تھیں، لہٰذا وہ جو تمہیں دے رہا ہے اس پر خوش ہو جاؤ۔

اس نے کہا: خدا کی قسم! میں راضی نہیں ہوں گا مگر حق کے مطابق۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: اگر حق کے مطابق تقسیم ہو تو تمہیں صرف ایک درہم ملے گا، اور سات درہم اس کے ہوں گے۔

وہ شخص بولا: سبحان اللہ! اے امیرالمؤمنین! یہ تو بہت عجیب بات ہے! وہ خود مجھے تین درہم دے رہا تھا اور آپ نے بھی فرمایا تھا کہ تین لے لو مگر میں راضی نہ ہوا، اور اب آپ فرما رہے ہیں کہ میرا حصہ صرف ایک درہم ہے؟!

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: ہاں! حقیقت یہی ہے۔

اس نے کہا:آپ اس کی وضاحت فرمائیں۔حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:

اگر آٹھ روٹیوں کو تین حصوں میں تقسیم کیا جائے تو کیا وہ ان کے چوبیس حصے نہیں بنتے؟ تم تینوں نے ان روٹیوں میں برابر برابر کھایا ہے، اور ہمیں یہ معلوم نہیں کہ کس نے زیادہ کھایا اور کس نے کم، کیا ایسا ہی نہیں؟

اس نے کہا: جی ہاں! ایسا ہی ہے۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:تم نے آٹھ حصے کھائے جبکہ تمہارے پاس کل نو حصے تھے، اور تمہارے ساتھی نے بھی آٹھ حصے کھائے جبکہ اس کے پاس پندرہ حصے تھے۔ اس طرح مہمان نے اس کے نان میں سے سات حصے کھائے اور تمہارے نان میں سے ایک حصہ۔ لہٰذا ایک درہم تمہارا بنتا ہے اور سات درہم اس کے۔

اس شخص نے کہا: اب میں راضی ہوں۔

ایک دن حضرت علی علیہ السلام منبر پر تشریف فرما تھے کہ ایک عورت  آئی اور عرض کیا: میرے بھائی نے چھ سو دینار وراثت میں چھوڑے ہیں، مگر مجھے صرف ایک دینار دیا گیا ہے، اور میں اس پر شکایت کرتی ہوں۔

حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا:شاید تمہارے بھائی کے ورثاء میں ایک بیوی، ایک ماں، دو بیٹیاں، بارہ بھائی اور تم  شامل ہو؟

اس نے کہا: جی ہاں۔

آپ نے فرمایا:تمہارا حق مکمل طور پر ادا کر دیا گیا ہے۔[10]

یہ مسئلہ “مسئلہ دیناریہ” اور “مسئلہ منبریہ” کے نام سے مشہور ہے۔[11]

 


[1] ۔ صحيح مسلم :۱۵/ ۱۷۵، رياض النضرة:۲/ ۱۶۲.

[2] ۔ خُم دراصل ایک شخص کا نام تھا اور مکہ اور مدینہ کے درمیان جُحفہ کے مقام پر واقع اس تالاب  کا نام اسی شخص کے نام پر غدیرِ خُم رکھا گیا۔کتاب ریاض النضرة (جلد ۲، صفحہ۱۶۹) میں براء بن عازب سے روایت ہے کہ وہ کہتے ہیں:ہم ایک سفر میں پیغمبر خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے ساتھ تھے۔ جب ہم غدیرِ خُم پہنچے تو لوگوں کو جمع ہونے کا حکم دیا گیا اور رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے لئے ایک درخت کے نیچے چادر بچھائی گئی۔ پھر جب رسول خدا   صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے نمازِ ظہر ادا فرمائی تو علی بن ابی طالبؑ کا ہاتھ پکڑ کر فرمایا:کیا تم جانتے ہو کہ میں مؤمنوں پر ان کی اپنی جانوں سے بھی زیادہ حقِ ولایت رکھتا ہوں؟سب نے عرض کیا:جی ہاں۔

پھر آپ نے فرمایا:خدایا! جس کا میں مولا ہوں، علی بھی اس کے مولا ہیں۔ خدایا! جو علی سے محبت رکھے، تو بھی اس سے محبت فرما، اور جو ان سے دشمنی کرے، تو بھی اس سے دشمنی فرما۔

[3] ۔ نهاية الأرب :۱۷/ ۲۵۲اور ۲۵۳، صحيح بخارى : احاديث نمبر ۳۴۶۵اور ۳۴۶۶، صحيح مسلم به شرح نووى : ۱۵/ ۱۷۶.

[4] ۔ سورۀ احزاب ، آيت: ۳۳. ك : سنن ترمذى به شرح نووى : ۱۵/ ۱۹۴.

[5] ۔ استيعاب : ۳/ ۳۷.

[6] ۔ اہل سنت کی کتابوں میں اس حدیث کے حوالہ جات کے لئے رجوع فرمائیں : فضايل الخمسة : ۲ /۲۴۸ـ۲۵۲  استاد دانشمند جناب سيّد مرتضى حسينى فيروزآبادى ، تیسرا ایڈیشن ، ۱۳۹۳ ھ بيروت .

[7] ۔ ایضاً : صفحات۲۶۲ ـ۲۶۴.

[8] ۔ سورۀ احقاف ، آيت:۱۴.

[9] ۔ سورۀ لقمان ، آيت:۱۴. طبری اور ابن کثیر اپنی تفاسیر میں لکھتے ہیں: قبیلہ جُہینہ کے ایک شخص نے اسی قبیلے کی ایک عورت سے شادی کی، جس نے چھ ماہ بعد بچے کو جنم دیا، اور عثمان نے اسے سنگسار کرنے کا ارادہ کیا۔

[10] ۔ بیوی کا حصہ پچھتر (۷۵) دینار ہے، جو کل رقم کا آٹھواں حصہ بنتا ہے۔ ماں کا حصہ ایک سو (۱۰۰) دینار ہے، جو کل کا چھٹا حصہ ہے۔ دو بیٹیوں کا حصہ چار سو (۴۰۰) دینار ہے، یعنی کل رقم کا دو تہائی۔اس کے بعد پچیس (۲۵) دینار باقی بچتے ہیں، جن میں سے ہر بھائی کو دو (۲) دینار ملتے ہیں اور بہن کو ایک (۱) دینار دیا جاتا ہے۔

[11] ۔ نهاية الأرب : ۵ /۱۰۰.

بازدید : 5