امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
امیرالمؤمنین علیه السلام کے فضائل کو چھپانا

امیرالمؤمنین علیه السلام کے فضائل کو چھپانا

سب لوگ جانتے ہیں کہ اقتدار، طاقت اور حکومت ہمیشہ انہی باتوں کی پشت پناہی کرتی رہی ہے۔ اور ہر کوئی جانتا ہے کہ شیوخ، علما اور سربراہان کس قدر قوت و اثر رکھتے تھے، جبکہ عثمانیوں  کا غلبہ اور ان کی باتیں بھی ظاہر و غالب تھیں۔وہ حکومتی شان و شوکت کے مالک تھے اور انہیں تقیہ کی بھی ضرورت نہیں تھی۔ مزید یہ کہ وہ انعامات مقرر کرتے تھے تاکہ لوگ  ابوبکر کی فضیلت میں روایات اور احادیث بیان کریں۔ بنی امیہ بھی اس معاملے پر بہت زور دیتے تھے۔

اسی طرح محدثین نے بھی بنی امیہ کے ہاتھوں موجود دنیاوی مفادات اور انعامات حاصل کرنے کے لئے بہت سی احادیث گھڑیں اور انہیں ترتیب دیا۔

بنی امیہ نے اپنی پوری حکومت کے دوران حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام اور ان کی اولاد کے نام اور ذکر کو مٹانے اور ان کے نور کو بجھانے کے لئے کوئی کسر نہ چھوڑی۔ وہ ہمیشہ ان کے فضائل، مناقب اور سابقہ خدمات کو چھپاتے رہے اور لوگوں کو منبروں پر ان پر سبّ و شتم، گالی گلوچ اور لعنت کرنے پر مجبور کرتے رہے۔

اس دور میں علویوں کا خون مسلسل بہتا رہا، ان کی تعداد کم تھی اور ان کے دشمن بہت زیادہ تھے۔اس دور میں علوی یا تو قتل کر دیئے گئے تھے، یا قید میں تھے، یا پھر خوف زدہ ، لاچار اور بے بس ہو کر بھاگتے پھرتے تھے اور ہر وقت اپنی جان کی حفاظت میں لگے رہتے تھے۔

یہاں تک نوبت پہنچ گئی کہ فقہاء، محدثین،متکلمین  اور قاضیوں کو بھی دھمکیاں دی جاتی اور سخت تنبیہ کی جاتی کہ وہ علویوں کے فضائل زبان پر نہ لائیں۔ کسی کو بھی ان کے قریب جانے کی اجازت نہیں تھی۔

صورتحال یہاں تک بگڑ گئی کہ محدثین شدید تقیہ کی حالت میں آ گئے۔ جب وہ حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے کوئی حدیث نقل کرنا چاہتے تو صراحت کے ساتھ نام نہیں لیتے تھے، بلکہ اشارہ و کنایہ  سے بیان کرتے تھے۔ وہ کہتے تھے:’’ قریش کے ایک آدمی نے ایسا کہا” یا  “قریش کے ایک آدمی نے ایسا کیا”، لیکن حضرت علی علیہ السلام کا نام واضح طور پر ذکر نہیں کرتے تھے۔

ہم یہ بھی واضح طور پر دیکھتے ہیں کہ مختلف گروہوں نے  امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے فضائل کو رد کرنے اور ان میں نقص نکالنے کی بھرپور کوشش کی  اور ہر طرح کی حیلہ سازی اور غلط تأویلات کو درست سمجھا گیا۔

ان میں خارجی، دین سے نکل جانے والے، ناصبی دشمن، ظاہراً ثابت قدم مگر دراصل خاموش اور بے اثر لوگ، جاہل اور جھگڑالو افراد، منافق اور جھوٹے، اور عثمانی حسد رکھنے والے سب شامل تھے جنہوں نے اعتراضات اور طعن و تشنیع کی۔

حتیٰ کہ بہت سے معتزلی بھی اصول و مبانی کو جاننے اور شبہات و اعتراضات کے مقامات کو سمجھنے کے باوجود  اس کوشش میں لگے رہے کہ کسی نہ کسی طرح امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے فضائل کو باطل ثابت کریں یا ان کے مشہور مناقب کی غلط تأویل پیش کریں۔

کبھی انہوں نے ان فضائل کی ایسی تأویل کی جو سرے سے قابلِ قبول ہی نہیں تھی، اور کبھی انہیں دوسری چیزوں کے ساتھ قیاس کر کے ان کی قدر و منزلت کم کرنے کی کوشش کی۔ لیکن ان تمام کوششوں کے باوجود حضرت علی علیہ السلام کے فضائل ہمیشہ اپنی قوت و رفعت اور روشنی میں مزید اضافہ ہی کرتے رہے۔

اور آپ جانتے ہیں کہ معاویہ، یزید اور ان کے بعد آنے والے مروانی حکمرانوں نے اسّی (۸۰) سال سے زیادہ عرصہ پر محیط اپنی پوری حکومت کے دوران لوگوں کو حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام پر سبّ و شتم، لعن اور گالی دینے پر مجبور کرنے میں کوئی کسر نہ چھوڑی، اور ان کے فضائل، مناقب اور سابقہ خدمات کو چھپانے کی ہر ممکن کوشش کی۔

خالد بن عبداللہ واسطی، حصین بن عبدالرحمن، ہلال بن یساف اور عبداللہ بن ظالم سے روایت کرتے ہیں کہ وہ کہتے تھے: جب معاویہ کی بیعت ہو گئی تو مغیرہ بن شعبہ نے خطباء کو کھڑا کیا جو حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام پر لعنت کرتے تھے!

سعید بن زید بن عمرو بن نفیل کہا کرتے تھے: کیا تم اس ظالم شخص کو نہیں دیکھتے جو جنتی آدمی پر لعنت کرنے کا حکم دیتا ہے؟

سلیمان بن داؤد نے شعبہ سے ، حر بن صباح سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: میں نے عبدالرحمان بن اخنس کو یہ کہتے ہوئےسنا کہ میں اس وقت موجود تھا جب مغیرہ بن شعبہ نے خطبہ دیا اور حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کا نام لے کر انہیں گالیاں دیں۔

ابو کریب کہتے ہیں: ابو اسامہ نے صدقہ بن مثنی نخعی کے سے، ریاح بن ثابت سے ہمارے لئے روایت کی ہے کہ وہ کہتے تھے: جب مغیرہ بن شعبہ مسجدِ کوفہ میں بیٹھا ہوا تھا اور اس کے پاس لوگ موجود تھے تو قیس بن علقمہ نامی ایک شخص اس کے پاس آیا۔ مغیرہ نے اس کی طرف رخ کیا اور حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو گالیاں دینی شروع کر دیں۔

محمد بن سعید اصفہانی نے شریک سے، محمد بن اسحاق سے، عمر بن علی بن حسین  سے، اور انہوں نے اپنے والد علی بن حسین علیہماالسلام سے روایت کی ہے کہ وہ فرمایا کرتے تھے:

مروان نے مجھ سے کہا: اس قوم میں تمہارے سالار یعنی امیرالمؤمنین علی علیہ السلام سے بڑھ کر ہمارے سالار عثمان کا دفاع کسی نے نہیں کیا۔

میں نے کہا: پھر تم لوگ انہیں منبروں پر کیوں گالیاں دیتے ہو؟

اس نے کہا: ہماری حکومت اور نظامِ کار اسی طرح قائم رہ سکتا ہے!

ابو غسان مالک بن اسماعیل نہدی نے ابن ابی سیف سے نقل کیا ہے کہ مروان خطبہ دے رہا تھا اور امام حسن علیہ السلام منبر کے نیچے بیٹھے تھے۔ مروان نے امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کو گالی دی۔ امام حسن علیہ السلام نے فرمایا:اے مروان! تم پر افسوس ہے، کیا تم نے جسے گالی دی ہے وہ لوگوں میں سب سے برا ہے؟

مروان نے کہا: نہیں، بلکہ وہ سب سے بہتر انسان ہے۔[1]

 


[1] ۔ جلوۀ تاريخ در شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد: ۵/ ۳۰۷.

بازدید : 19