(12)
شجاعت و مواسات میں حضرت اباالفضل العباس عليه السلام کی
اميرالمؤمنين عليه السلام سے شباہت
تمام اصحاب کی بنسبت حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کی شجاعت و مواسات اسی طرح تھی کہ جس طرح رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے تمام اصحاب کی بنسبت آپ کے بابا امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی شجاعت و مواسات تھی۔ لہذا احد کے دن جبرئیل نے خدائے جلیل کی طرف سے ہوا میں سونے کی کرسیسے یہ ندا دی: «لا سيف الاّ ذوالفقار ولا فتى الاّ عليّ» (اور) عرض كیا: «ان هذه لهى المواساة يا محمّد!» يا رسول اللَّه یہ ہے مواساة! اور حضرت رسول صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا: «وما يمنعه وهو مني وأنا منه» جبرئيل نے عرض کیا: «وأنا منكما» (1606)، جب امیر المؤمین علی علیہ السلام ثابت قدم رہے اور طلحہ بن ابی طلحہ عبدری جیسے قریش کے بڑے بڑے سورماؤں کو پچھاڑا (1607) بنی عبدالدار میں سے جس شجاع نے بھی کفار کا پرچم تھا وہ ذوالفقار کی ضرب سے دار البوار کی طرف روانہ ہو گیا اور کفار کے لشکر کو شکست ہوئی۔
جب عاشورا کے دن عالم باطن میں ملائکہ یہ دیکھ رہے تھے کہ حضرت عباس علیہ السلام نے کس طرح خیمہ گاہ کی حفاظت کی، کس طرح بے گناہ بچوں کے لئے پانی کے حصول کی کوشش کی، کس طرح فرات سے پانی پینے پر قادر ہونے کے باوجود وفا کو مدنظر رکھتے ہوئے پانی نہ پیا، اور کس طرح اپنے بھائی اور اہل حرم علیہم السلام کے لئے مواسات کی کہ جسے دیکھ کر تمام ملائکہ یہ کہہ رہے ہوں گے: «ان هذه لهي المواساة» ایسی باعظمت مواسات انسان کے بس کی بات نہیں ہے۔ نصوص و روایات میں حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام کی مواسات کو بطور مکرر بیان کیا گیاہے جیسا کہ زيارت شهداء میں ہے۔: «السلام على العباس بن اميرالمؤمنين المواسي أخاه بِنَفْسِهِ الآخِذٍ لِغَدِه من امِسِه الفادي لَهُ الواقي الساعي إليه بمائِة المقطوعة يداهُ لَعَنَ اللَّهُ قاتله يزيد بن الرُّقاد وحكيم بن الطُفَيلِ الطائي»(1608).(1609)
1606) مجلسى: بحارالانوار: 129 / 20 با اندكى تفاوت.
1607) همان، ص 50 و ج 41، ص 82 .
1608) سيد ابن طاووس: اقبال الاعمال: 49.
1609) كبريت احمر في شرايط المنبر: 706.
منبع: الصحیفة الحسینیة الجامعة ص 421








