امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۲) جبرائیل کا امام زمانہ ارواحنا فداه کی بیعت کرنا(۲)

(۲)

جبرائیل کا امام زمانہ ارواحنا فداه کی بیعت کرنا(۲)

علىّ بن ابراهيم قمى اپنی تفسير میں امام محمّد باقر علیه السلام سے نقل كرتے ہیں کہ آپ نے فرمایا:

خدا کی قسم! گويا قائم عجل الله تعالی فرجه الشریف کو دیکھ رہا ہوں کہ حجرالأسود سے تکیہ کیا ہوا ہے اور لوگوں کو اپنے حق کے بارے میں خدا کی قسم  دے کر فرما رہے ہیں:

اے لوگو! جو کوئی میرے ساتھ خدا کے بارے میں محاجّه کرے (یعنی حجّت و دليل لائے، مناظره و گفتگو کرے) میں ہر ایک کی بنسبت خدا سے زیادہ نزدیک اور سزاوار ہوں۔ اے لوگو! جو کوئی بھی آدم کے بارے میں مجھ سے گفتگو کرے میں ہر ایک کی بنسبت آدم سے زیادہ نزدیک اور آشنا ہوں۔

اے لوگو! جو کوئی بھی مجھ سے نوح کے بارے میں احتجاج  کرے،میں ہر کسی کی بنسبت نوح سے زیادہ نزديك اور دانا ہوں. اے لوگو! جو کوئی بھی مجھ سے ‏ابراهيم کے بارے میں گفتگو کرے میں ہر کسی کی بنسبت نوح سے  زیادہ نزديك اور آگاه ہوں.اے لوگو! جو کوئی بھی مجھ سے موسىٰ کے متعلق گفتگو کرے میں ہر کسی کی بنسبت موسیٰ سے زیادہ نزديك اور شايسته ہوں.

أيّها الناس من يحاجّني في محمّد صلی الله علیه وآله وسلم فأنا أولى بمحمّد، أيّها الناس من يحاجّني في كتاب اللَّه فأنا أولى بكتاب اللَّه.

اے لوگو! جو کوئی بھی مجھ سے محمد صلی الله علیه وآله وسلم کے بارے میں گفتگو کرے میں ہر کسی کی بنسبت محمّد سے زیادہ نزديك اور سزاور ہوں .اے لوگو! جو کوئی بھی مجھ سے كتاب خدا کے بارے میں بحث و گفتگو کرے،میں ہر کسی سے زیادہ كتاب خدا سے نزديك اور عالم ہوں۔

پھر آپ مقام ابراهيم کے ساتھ دو ركعت نماز ادا کریں گے اور پھر لوگوں کو اپنے حق کے متعلق خدا کی قسم دیں گے .

پھر امام باقر علیه السلام نے فرمایا:خدا کی قسم! اس آیت میں مضطرّ سے وہ مراد ہیں:

(أمَّنْ يُجيبُ المُضْطَرَّ إذا دَعاهُ وَيَكْشِفُ السُّوءَ وَيَجْعَلُكُم خُلَفاءَ الأرْض)(179).

«کيا (خدا کے علاوہ) کوئی ہے جو مضطرین اور بيچاروں کی دعاؤں کی اجابت کرے اور ان کی پریشانیوں کو برطرف کرے اور آپ کو روئے زمين پر جانشین قرار دے ».

سب سے پہلے ان کی بیعت کرنے والے جبرئيل علیه السلام ہیں اور ان کے بعد آپ کے تین سو تیرہ اصحاب ہون گے۔ ان میں سے جو بھی راستہ میں ہو گا وہ فوراً ان سے ملحق ہو جائے گا اور جس کسی نے بھی راستہ طے نہیں کیا ہو گا وہ بستر سے اچانت مفقود ہو جائے گا (يعنى راستہ طے کرنے کی زحمت کے بغیر امام علیہ السلام کے اعجاز سے اپنے بستر سے امام علیہ السلام کی خدمت میں پہنچ جائے گا).

یہ اميرالمؤمنين صلوات اللَّه عليه کا فرمان ہے جو آپ نے مهدى (صلوات اللَّه عليه) کے بارے میں بیان فرمایا ہے: «هم ‏المفقودون عن فرشهم» يعنى وہ لوگ اچانک سے اپنے بستر سے مفقود ہو جائیں گے، جیسا كه‏ خداوند تبارك و تعالى نے فرمایا ہے:

(فَاسْتَبِقُوا الخَيرات أيْنَما تَكُونُوا يَأْتِ بِكُم اللَّه جَميعاً)(180)

« خيرات اور نیک کاموں میں ایک دوسرے پر سبقت لو ،جہاں کہیں بھی ہو خداوند تم سب کو اکٹھا کر دے».

فرمایا:اس خیرات سے ہم اہلبیت کی ولایت مراد ہے۔


179) تاريخ نگارستان: 77.

180) ثمرات الحياة: 804/2.

 

منبع: غیر مطبوع ذاتی نوشتہ جات: ص 137

 

بازدید : 721