امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
دو لخمی کا واقعہ اور عمرو عاص کا حضرت علی علیہ السلام کی حقانیت کا اعتراف

دو لخمی کا واقعہ اور عمرو عاص کا حضرت علی علیہ السلام کی حقانیت کا اعتراف

مسعودی نے لَخمیوں کے واقعے میں ذکر کیا ہے کہ معاویہ نے انہیں لالچ دیا اور کہا کہ اگر وہ عباس بن ربیعہ ہاشمی کو قتل کر دیں تو انہیں ایک بلند مقام عطا کیا جائے گا۔ وہ دونوں میدان میں نکلے، لیکن دونوں حضرت امیرالمؤمنین علی علیہ السلام کے ہاتھوں قتل ہو گئے۔

جب ان کی ہلاکت کی خبر معاویہ تک پہنچی تو اس نے کہا:خدا اس ہٹ دھرم کے چہرے کو سیاہ کرے! جب بھی میں نے کسی معاملے پر اصرار کیا، میں ناکام اور رسوا ہوا۔

عمرو بن عاص نے کہا: تم نہ تو  ناکام ہوئے ہو نہ ہی دھوکے میں آئے ہو، بلکہ وہ دونوں لخمی تمہارے فریب میں آ گئے اور خود ہی ہلاک ہو گئے۔

معاویہ نے کہا: خاموش ہو جاؤ، یہ باتیں تم سے متعلق نہیں ہیں۔

عمرو نے کہا: خدا ان دونوں لخمیوں پر رحم نہ کرےاور میں سمجھتا ہوں  کہ وہ ان پر رحم نہیں کرے گا۔

معاویہ نے کہا: اگر خدا ان دونوں کو معاف نہ کرے تو تمہارا دعویٰ باطل ہو جائے گا، اور جس راستے پر تم چل رہے ہو اس میں تمہیں نقصان ہی ہوگا۔

عمرو بن عاص نے کہا: میں جانتا ہوں کہ میں حق پر نہیں ہوں۔ میں تو صرف مصر کی حکومت حاصل کرنے کے لئے تمہارے پیچھے لگا ہوا ہوں اور تمہاری مدد کر رہا ہوں۔ اگر مصر کی حکومت کا لالچ نہ ہوتا تو میں خود کو اس مصیبت سے نکال لیتا۔ میں جانتا ہوں کہ حق ، علی بن ابی طالب علیہما السلام کے ساتھ ہے اور ہم ہی حق کے مخالف ہیں جو ان کے مقابلے میں کھڑے ہیں اور ان سے جنگ کر رہے ہیں۔

معاویہ نے کہا: خدا کی قسم! مصر نے تمہیں اندھا کر دیا ہے، اور اگر یہ نہ ہوتا تو میں جانتا ہوں کہ تم کہاں جاتے!

اس پر معاویہ ہنس پڑا۔ عمرو بن عاص نے پوچھا: تم کیوں ہنس رہے ہو؟

معاویہ نے کہا:میرے ہنسنے کی وجہ یہ تھی کہ تم نے یہ کیسے سمجھ لیا کہ جب تم علی (علیہ السلام) کے مقابلے میں اپنی شرمگاہ ظاہر کرو گے تو موت سے بچ جاؤ گے۔ صفین کے دن جب تم علی بن ابی طالب (علیہما السلام) کے ہاتھوں گھِر گئے تھے اور قریب تھا کہ قتل ہو جاؤ، تم نے ایسا ہی کیا تھا، اور علی (علیہ السلام) نے تمہیں چھوڑ دیا۔ خدا کی قسم! اس دن تمہاری موت قریب آ چکی تھی اور تم بچ نہیں سکتے تھے۔ اگر علی (علیہ السلام) چاہتے تو تمہیں قتل کر دیتے، لیکن انہوں نے تمہارے اس فعل کے باوجود بزرگی دکھائی اور تمہیں قتل نہیں کیا ۔

عمرو بن عاص نے کہا: جس دن میں تمہارے دائیں جانب تھا اور علی بن ابی طالب (علیہما السلام) نے تمہیں جنگ کے لئے پکارا، اس وقت تمہاری آنکھیں دھندلا گئیں، تمہاری چالاکی اور فریب ہاتھ سے نکل گیا، اور تم سے ایسے افعال سرزد ہوئے کہ میں انہیں بیان کرنے سے شرماتا ہوں۔ اب تم اپنی ان باتوں پر ہنسو یا میرے اعمال سے باز آ جاؤ۔[1]

 


[1] ۔ معاويه و تاريخ : ۷۲.

بازدید : 10