امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
معاویہ کا حضرت علی اکبر علیہ السلام کی برتری کا اعتراف

معاویہ کا حضرت علی اکبر علیہ السلام کی برتری کا اعتراف

حضرت علی اکبر علیہ السلام، حضرت حسین بن علی بن ابی طالب علیہما السلام اور لیلیٰ بنت ابی مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی کے فرزند تھے۔ آپ کی ولادت خلافتِ عثمان بن عفان کے اوائل کے زمانے میں ۱۱ شعبان سنہ ۳۳ ہجری قمری کو مدینہ ٔمنورہ میں ہوئی، اور آپ نے ۲۸ سال کی عمر میں کربلا میں شہادت پائی۔

آپ شکل و صورت، حسن و جمال اور دلکشی میں سب سے زیادہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  سے مشابہ تھے۔ اسی طرح آپ کا چہرہ و سیرت نہایت دلکش، طبیعت بلند، منظر نہایت حسین، اور آپ ادب و تربیت میں بے مثال تھے۔ ہمیشہ خضوع و خشوع، وقار اور بزرگی کے ساتھ زندگی گزارتے تھے۔

حضرت علی اکبر علیہ السلام خوش الحان بھی تھے، یہاں تک کہ جب کبھی امام حسین علیہ السلام اپنے جد بزرگوار کی آواز میں قرائت قرآن کے مشتاق ہوتے تو حضرت علی اکبر علیہ السلام سے فرماتے:اے میرے بیٹے علی! میرے لئے قرآن کی تلاوت کرو تاکہ میں اس سے لذت محسوس کروں۔

حضرت علی اکبر علیہ السلام روحانی و اخلاقی فضائل، علمی کمالات، جسمانی نشوونما، اجتماعی برتری اور باطنی مناقب کے اعتبار سے بنی ہاشم اور اپنے والد امام حسین بن علی علیہ السلام کے اصحاب میں ایک بے مثال شخصیت تھے۔ ان کی یہ مضبوط روح، بلند صفات اور اعلیٰ کردار ایسا رعب و وقار پیدا کرتا تھا کہ صرف دوست ہی نہیں بلکہ اہلبیت کے دشمن بھی ان کی برتری کا اعتراف کرتے اور اسے تسلیم کرتے تھے۔

ایک دن معاویہ نے اپنے درباریوں سے پوچھا: اس زمانے میں مسلمانوں کی خلافت کے لئے سب سے زیادہ کون موزوں ہے اور لوگوں پر حکومت کرنے کا زیادہ حق دار کون ہے؟

درباری خوشامد کرتے ہوئے اس کی تعریف کرنے لگے اور انہوں نے اسے اس منصب کا اہل قرار دیا، لیکن معاویہ نے کہا: نہیں، ایسا نہیں ہے۔ پھر اس نے کہا :

 اولی النّاس بهذا الامر علی بن الحسین بن علی، جدّه رسول الله و فیه شجاعة بنی هاشم و سخاه بنی امیّه وهو ثقیف.

حسین بن علی علیہ السلام کے فرزند علی اکبر حکومت کرنے کے لئے سب سے زیادہ لائق فرد ہیں، جن کے نانا رسول خدا ہیں۔ انہوں نے بنی ہاشم کی شجاعت، بنی امیہ کی سخاوت اور قبیلہ ثقیف کی خوبصورتی اپنے اندر جمع کر رکھی ہے۔

حضرت علی اکبر علیہ السلام کی شجاعت، دلیری، دینی و سیاسی بصیرت اور جنگی مہارت کربلا کے سفر میں خصوصاً روزِ عاشورا واضح طور پر ظاہر ہوئی۔ بنی ہاشم میں سب سے پہلے جو شخص میدانِ کربلا میں لڑنے کے لئے نکلے وہ حضرت علی اکبر علیہ السلام ہی تھے۔

اسی طرح جب امام حسین بن علی علیہ السلام منزلِ “قصر بنی مقاتل” سے گزرے تو آپ کو نیند آئی۔ بیدار ہونے کے بعد آپ نے( انا لله و انا الیه راجعون) پڑھا اور خدا  کی حمد ادا کی۔ جب حضرت علی اکبر علیہ السلام  نے آپ سے اس حمد اور کلمۂ  استرجاع کی وجہ پوچھی تو حضرت امام حسین علیہ السلام نے فرمایا کہ میں نے خواب میں ایک سوار کو دیکھا جو کہہ رہا تھا: یہ قافلہ موت کی طرف جا رہا ہے۔

حضرت علی اکبر علیہ السلام نے عرض کیا: کیا ہم حق پر نہیں ہیں؟

امام نے فرمایا: کیوں نہیں، ہم حق پر ہیں۔

حضرت علی اکبر علیہ السلام نے عرض کیا:

فاننا اذن لا نبالی ان نموت محقین .

پھر ہمیں حق پر رہتے ہوئے موت سے کوئی پرواہ نہیں ہونی چاہئے۔

آخر میں یہ نکتہ ذکر کرنا مناسب ہے کہ آیا حضرت علی اکبر علیہ السلام کے اہل و عیال اور اولاد موجود تھی یا نہیں؟آپ کی بعض زیارات پر غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ آپ کے اہل و عیال اور عترت تھی ۔

زیارتِ حضرت علی اکبر علیہ السلام میں وارد ہوا ہے:

صلّی الله علیک وعلی عترتک واهل بیتک وآبائک وابنائک.

خدا کی رحمت ہو آپ پر، آپ کی عترت، آپ کی اہلبیت، اور آپ کے آباء اور اولاد پر۔

اسی طرح امام صادق علیہ السلام کی ابو حمزہ ثمالی کو سفارشات میں وارد ہوا ہے کہ جب تم ان کی قبر پر جاؤ تو اپنا رخسار  ان کی قبر پر رکھو اور یوں کہو:

صلّی الله علیک یا ابا الحسن!

خدا کی رحمت ہو آپ پر اے ابا الحسن!

اس تعبیر سے بعض نے یہ استنباط کیا ہے کہ آپ کے ایک فرزند کا نام  “حسن” تھا۔

مزید یہ کہ بعض روایات، جیسے احمد بن نصر بزنطی کی روایت میں آیا ہے کہ حضرت علی اکبر علیہ السلام کے پاس ام ولد (کنیز) بھی تھی اور اس سے آپ کی اولاد بھی ہوئی تھی۔

تاہم بعض علمائے انساب نے صراحت کے ساتھ یہ بھی کہا ہے کہ حضرت علی اکبر علیہ السلام کی کوئی نسل باقی نہیں رہی، اور امام حسین علیہ السلام کی نسل صرف امام زین العابدین علیہ السلام کے ذریعے جاری ہوئی ہے۔[1]

 


[1] ۔ إحقاق الحق، تستری: ۲۸/۹ ، أنساب الأشراف، أحمد بن یحیی بن جابر ( البلاذری ):۵/۱۳۶،مقاتل الطالبیین: ۸۰ اور ۱۱۴، نسب قریش: ۵۷، البدایة والنهایة: ۸/۱۸۵، الأعلام، خیر الدین الزرکلی: ۴/ ۲۷۷.

بازدید : 1