امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
امیرالمؤمنین علیہ السلام کی حضرت علی اکبر علیہ السلام سے شدید محبت

امیرالمؤمنین علیہ السلام کی حضرت علی اکبر علیہ السلام سے شدید محبت

امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام حضرت علی اکبر علیہ السلام سے بہت محبت کرتے تھے، یہاں تک کہ آپ نے ان کی مدح فرمائی اور ان کی تعریف میں اشعار بھی کہے۔ ان میں سے ابن ادریس حلی نے اپنی کتاب “السرائر” میں ذکر کیا ہے کہ حضرت امیر المؤمنین علیہ السلام نے ان کے بارے میں فرمایا:

لَمْ تَرَ عَینٌ نَظَرَتْ مِثلَهُ         مِن مُحتِفٍ یمشی وَلا ناعِلٍ

کسی دیکھنے والی آنکھ نے ان جیسا کوئی  نہیں دیکھا، خواہ وہ پا برہنہ ہوں یا جوتے پہننے والا (یہ ایک کنایہ ہے جس کا مطلب ہے کہ  ادنیٰ و اعلیٰ، یعنی پست و بلند مرتبہ افراد سے کوئی بھی ان کی مانند نہیں ہے)۔

لکھا گیا ہے کہ خاندانِ نبوت میں سے چند ہستیاں ایسی تھیں جنہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   سے شباہت حاصل تھی:

۱: حضرت جعفر طیار، جو حسنِ گفتار، فصاحت، بلاغت اور شیریں زبانی میں رسولِ خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   سے مکمل مشابہت رکھتے تھے۔

۲: حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہا، جو چلنے پھرنے اور طرزِ عمل میں خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  سے مشابہت رکھتی تھیں۔

۳: امام حسن علیہ السلام، جوسر سے کمر تک رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  سے  شباہت رکھتے تھے ۔

۴:سیدالشہداء امام حسین علیہ السلام، جو کمر سے پاؤں تک جناب رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   کے مشابہ تھے۔

۵: حضرت علی اکبر علیہ السلام، جو سر سے پاؤں تک رسول خدا  صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے بالکل مشابہ تھے۔ اس بات کی گواہی امام حسین علیہ السلام کا روزِ عاشورا کا کلام ہے۔ جب حضرت علی اکبر علیہ السلام نے میدانِ جنگ میں جانے کی اجازت کے لئے بہت اصرار کیا، تو امام حسین علیہ السلام نے انہیں اجازتِ میدان دی، مگر اپنے بیٹے کی طرف حسرت بھری نگاہوں دے دیکھا اور آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے۔ پھر آپ نے اپنی شہادت کی انگلی آسمان کی طرف اٹھا کر فرمایا:

اَللّهُمَّ اشْهَدْ عَلى هؤلاءِ القَومِ فَقَد بَرَزَ إلَیهِم غُلامٌ أشبَهُ النّاسِ خَلْقاً وخُلْقاً ومَنطِقاً بِرَسولِک.كُنّا إذَا اشْتَقْنا إلى نَبیک نَظَرْنا إلَیه.

خداوندا! اس قوم پر گواہ رہنا! ان کی طرف وہ جوان جا رہا ہے جو گفتار، صورت اور سیرت کے لحاظ سے مخلوق میں تیرے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی سب سے زیادہ شبیہ ہے۔جب بھی ہم تیرے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  سے ملاقات کے مشتاق ہوتے تھے تو ہم اس کے چہرے کی طرف دیکھ لیتے تھے۔

خدایا! ان لوگوں سے زمین کی برکتیں روک لے اور انہیں پراگندہ کر دے، اور ان کے حکمرانوں کو ان سے راضی نہ کر۔ کیونکہ انہوں نے ہمیں طلب کیا تھا کہ ہم ان کی مدد کریں، لیکن انہوں نے ہمارے خلاف دشمنی اختیار کی اور ہم پر  دشمنی کی تلوار اٹھا لی ۔

پھر آپ  نے بلند آواز سے چیختے ہوئے ابن سعد سے کہا :

ما لَک قَطَعَ اللهُ رَحِمَک ولا بارَک اللهُ لَک فی أمرِک وسَلَّطَ عَلَیک مَن یذْبَحُک بَعدی عَلى فِراشِک كَما قَطعْتَ رَحِمی وَلَمْ تَحْفَظْ قَرابَتی مِن رَسُولِ الله صلّی الله علیه وآله.

تو ہم سے کیا چاہتا ہے؟ خدا تیری نسل کو منقطع کرے اور تیرے کسی کام میں برکت نہ دے، اور تجھ پر ایسے شخص کو مسلط کرے جو تجھے تیرے بستر پر ہی ذبح کر دے، جیسا کہ تو نے میری نسل کو کاٹ دیا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم   کے ساتھ ہماری قرابت کا لحاظ نہ رکھا۔[1]،[2]

 


[1] ۔ بحار الأنوار: ۴۵/ ۴۲ بقيه باب ۳۷؛ کچھ تھوڑے فرق کے ساتھ، لهوف :۱۱۳؛ مثير الاحزان:۶۸.

[2] ۔ حدیث کعبہ و کربلا : ۹۷.

بازدید : 1