امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
عظمت ولایت حضرت امیرالمؤمنین علیه السلام

عظمت ولایت حضرت امیرالمؤمنین علیه السلام

جناب ابوذر غفاری ؛ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے ایک حدیث  نقل کرتے ہیں : [1]

فرات قال: حدّثنی جعفر بن محمّد بن سعید الأحمسی معنعناً عن أبی ذرّ الغفاری قال : کنت عند رسول الله صلّی الله علیه وآله ذات یوم فی منزل اُمّ سلمة و رسول الله صلّی الله علیه وآله یحدّثنی وأنا له مستمع إذ دخل علی بن ابی طالب علیه السلام فلمّا أن بصر به النّبی صلّی الله علیه وآله أشرق وجهه نوراً وفرحاً وسروراً بأخیه وابن عمّه ثمّ ضمّه إلی صدره وقبّل بین عینیه ثمّ التفت إلی فقال : یا أباذرّ؛ تعرف هذا الدّاخل إلینا حقّ معرفته ؟

قال أبوذرّ: یا رسول الله صلّی الله علیه وآله: هو أخوک وابن عمّک وزوج فاطمة وابوالحسن والحسین سیدی شباب أهل الجنّة .

فقال رسول الله صلّی الله علیه وآله: یا أباذرّ؛ هذا الإمام الأزهر، ورمح الله الأطول ، وباب الله الأکبر، فمن أراد الله فلیدخل من الباب .

یا أباذرّ؛ هذا القائم بقسط الله، والذّابّ عن حریم الله، والنّاصر لدین الله، وحجّة الله علی خلقه فی الاُمم کلّها کلّ اُمّة فیها نبی.

یا أباذرّ؛ إنّ لله عزّوجلّ علی کلّ رکن من أرکان عرشه سبعین ألف ملک لیس لهم تسبیح ولا عبادة إلّا الدّعاء لعلی علیه السلام والدّعاء علی أعدائه.

فرات کوفی، ابوذر غفاری کے واسطہ کے ساتھ روایت کرتے ہیں کہ ابوذر نے کہا:

ایک دن میں امّ سلمہ کے گھر میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی خدمت میں حاضر تھا۔ آپ مجھ سے گفتگو فرما رہے تھے اور میں سن رہا تھا کہ اچانک علی بن ابی طالب علیهما السلام اندر داخل ہوئے۔

جب رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے انہیں دیکھا تو اپنے بھائی اور چچا زاد کو دیکھ کر آپ کا چہرہ منوّر اور شادمان ہو گیا۔ پھر آپ نے انہیں سینے سے لگا لیا اور ان کی دونوں آنکھوں کے درمیان (پیشانی پر) بوسہ دیا۔

پھر میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا:اے ابوذر! کیا تم اس شخص کو اچھی طرح جانتے ہو جو ابھی ہمارے پاس آیا ہے؟

میں نے عرض کیا: یارسول اللہ! یہ آپ کے بھائی، آپ کے چچا زاد، فاطمہ کے شوہر، اور حسن و حسین کے والد ہیں، جو جنت کے نوجوانوں کے سردار ہیں۔

رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے فرمایا:اے ابوذر! یہ (علی) واضح امام ہیں، خدا کا سب سے بلند ذخیرہ ہیں، اور باب اللہ اکبر ہیں؛ اور جو شخص خدا  کو چاہتا ہے اسے چاہئے کہ اس دروازے سے داخل ہو۔

اے ابوذر! یہ (علی) عدل الٰہی کو قائم کرنے والے ، حریم  خدا  کے محافظ ، اس کے دین کے مددگار اور تمام امتوں میں مخلوقِ خدا پر حجت ہیں، اگرچہ ہر ایک امت میں کوئی نبی ہی کیوں نہ موجود ہو۔اے ابوذر! خدا نے عرش کے ہر رکن میں ستر ہزار فرشتے پیدا کئے ہیں، جو علی علیه السلام کے لئے دعا کرنے اور ان کے دشمنوں پر لعنت بھیجتے کے سوا کوئی عبادت نہیں کرتے ۔

یا اباذرّ؛ لولا علی ما أبان الحقّ من الباطل ، ولا مؤمن من کافر، وما عبد الله، لأنّه ضرب علی رئوس المشرکین حتّی أسلموا وعبد الله، ولولا ذلک ما کان ثواب ولا عقاب لایستره من الله ستر ولایحجبه عن الله حجاب بل هو الحجاب و السّتر  ثمّ قرء رسول الله صلّی الله علیه وآله و سلم: «شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ ۖ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ». [2]،[3]

یا أباذرّ؛ إنّ الله تبارک وتعالی تعزّز بملکه ووحدانیته فی فردانیته فعرّف عبادة المخلصین نفسه فأباح لهم جنّته ، فمن أراد أن یهدیه عرّفه ولایته ، ومن أراد أن یطمس علی قلبه أمسک علیه معرفته .

یا أباذرّ؛ هذا رایة الهدی ، وکلمة التّقوی ، والعروة الوثقی ، وإمام أولیائی ، ونور من أطاعنی ، وهو الکلمة الّتی ألزمتها المتّقین ، فمن أحبّه کان مؤمناً ومن أبغضه کان کافراً ومن ترک ولایته یوم القیامة کان ضالاًّ مُضلاًّ ومن جحد حقّه کان مشرکاً.

یا أباذرّ؛ یؤْتی بجاحد حقّ علی علیه السلام وولایته یوم القیامة أصمّ وأبکم وأعمی یتکبکب فی ظلمات یوم القیامة ینادی مناد (یا حَسْرَتی عَلی ما فَرَّطْتُ فی جَنْبِ اللهِ)  [4]  وألقی فی عنقه طوق من نار.

اے ابوذر! اگر علی علیه السلام نہ ہوتے تو حق اور باطل میں فرق نہ کیا جا سکتا، اور نہ ہی مؤمن اور کافر کی پہچان ہوتی، اور نہ ہی خدا کی عبادت کی جاتی؛ کیونکہ یہی وہ ہیں جنہوں نے مشرکین سے جنگ کی یہاں تک کہ وہ اسلام لے آئے اور خدا کی عبادت کی جانے لگی،اور اگر ایسا نہ ہوتا تو نہ ثواب ہوتا اور نہ عذاب۔جان لو! ان کے اور خدا کے درمیان کوئی پردہ حائل نہیں ہوتا، اور نہ ہی کوئی حجاب ان کے اور خدا کے درمیان آتا ہے، بلکہ وہ خود (اسرارِ الٰہی کے) حجاب اور ستر ہیں۔پھر رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  نے یہ آیت تلاوت فرمائی:’’ اس نے تمہارے لئے دین میں وہ راستہ مقرر کیا ہے جس کی نصیحت نوح کو کی ہے اور جس کی وحی پیغمبر تمہاری طرف بھی کی ہے اور جس کی نصیحت ابراہیم, موسٰی اور عیسٰی کو بھی کی ہے کہ دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ پیدا ہونے پائے مشرکین کو وہ بات سخت گراں گزرتی ہے جس کی تم انہیں دعوت دے رہے ہو اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کے لئے چن لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے ہدایت دے دیتا ہے ‘‘۔

اے ابوذر! خدا بادشاہی، وحدانیت اور یکتائی میں انتہائی عزت اور بزرگی کا مالک تھا۔ پھر اس نے اپنے آپ کو اپنے مخلص بندوں پر پہچنوایا اور ان کے لئے اپنی جنت مباح کر دی۔اور خدا جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے تو اسے  علی علیه السلام کی ولایت کی معرفت عطا کرتا ہے، اور جسے چاہتا ہے (ہدایت نہ دے) اس کے دل سے علی علیه السلام کی معرفت اور ولایت کو مٹا دیتا ہے۔

اے ابوذر! یہ علی علیه السلام پرچم ہدایت ، تقویٰ کا کلمہ، مضبوط رسّی ، میرے دوستوں کے امام اور میرے پیروکاروں کا نور ہیں۔ اور یہ وہ کلمہ ہیں جس کو قبول کرنا میں نے متقین پر لازم قرار دیا ہے۔پس جو ان سے محبت کرے وہ مؤمن ہے، اور جو ان سے دشمنی کرے وہ کافر ہے۔ جو ان کی ولایت کو ترک کرے وہ گمراہ اور دوسروں کو گمراہ کرنے والا ہے، اور جو ان کے حق کا انکار کرے وہ مشرک ہے۔

اے ابوذر! قیامت کے دن علی علیه السلام کے حق اور ان کی ولایت کا انکار کرنے والا بہرا، اندھا اور گونگا اٹھایا جائے گا، اور روزِ قیامت کی تاریکیوں میں رکھا جائے گا۔اور ایک منادی اس کی حالت بیان کرتے ہوئے ندا دے گا:’’وا حسرتاہ!میں نے جنبُ الله (علی علیه السلام) کے بارے میں کوتاهی کی‘‘ [5]اور اس کی گردن میں آگ کا طوق آویزاں ہو گا ۔

 


[1] ۔ كبريت احمر في شرايط المنبر: ۵۵۷.

[2] ۔سورۂ شوریٰ ، آیت : ۱۳.

[3] ۔دفتر : ۱۰۱.

[4] ۔ كشكول امامت: ۳/ ۱۴.

[5] ۔ تاريخ نگارستان : ۷۷.

    بازدید : 11