امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
عمر کے بقول ابو بکر کا سقیفہ میں ظلم و ستم کے ساتھ خلافت تک پہنچنا

عمر کے بقول ابو بکر کا سقیفہ میں ظلم و ستم کے ساتھ خلافت تک پہنچنا

...عمر نے پھر کہا: افسوس، اس نحیف و کمزور شخص پر !جو قبیلۂ تیم بن مرّہ میں سے ہے (یعنی ابو بکر)، اس نے ظلم کے ساتھ مجھ پر سبقت لے لی، اور گناہ کا ارتکاب کرتے ہوئے اس منصب سے نکل کر اسے میری طرف منتقل کر دیا!

مغیرہ نے کہا: اے امیرالمؤمنین!ہم یہ بات تو سمجھ گئے ہیں کہ  اس نے ظلم کے ذریعہ  آپ پر سبقت لے لی ، لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے  کہ اس نے گناہ کے ذریعہ اسے آپ کی طرف منتقل کیا اور خود اس سے الگ ہو گیا ؟

اس نے کہا: کیونکہ وہ اس منصب سے اس وقت تک باہر نہ نکلا جب تک اس سے مأیوس نہ ہو گیا۔ اور خدا کی قسم! اگر میں یزید بن خطاب اور اس کے ساتھیوں کی بات مان لیتا تو ابوبکر ہرگز خلافت کی مٹھاس کا مزہ بھی نہیں چکھ سکتا تھا ۔

اگرچہ میں نے غور و فکر کیا اور کبھی ایک قدم آگے بڑھایا اور کبھی ایک قدم پیچھے ہٹایا، کبھی نرم پڑا اور کبھی مضبوط ہوا، لیکن آخرکار اس کے سوا کوئی چارہ نہ دیکھا کہ جس چیز پر اس نے ہاتھ جما لیا تھا اسے چھوڑ دوں۔

میں اپنے آپ پر غمگین ہوا اور میری یہ آرزو تھی کہ وہ خود ہی متوجہ ہو اور اس سے دستبردار ہو جائے، لیکن خدا کی قسم! اس نے ایسا نہ کیا، یہاں تک کہ تنگ نظری کے ساتھ اس سے کنارہ کش ہو گیا۔

مغیرہ نے کہا: اے امیرالمؤمنین! کس چیز نے آپ کو خلافت قبول کرنے سے روکا، حالانکہ سقیفہ کے دن ابو بکر نے خلافت آپ کے لئے پیش کی تھی اور آپ کو اسے قبول کرنے کی دعوت دی تھی؟ اور اب آپ اس معاملے پر ناراض ہیں اور افسوس کر رہے ہیں؟

عمر نے کہا: اے مغیرہ! تیری ماں تیرے غم میں روئے! میں تو تجھے عربوں کے زیرک اور چالاک لوگوں میں شمار کرتا تھا، گویا کہ تو وہاں پیش آنے والے واقعات میں موجود ہی نہ تھا۔ اس شخص نے مجھے دھوکا دیا اور میں نے بھی اسے دھوکا دیا، اور اس نے مجھے سنگخوارہ [1] پرندے سے بھی زیادہ ہوشیار پایا۔

جب اس نے دیکھا کہ لوگ اس کے شیدائی  ہو چکے ہیں اور سب اسی کی طرف متوجہ ہیں تو اسے یقین ہو گیا کہ لوگ اس کے سوا کسی اور کو قبول نہیں کریں گے۔ اور جب اس نے لوگوں کی حرص اور اپنی طرف ان کی توجہ دیکھی اور جب وہ اپنی طرف ان کے میلان اور رغبت  سے مطمئن ہو گیا تو وہ یہ جاننا چاہتا تھا کہ میں کس حال میں ہوں، آیا میرا نفس مجھے خلافت کی طرف کھینچتا ہے اور اس کے لئے میرے اندر کشمکش ہے یا نہیں؟

وہ یہ بھی چاہتا تھا کہ اس معاملے میں مجھے لالچ اور طمع دلا کر میرا امتحان لے اور مجھے خلافت کی  پیشکش کرے، حالانکہ وہ اچھی طرح جانتا تھا اور میں بھی جانتا تھا کہ اگر میں اس کی پیشکش قبول کر لیتا تو لوگ اسے قبول نہ کرتے۔

چنانچہ اس نے مجھے اس منصب کی خواہش کے باوجود نہایت زیرک اور محتاط پایا۔ اور اگر فرض کیا جائے کہ میں قبول کرنے پر آمادہ بھی ہو جاتا تو لوگ اسے میرے حوالے نہ کرتے، اور ابو بکر اس بات کا کینہ اپنے دل میں رکھ لیتا، اور میں اس کے فتنہ سے-خواہ بعد ہی میں کیوں نہ ہوتا-محفوظ نہ رہتا۔

مزید یہ کہ لوگوں کی مجھ سے ناگواری  اور کراہت مجھ پر ظاہر ہو چکی تھی۔ جب ابو بکر نے مجھے  منصب خلافت کی پیشکش کی تھی  تو  کیا تم نے اس وقت ہر طرف سے لوگوں کی آوازیں نہیں سنیں جو کہہ رہے تھے: اے ابو بکر! ہم تمہارے سوا کسی کو نہیں چاہتے،تم ہی اس کے اہل ہو!

اسی وقت میں نے خلافت اسے سونپ دی اور اس کی طرف واپس کر دی، اور میں نے دیکھا کہ اس سے اس کا چہرہ خوشی سے دمک اٹھا اور روشن ہو گیا۔

ایک بار اس نے مجھ پر اس بات کے لئے بھی عتاب کیا جو میرے بارے میں اس تک پہنچائی گئی تھی، اور یہ اس وقت تھا جب اشعث بن قیس کو گرفتار کر کے اس کے سامنے لایا گیا تھا۔ اس نے اشعث پر احسان کیا، اسے آزاد کر دیا اور اس سے اپنی بہن اُم فُرہ کی شادی کر دی۔

میں نے اشعث سے-جو ابو بکر کے سامنے بیٹھا تھا-کہا: اے دشمن خدا! کیا تم نے اسلام لانے  کے بعد کفر اختیار کر لیا اورالٹے پاؤں  پلٹ گئے ہو؟

اشعث نے میری طرف دیکھا  اور میں سمجھ گیا کہ وہ مجھ سے کچھ کہنا چاہتا ہے۔ اشعث نے بعد میں مجھے مدینہ کی گلیوں میں دیکھا اور کہا: اے ابن خطاب! کیا تم نے خود یہ باتیں کہیں؟

میں نے کہا: ہاں، اے دشمن خدا! اور میرے نزدیک تمہارا اجر اس سے بھی بہت برا ہے۔

اس نے کہا: تمہارے نزدیک میرے لئے کیا برا  اجر  موجود ہے؟

میں نے کہا:تم  کس وجہ سے  مجھ سے پسندیدہ اجر  چاہتے ہو؟

اس نے کہا: کیونکہ میں تمہاری وجہ سے رنجیدہ ہوا،کیونکہ تم ابوبکر کی پیروی کرنے پر مجبور ہو گئے تھے اور  میں نے وہ کام انجام دیا۔ اور خدا کی قسم! جس چیز نے مجھے ابوبکر کی مخالفت پر آمادہ کیا وہ صرف یہ تھی کہ وہ تم پر سبقت لے گیا اور تم اس سے پیچھے رہ گئے؛ حالانکہ اگر تم خلیفہ ہوتے تو مجھ سے اپنے خلاف کبھی کوئی نافرمانی یا مخالفت نہ دیکھتے۔

میں نے کہا: معاملہ ایسا ہی تھا، اب کیا حکم دیتے ہو؟

اس نے کہا: اب حکم دینے کا وقت نہیں، یہ صبر و برداشت کا وقت ہے۔ پھر ہم ایک دوسرے سے جدا ہو گئے... ۔[2]

 


[1] ۔ اسفرود يا مرغ سنگخواره ؛  فارسی کی قدیم کتب میں یہ ایک پرندہ کا نام ہے اور اب یہ چالاکی اور ہوشیاری کے لئے ضرب المثل ہے ،اب کسی چالاک شخص کے بارے میں کہا جاتا ہے: «فلان اهدى من القطاة».

[2] ۔ جلوه تاريخ در شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد:۱/ ۲۰۶.

بازدید : 12