امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
سقیفہ میں مشاورت کا نہ ہونا، یا بے فائدہ مشاورت

سقیفہ میں  مشاورت کا نہ ہونا، یا بے فائدہ مشاورت

بعض اہلسنت علماء نے کہا ہے کہ سقیفہ کی تشکیل کا مقصد یہ  تھا کہ مشورہ کیا جائے اور کسی شخص کو رسول  خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کے خلیفہ کے طور پر منتخب کیا جائے۔

واضح سی بات ہے کہ اگر سقیفہ کے قیام کا مقصد یہ تھا اور ان کا ارادہ یہ تھا کہ کسی ایسے شخص کو خلیفہ بنایا جائے جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا جانشین بن سکے اور آپ کے مقاصد کو پورا کرے، تو اس بارے میں یہ کہنا چاہئے کہ قرآنِ کریم کی طرف رجوع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اس معاملے میں مشورے کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔کیونکہ قرآنِ کریم نے کسی  سے مشورہ کے بغیر  اس شخصیت کو معین کر دیا ہے جو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی طرح عمل کر سکے اور ان کا جانشین ہو۔

چنانچہ آیتِ شریفہ «وأنفسنا وأنفسکم» کی روشنی میں امیرالمؤمنین امام علی علیه السلام کے علاوہ کوئی بھی  رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی جانشینی کے لئےاہل نہیں تھا۔

کیونکہ شیعہ اور سنی علماء نے کہا ہے کہ «أنفسنا» سے مراد امیرالمؤمنین حضرت امام  علی علیه السلام ہیں، جو نفسِ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  ہیں، اور صحابہ میں سے کسی کو بھی یہ خصوصیت حاصل نہیں تھی کہ وہ  نفس پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  قرار پائے۔

لہٰذا چونکہ حضرت علی بن ابی طالب علیهما السلام کے علاوہ کوئی بھی نفس رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نہیں تھا، اس لئے کوئی بھی شخص خلافت کے صحیح اور کامل معنی  میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کا جانشین نہیں بن سکتا تھا۔اور صرف امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیه السلام  کی ذات ہی رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اہداف و مقاصد کو عملی جامہ پہنا سکتی تھی ۔

اور دوسرے لوگ چونکہ نفس رسول صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مرتبے پر فائز نہیں تھے، اس لئے نہ تو وہ آپ کے تمام مقاصد سے مکمل طور پر آگاہ تھے اور نہ ہی ان کو عملی طور پر نافذ کرنے کی قدرت رکھتے تھے ۔ لہٰذا اس آیتِ شریفہ کی روشنی میں خلیفہ کے تعین کے لئے مشورے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی، اور سقیفہ میں شوریٰ  کی بنیاد ہی باطل قرار پاتی ہے۔

 

بازدید : 17