(13)
امام باقر عليه السلام کا علم
حبابه والبيّه کہتی ہیں:میں مکہ میں مسجدالحرام میں تھا اور عصر کا وقت تھا،یہ وہ وقت تھا کہ سر پر تاج کی مانند سورج کا سنہری نور پہاڑوں پر پھیلاہوا تھا ۔میں نے ایک شخص کو کعبہ اور حجر اسود کے ددرمیان دیکھا جو اپنی کمر کو ریشمی عمامے سے باندھے ہوئےخاک پر کھڑا ہوا تھا اس نے اپنے ہاتھ آسمان کی طرف اٹھائے اور دعا کی۔
جب لوگ آپ کی طرف متوجہ ہءے تو وہ آپ سے اپنے مشکل مسائلاور پیچیدہ سوالات پوچھتے رہے اور آپ مسلسل جواب ارشا فرماتے رہے یہاں تک کہ آپ نے ایک ہزار مسألوں کا جواب دیا ،پھرآپ اٹھ کھڑے ہوءے اور اپنی منزل کی طرف روانہ ہو گے۔اسی دوران کسی فریادی نے بلند آواز سے فریاد کی:
ألا ! إنّ هذا النور الأبلج المسرح والنسيم الأرج ، والحقّ المرج .
آگاه ہو جا ؤ! بے شک یہ (آقا) ایسا تاباں و درخشاں نور، ایسی خوشبو دار نسیم اور ایسی برحق شخصیت ہیں کہ لوگوں نے انہیں ترک کر دیا ہے.
ب لوگوں نے کہا: یہ کون شخص ہیں؟
حاضرین میں سے ایک نے کہا: یہ محمّد بن على باقر ہیں؛یعنی محمّد بن علىّ بن حسين بن علىّ بن ابى طالب عليهم السلام ہیں .
ایک دوسری حدیث میں آیا ہے: ابوبصير کہتے ہیں: کسی فریادی نے بلند آواز سے فریاد کی:
ألا ! إنّ هذا باقر علم الرسل ، وهذا مبيّن السبل ، هذا خير من رسخ في أصلاب أصحاب السفينة ، هذا ابن فاطمة الغرّاء العذراء الزهراء ، هذا بقيّة اللَّه في أرضه ، هذا ناموس الدهر ، هذا ابن محمّد وخديجة وعليّ وفاطمة عليهم السلام هذا منار الدين القائمة .
آگاه ہو جا ؤ! بے شک یہ شخص پیغمبروں کے لوم کو کھولنے والا،راستوں کو روشن کرنے والا،اور اصحاب سفینہ (نوح علیہ السلام)کے اصلاب میں سے بہترین فرد ہے۔
یہ فاطمه غرّا، عذرا و زهراء کے فرزند ہیں، یہ خدا کی زمین پربقيّة اللَّه ہیں،یہ اسرار الیَی کا خزانہ یں،یہ ناموس زمانہ ہیں،یہ محمّد مصطفى، خديجه كبرى، على مرتضى و فاطمه زهرا عليهم السلام کے فرزند ہیں،یہ شخص دین خدا کا پائیدار ستون ہے.(1)
1) المناقب : 183 - 182/4 ، بحار الأنوار : 259/46 ح 60 .
مترجم کہتے ہیں : مولف رحمه الله نے اس حدیث کے ذیل میں بعض الفاظ کی توضِح بیان کی ہے جس سے ہم نے اس حدیث کے ترجمہ میں استفادہ کیا ہے۔'
منبع: فضائل اهل بیت علیهم السلام کے دریا سے ایک قطرہ.جلد دوم صفحه 568








