(15)
هشام او رامام باقر عليه السلام
امام باقر عليه السلام کی حیات کے زمانے میں عبد الملک کے چار بیٹوں اور اس کا داماعمر بن عبد العزیز(جو اپنی خلافت کے زمانے میں خليفاء راشدین میں سے پانچواں خلیفہ شمار ہوتاہھا)اقتدار ملا۔عمر ہمیشہ امام باقر عليه السلام سے چاہتا تھاکہ آپ اسے نصیحت کریں اور امام باقر عليه السلام اسے تمام مسلمانوں کے بارے میں نصیحت کرتے تھے اور اپنی باتوں اس سے فرماتے:
میں تمہیں تاکید کرتا ہوں کہ مسلمانوں کے ب سے چھوٹے فرد کو اپنا بیٹا،رمیانی عمر کے افراد کو اپنا بھا ئی اور ان میں سے بڑوں کو اپنے باپ کی طرح سمجھو۔اپنے بیٹوں پر رحم کرو،اپنے بھاءیوں سے مرتبط و وابسطہ رہو اور باپ سے مہربان رہو۔اگر تم نے ایسا نیک کام انجام دیا تو اسے پھیلاؤ اوراس کے پابندرہو۔
اس کی کوشش تھی کہ تشيّع اهل بيت پھیلے، سعد اسكافى کہتے ہیں :میں نے ابوجعفر امام باقر عليه السلام سے عرض کیا : میں بیٹھ کر آپ کے حقوق اور فضايل کے بارے میں بات کرتا ہوں۔
آنحضرت نے فرمایا :
میں پسند کرتا ہوں کہ ہر تیس میٹر کے فاصلہ میں تمہاری طرح کا سخن گو موجود ہو۔
هشام بن عبدالملك اپنی حکومت کے دوران (125 - 105 ه ق) حجّ بجا لایا ،اس نے امام باقر عليه السلام کو مسجد میں دیکھا کہ آپ با وقار اورپرشكوه انداز میں لوگوں کو اسلام کے احکام،واجبات اور آداب تعلیم فرما رہے ہیں اور لوگ آپ کے درس میں سر جھکا ئےبیٹھے ہو ئے ہیں:
ہشام کو اہلبیت کو عاجز اور رسوا کرنے کا خیال آیا اور اس نے کسی کو آپ کے پاس بھیجا تا کہ وہ آپ سے پوچھے:قیامت کے دن لوگوں کی خوراک اور پانی کیاہو گا؟
امام باقر عليه السلام نے قرآنی آیات سے استفادہ کرتے ہوءے اسے جواب دیا اور اس شخص اور ار اس کے بھیجنے والے کو یہاں اور وہاں کی باتوں سے سکھایا۔
اس سال حاجيوں نے ان کی باتوں کو سنا اور انہوں نے لوگوں سے کہا :
اس خدا کی حمد و ثناکہ جس نے محمّد صلى الله عليه وآله وسلم کو پیغمبر بر حق کےعنوان سے بھیجا اور ہمیں ان کے ذریعہ عزت و شرف عطا کیا۔ہم اس کی مخلوق سے برگذیدہ بندے اور اس کء جانشین ہیں۔جو ہامری پیروی کرے گا وہی کامیاب ہے اور جو ہم سے دشمنی کرے گا وہی بدبخت اور شقی ہے۔
هشام اپنے دارالخلافہ کی طرف چلا گیا ... اور ایک شخص کو بھی کر امام باقر عليه السلام اور آپ کے فرزند امام صادق عليه السلام کو دمشق میں اپنی حکومت کے دارلخلافہ میں آنے کی دعوت دی۔
امام صادق عليه السلام نے فرمایا :
جب ہم دمشق میں داخل ہوءءے تو وہاں ہمیں تین دن رکھا گیا اور چوتھے دن داخل ہو ئے۔
گویا ہشام انہیں دکھانا چاہتا تھا كه اگر خداکے گھر اور رسول صلى الله عليه وآله وسلم کی مسجد میں اس کی کوءی اہمیت اور احترام نہیں ہےاور حج اکبر میں تمام اہمیت اہلبیت اطہار علیھم السلام کی طرف سے ہے تو دمشق میں اس کا بھی محل اور دربان ہیں اور یہ ایک تہدید ہے۔(1)
(1) پيشواى علم و معرفت : 189
منبع: معاويه ج ... ص ...








