امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام کی قبر کا مخفی ہونا، سقیفہ کے بطلان پر ایک نہایت محکم دلیل

حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام کی قبر کا مخفی ہونا، سقیفہ کے بطلان پر ایک نہایت محکم دلیل

حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام نے مختلف دلائل سے سقیفہ کے باطل ہونے کو ثابت کیا اور حضرت امیرالمؤمنین امام علی علیہ السلام کا دفاع فرمایا۔

سقیفہ کے بطلان پر ایک نہایت محکم دلیل، حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام  کی قبر کا مخفی ہونا ہے۔

اہلِ سنت کے کسی بھی عالم نے حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام کی قبر کے مخفی ہونے کی حقیقی وجہ بیان نہیں کی کہ آخر اس عظیم ہستی نے اپنی قبر کو مخفی رکھنے کی وصیت کیوں فرمائی؟ حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام ، رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اکلوتی بیٹی تھیں، انہوں نے ایسی وصیت کیوں کی؟

کیا حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام کی یہ وصیت سقیفہ کے حامیوں کی مخالفت کے سوا کسی اور وجہ پر مبنی ہو سکتی ہے؟ اور کیا یہ وصیت سقیفہ کے بطلان کو ثابت کرنے کے لئے ایک نہایت محکم اور مضبوط دلیل نہیں ہے ؟ خصوصاً اس بات کو مدنظر رکھتے ہوئے کہ حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں بارہا سقیفہ کے واقعہ کی مخالفت فرمائی تھی؟

سقیفہ کی مخالفت کا مطلب سقیفہ نشینوں اور راہ سقیفہ کی مخالفت ہے جو انہوں نے خلافت کو غصب کرنے کے لئے اختیار کی، ایسی راہ جس کے ذریعے انہوں نے لوگوں کو اصل راستے سے ہٹا کر باطل کی راہ پر ڈال دیا۔

حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام نے اپنی قبر کو مخفی رکھنے کی وصیت کرکے نہ صرف اُس زمانے کے لوگوں پر، بلکہ آنے والی نسلوں پر بھی یہ بات واضح کر دی کہ وہ سقیفہ کی حکومت کی مخالف ہیں اور اس بات پر راضی نہیں کہ وہ لوگ ان کی قبر پر حاضر ہوں۔

* * *

اگرچہ ہم مسجدِ نبوی میں حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام کے آتشیں خطبے کے عینی شاہد نہ تھے ، اگرچہ ہم اُس وقت موجود نہ تھے جب حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام اؑ نے انصار کو سقیفہ کی حکومت کے خلاف قیام کرنے کا حکم دیا تھا، اگرچہ ہم اُس وقت حاضر نہ تھے جب حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام نے انصار سے فرمایا کہ تم سقیفہ کی حکومت کو گرا سکتے ہو؛

لیکن اس کے باوجود آج ہم مسجدِ نبوی میں آپ کی قبر کے مخفی ہونے کے ذریعے یہ بات سمجھ سکتے ہیں کہ حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام نے اپنی قبر کو مخفی رکھنے کی وصیت کیوں فرمائی تھی۔

اگرچہ ہم حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام کے ارشادات کے براہِ راست گواہ نہیں تھے، لیکن آج ہم اُن کی قبر کے مخفی ہونے کے خود گواہ ہیں۔

درحقیقت حضرت صدیقۂ کبریٰ علیہا السلام نے اپنی حیاتِ مبارکہ میں اپنے اقوال کے ذریعے انصار اور دیگر لوگوں کو آگاہ کیا، اور اپنی وفات کے بعد اپنی قبر کے مخفی رکھنے کی وصیت کے ذریعے تمام مسلمانوں اور دنیا کے آزاد انسانوں کو حقیقت سے باخبر کر دیا۔

اس عظیم ہستی نے اپنے خطبے،اپنے اقوال و فرمودات اور کردار کے ذریعے،اور اُن دو افراد سے منہ موڑ کر ، اُن کے سلام کا جواب نہ دے کر اور اپنی وصیت کے ذریعے، اپنے زمانے کے لوگوں اور ہر دور کے انسانوں کے لئے سقیفہ کے بطلان اور سقیفہ نشینوں کی راہ کے باطل ہونے کو ثابت کر دیا۔

    بازدید : 43