امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
زیاد بن ابیه کی نظر میں امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیه السلام کی عظمت

زیاد بن ابیه  کی نظر میں امیرالمؤمنین حضرت امام  علی علیه السلام  کی عظمت

... اور اے زیاد! تم نے عمر سے کہا تھا: اے امیرالمؤمنین! تم علی (علیہ السلام) کو سب سے بہتر جانتے ہو؛ اس کی بہادری، اس کی دلیری، فنونِ حرب میں اس کی مہارت، مورچوں کو توڑنے اور دشمنوں کی صفوں کو چاک کرنے کی اس کی طاقت ، یہ سب تم نے بارہا جنگوں میں اپنی آنکھوں سے دیکھا ہے۔

کیا اُس زمانے میں، جب علی (علیہ السلام) ایران اور ایرانیوں سے ایک عظیم لشکر آراستہ کر لے تو  کوئی اس کے مقابلے میں ڈٹ سکتا ہے؟اس کے علاوہ، اے امیرالمؤمنین! علی(علیہ السلام) کی اپنے خلاف دشمنی اور کینہ کو بھی نظرانداز نہ کرو۔

اے زیاد! تمہاری باتوں نے عمر کو اس کی جگہ پر بٹھا دیا، لیکن حقیقت یہ تھی کہ اگر امیرالمؤمنین عمر اپنے فیصلے کو عملی جامہ پہنا دیتے اور عجم کی جڑ کو بنیاد سے اکھاڑ پھینکتے تو کچھ بھی نہ ہوتا۔ نہ تو  ایرانی علی (علیہ السلام) کی مدد کے لئے ہاتھ بڑھاتے اور نہ ہی علی (علیہ السلام) عمر کے خلاف تلوار اٹھاتے۔

تم نے خود بھی میرے سامنے اعتراف کیا تھا کہ اس روک ٹوک میں تمہارا مقصد ایرانیوں کے ساتھ تعصب کے سوا کچھ نہ تھا۔

اے زیاد! سنو، تم نے مجھ سے بیان کیا تھا کہ عثمان کی خلافت کے زمانے میں ایک دن علی (علیہ السلام) نے ایک سیاسی واقعہ پر یوں فرمایا:

إنّ أصحاب الرایات السود، الّتی تقبل من خراسان هم الأعاجم ،و أنّهم الّذین یغلبون بنی امیة علی ملکهم و یقتلونهم  تحت کلّ کوکب...۔

اور تم نے کہا تھا کہ علی (علیہ السلام) فرماتے تھے:وہ لشکر جو خراسان سے سیاہ جھنڈوں کے ساتھ قیام کرے گا، وہ ایران کا لشکر ہوگا۔ یہی ایرانی ہوں گے جو کھڑے ہوں گے، عربستان پر چڑھ آئیں گے اور بنی اُمیہ کو جہاں کہیں بھی ہوں گے تہہ تیغ کر دیں گے ۔

اے بھائی! اگر تم عمر بن خطاب کو ایرانیوں کے قتل کا آغاز کرنے دیتے تو اس کا یہ عمل ہمارے لئے ایک مضبوط اور قائم سنت بن جاتا؛ کیونکہ ہم بھی اس کی پیروی کرتے اور ایران اور ایرانیوں پر تلوار چلاتے، اور خراسان کی سرزمین سے سیاہ جھنڈوں کو جڑ سے ہی ختم کر دیتے ۔

ولاستأصلهم الله وقطع أصلهم وإذآ لاتسبّ به الخلفا بعده حتّی لایبغی منهم شعر ولا ظفر ولا نافخ نار...

خدا ہمارے ہاتھوں اس قوم کو درماندہ اور پریشان کر دیتا، ان کی زندگی کی بنیادیں الٹ کر رکھ دیتا، پھر ایران کی سرزمین میں خلفائے اسلام کو گالی نہ دی جاتی اور برا بھلا نہ کہا جاتا، اور پھر ایران کی سرکش اور باغی ملت باقی نہ رہتی۔

    بازدید : 12