(5)
ایک بوڑھا شخص جو امام زمانہ عجل الله تعالی فرجه الشریک کی کریمانہ و آفاقی حکومت کا منتظر تھا
كلينى رحمه الله كتاب «كافى» میں حكم بن عتبه سے نقل کرتے ہیں :
میں امام باقر عليه السلام کی خدمت میں تھا اور گھر لوگوں سے بھرا ہوا تھا کہ اچانک وہاں ایک بوڑھا شخص اپنی عصا کے سہارے چلتا ہوا وہاں آیا اور کمرے کے دروازے کے پاس کھڑا ہوا گیا اور امام باقر عليه السلام کی طرف منہ کرکے کہنے لگا : «السلام عليك يابن رسول اللَّه ورحمة اللَّه وبركاته» ، اے فرزند رسول خدا(ص) ! آپ پر درو و سلام اور خدا کی رحمتیں ہوں۔
پھر وہ خاموش ہو گیا اور جواب کا منتظر رہا۔
امام عليه السلام نے اسی طرح اس کے سلام کا جواب دیا ،اس کے بعد بوڑھے شخص نے اہل مجلس کی طرف منہ کرکے انہوں سلام کیا اور خاموش ہو گیا،یہاں تک کہ سب نے اس کے سلام کا جواب دیا۔
پھر اس نے امام باقر عليه السلام کی طرف رخ کرکے عرض کیا : اے فرزند رسول خدا(ص) ! مجھے اپنے پاس جگہ عطا فرماءیں،خدا مجھے آپ پر قربان کرے،خدا کی قسم میں آپ کو دوست رکھتا ہوں اور جو بھی آپ کو دوست رکھتا ہے میں اسے بھی دوست رکھتا ہوں ۔اور خدا کی قسم میری یہ محبت دنیا کی لالچ اور طمع میں نہیں ہے ۔اور میں آپ کے دشمنوں سے دشمنی رکھتا ہوں اور ان سے بیزاری و نفرت کا اظہار کرتا ہوں ،اور خدا کی قسم یہ دشمنی اور نفرت اس انتقام اوت نفرت کی وجہ سے نہیں ہے جو اس کے اور میرے درمیان ہے ،اور خدا کی قسم میں آپ کے حلال کو حلا ل اور آپ کے حرام کو حرام سمجھتا ہوں اور آپ ک ے امر اور آپ کی حکومت کریم کا منتظر ہوں ۔کیا میں امید رکھوں اور کیا آپ کومیرے بارے میں کوئی امید ہے ؟ خدا مجھے آپ پر قربان فرما ئے ۔
امام باقر عليه السلام نے فرمایا :
میری طرف آو،میری طرف آ ؤ اور اسے اپنے پاس بٹھا لیا اور پھر فرمایا:
اے بوڑھے شخص !ایک شخص میرے بابا علىّ بن الحسين عليهما السلام کے پاس آیا اور اس نے آپ سے یہ سوال پوچھا تو میرے باب نے اس سے فرمایا:
إن تمُت ترد على رسول اللَّه صلى الله عليه وآله وسلم وعلى عليّ والحسن والحسين، وعلى عليّ بن الحسين عليهم السلام ويثلج قلبك، ويبرد فؤادك وتقرّ عينك وتستقبل بالروح والريحان مع الكرام الكاتبين.
اگر تو اسی حالت میں دنیا سے گیا تو رسول خدا ، اميرالمؤمنين ، امام مجتبى ، امام حسين و علىّ بن الحسين عليهم السلام کے پاس وارد ہو گااور تیرا دل خوش ہو گا اور تیری آنکھیں روشن ہوں گی اور جب تیری جان تیرے حلق تک پہنچ جاءے گی تو فرشتہ اپنے بازو پھیلا ئے گلدستہ لے کر تیرے استقبال کو آ ئیں گے۔
اور اگرتو زنده رہا تو وہ کچھ دیکھے گاجو تیری آنکھوں کی روشنی کا باعث ہو گا بہشت میں ہمارے ساتھ بلند ترین مقامات پرہو گا۔
وہ بوڑھا شخص امام باقر عليه السلام کی باتیں سن کر اتنا خوش تھا کہ کہنے لگا : اے ابوجعفر ! آپ نے کیا فرمایا ہے ؟
امام عليه السلام نے گذشتہ مطالب کو پھر سے بیان فرمایا .
بوڑھے شخص نے حیران ہو کر کہا : اللَّه اكبر ، اے ابوجعفر ! اگر میں مرجا ؤ ں تورسول خدا و اميرالمؤمنين و امام حسن و امام حسين و علىّ بن الحسين عليهم السلام کے پاس جاں گا ... اور امام علیہ السلام نے جو مطالب بیان فرماءے تھے اس نے انہیں دہرایا۔ پھر اس بوڑھے شخص کے رونے کی آواز بلند ہو ئی اور گریہ کی وجہ سے اس کی سانس بند ہو گئی اور روتے روتے وہ زمین پر گر گیا ،اس بوڑھے شخص کی حالت کو دیکھ کر وہاں پر بیٹھے ہو ئے لوگ بھی گریہ و نالہ کرنے لگے۔
امام باقر عليه السلام اپنی مبارک انگلیوں سے اس بوڑھے شخص کی آنکھوں سے آنسو صاف کءے ،اس بوڑھے شخص نے سر اوپر اٹھایا اور امام باقر عليه السلام سے عرض کیا : اےفرزند رسول خدا(ص)! اپنا مبارک ہاتھ مجھے دیں تا کہ میں اس کا بوسہ لوں ،خدا مجھے آپ پر فدا کرے اس نے امام عليه السلام کا ہاتھ پکڑ کر چوما اوراپنی آنکھوں اورچہرے پر لگایا۔پھر اس نے اپنا دامن اٹھا کر اپنے پیٹ اور سینہ پر امام عليه السلام کا ہاتھ پھیرا اور اس کے بعد اپنی جگہ سے اٹھا،سلام اور خدا حافظ کہا۔امام باقر عليه السلام اسے پیچھے سے دیکھ رہے تھے اور وہ جا رہا تھا ۔
پھر آنحضرت نے اہل مجلس کی طرف رخ کیا اور فرمایا:
من أحبّ أن ينظر إلى رجل من أهل الجنّة فلينظر إلى هذا.
جو بھی جنتی شخص کو دیکھنا چاہتا ہے تو اسے دیکھ لے .
حكم بن عتبه کہتے ہیں :ہم نے اس سمجلس کی طرح ماتم کرتے اور روتے ہوءءے کسی مجلس کو نہیں دیکھا.(1)
1) الكافى: 76/8 ح30، الوافى: 799/5 ح3، بحارالأنوار: 361/46 ح3، ارشاد القلوب: 298/2 کچھ فرق کے ساتھ.
منبع: فضائل اهل بیت علیهم السلام کے دریا سے ایک قطرہ.جلد اول صفحه 522








