(7)
امام باقر علیه السلام کے کلمات میں اهل بیت علیهم السلام کی عظمت
شيخ حسن بن سليمان رحمه الله كتاب «المحتضر» میں کہتے ہیں : امام باقر عليه السلام روايت ہو ئی ہے کہ آپ نے فرمایا: خداوند تبارك و تعالى نے حضرت آدم کی خلقت سے چودہ ہزار سال پہلے اپنی عظمت کے نور سے چودہ نور پیدا کئے کہ جوہماری ارواح ہیں۔
آنحضرت سے عرض کیا گیا : اے فرزند رسول خدا !ترتیب کے ساتھ ان کے نام لیں کہ وہ چودہ نور کون سے ہیں؟
فرمایا: محمّد ، على ، فاطمه ، حسن ، حسين اور حسين عليهم السلام کی اولاد میں سے نو افراد اور ان میں سے نواں ان کا قیام کرنے والا ہے۔
پھر یکے بد دیگرے ان سب کے نام ل ئےاور اس کے بعد فرمایا:
خدا کی قسم ؛ ہم پیغمبر کے جانشین ہیں جنہیں آپ نے وصیت کی ہے ،ہم وہ مثانی ہیں کو خدا نے اپنے پیغمبرحضرت محمّد صلى الله عليه وآله وسلم کوعطا كی ہیں۔ہم نبوت کا درخت،اس کی رحمت کے جاری ہونے کا مقام ،حکمت و دانش کے چراغ، رسالت کا ٹھکانہ،فرشتوں کی رفت و آمد کا مقام،خدا کے رازوں کا خزانہ،اس کے بندوں پر امانت،پروردگار کے پاک حریم اور اس کا وہ عہد و پیمان ہیں جس کے متعلق بندوں سے پوچھا جا ئے گا۔جس نے ہمارے ساتھ کئے گئے عہد و پیمان کو پورا کیا اور ہمارے حق حرمت کی حفاظت کی تو گویا اس نے خدا کے عہد و پیمان سے وفا کی اور جس نےہمارے عہد و پیمان کی مخالفت کی تو گویا اس نے خدا سے کئےگئے ہد و پیمان کوتوڑا۔جس نے ہمیں پہچان لیا اس نے ہماری مرفت حاصل کر لی اور جس نے ہمیں نہیں پہچانا وہ ہم سے جاہل ہے۔
نحن الأسماء الحسنى الّتي لايقبل اللَّه من العباد عملاً إلّا بمعرفتنا.
ہم خدا کے وہ نیک اسماء ہیں کہ خدا بندوں میں سے کسی کا عمل قبول نہیں کرتا مگر ہماری مععرفت کے ساتھ .
خدا کی قسم ؛ ہم وہ کلمات ہیں جو آدم نے خدا سے یاد ک ئے اور ان کے ذریعہ خدا کو پکارا اور اس کی توبہ قبول ہو ئی ۔ خداوند تبارك و تعالى نے ہمیں پیدا کیااور ہماری خلقت کو خوبصورت قرار دیا ہمیں صورت اور شکل طا کی اور اس شکل و صرت کو حسین و جمیل بنایا۔
ہمیں بندوں کے درمیان اپنی دیکھتی آنکھ اور اپنی مخلوق کے درمیان بولتی زبان اور اپنے لطف و کرم کا پھیلا ہو ہاتھ قرار دیا،ہمیں اپنا چہرہ قرار دیا ہے جن کے ذریعہ انسان اس کی طرف متوجہ ہوتاہے اور اس کی طرف راہنما ئی کے لئے اپنادربان قرار یاہے ،اس نے ہمیں علم و دانش کا خزینہ دار،وحی کو بیان کرنے والے،اپنے دین کی نشانیاں،محکم سند اور اہل ہدایت کے لئے روشن راہنما قرار دیا ہے۔
ہمارے وسیلہ سے درخت پھل دیتے ہیں،نہریں جاری ہوتی ہیں،آسمان سے زمین پر بارش برستی ہے اور زمین سبزہ اگاتی ہے۔
وبعبادتنا عُبِدَ اللَّه تعالى، ولولانا ما عرف اللَّه، وأيم اللَّه لولا كلمة سبقت وعهد أخذ علينا لقلت قولاً يعجب منه، أو يذهل منه الأوّلون والآخرون.
ہماری بندگی کے ذریعہ خدا کی بادت کی جاتی ہے،اگر ہم نہ ہوتے تو خدا پہچانا نہ اتا۔خدا کی قسم !اگر ہم سے کی گ ئی پہلے کی سفارش اور عہد وپیمان نہ لیا گیاہوتا تو میں ایسی بات کہتا کہ پہلے گذر جانے والے اور آ ئندہ آنے والے لوگ اس پر تجب کرتے اور حیرت زدہ ہوتے۔.(1)
1) المحتضر: 129، بحار الأنوار : 4/25 ح7.
منبع: فضائل اهل بیت علیهم السلام کے دریا سے ایک قطرہ.جلد اول صفحه 539








