(10)
امام باقر عليه السلام
کے وسیلہ سے شامی جوان کا زندہ ہو جانے کا واقعہ
كتاب «الثاقب في المناقب»میں لکھتے ہیں :
میں مشهد امام رضا عليه الصلاة والسلام میں اپنے استاد ابا جعفر محمّد بن حسين شوهانى(1) کے گھر میں تھا، اور میں نے ان کی کتاب – البتہ میں راوی کا نام بھول گیا ہوں – میں یوں پڑھا :
شام کا ایک جوان اکثر امام باقر صلوات اللَّه عليه کی محافل و مجالس میں زیادہ حاضر ہوتا تھا ایک دن اس نے آنحضرت کے درس میں کہا:
خدا!کی قسم! میں آپ کی محبّت کی وجہ سے ان محافل و مجالس میں نہیں آتا بلکہ صرف آپ کی فصاحت اور آپ کے علم و دانش کی وجہ سے آتا ہوں۔
امام عليه السلام مسکرائے اور اس سے کچھ بھی نہ فرمایا.
چند دن گذر گئےلیکن اس جوان کی ک خبر نہ آئی تو امام عليه السلام نے اس کے بارے میں پوچھا:
ایک شخص نے کہا:وہ بیمار ہے۔
اسی وقت ایک شخص آیا اور اس نے کہا:: اے فرزند رسول خدا ! آپ کی مجلس میں آنے والا شامی جوان اس دنیا سے چلا گیا ہے اور اس نے وصیت کی ہے کہ آپ اس کی نماز جنازہ پڑھیں۔
امام باقر عليه السلام نے فرمایا:
جب اسے غسل دو تو اسے تخت پر ہی لیٹے رہنے دینا اور جب تک میں نہ آجا ؤ ں اسے کفن نہ دینا۔
اسی وقت آنحضرت اٹھے اور وضو کیا،دو رکعت نماز پڑھی اور دع کی اور پھر سجدہ میں سر جھکایا اور طولانی سجدہ کیا۔اس کے بعد اٹھے اور رسول اکرم (ص) کی عبا زیب تن کی اور نعلین پہن کر اس کی طرف روانہ ہوئے۔
گھر میں داخل ہوئے اور پھر اس کمرے میں داخل ہوءے جہاں اسے غسل دیا گیا تھا اور اسے غسل دے کر سریر پر رکھا گیا تھا۔حضرت نے اسے اس کے نام سے پکارا اور فرمایا:
اے فلاں!
اچانک اس جوان نے جواب دیا اور لبّيك کہا ، سر اٹھایا اور بیٹھ گیا ۔آنحضرت نے ستو کا شربت طلب کیا اور اسے پلایا۔
پھر اسے سے پوچھا: تمہیں کیا ہوا ہے؟
اس نے کہا:مجھے اس میں کوءی شک نہیں ہے کہ میری روح کو قبض کر لیا گیا تھا اور جب میرے جسم سے روح خارج ہو گئی تو میں نے ایک دل نشین آواز سنی کہ آج تک اس سے اچھی آواز میں نے نہیں سنی تھی۔ اور انہوں نے کہا:
ردّوا إليه روحه ، فإنّ محمّد بن عليّ قد سألناه .
اس کی روح کو واپس لوٹا دو، کیونکہ محمّد بن على نے اسے ہم سے طلب کیا ہے.(2)
1) مصدر میں یوں : ابا جعفر محمّد بن حسن شوهانى .
2) الثاقب في المناقب : 369 ح 2 .
منبع: فضائل اهل بیت علیهم السلام کے دریا سے ایک قطرہ.جلد دوم صفحه 560








