(11)
کامل اعتقاد کے بارے میں امام باقر عليه السلام کا حکم
جابر جعفى کہتے ہیں : میں نے اپنے مولا امام باقر عليه السلام سے عرض کیا :
میں ایک نابینا اور بوڑھا شخص ہوں،میرے اور آپ کے درمیان فاصلہ بہت زیادہ ہے ،میں آپ سے کوئی حکم اور دستور چاہتا ہوں کہ جس پر عمل کر کے میں مخالفین کے مقابلہ میں استدلال کر سکوں اور اسے پس ماندگان تک پہنچا ؤ ں .
جابر کہتے ہیں: امام باقر عليه السلام میری بات سن کر حِران ہوئے اور سیدھے ہو کر بیٹھ گئے،پھر انہوں نے مجھ سے فرمایا:
اے ابا الجارود! تم نے کیا کہا؟ اپنی بات کو دہرا ؤ!
میں نے اپنی بات پھر سے دہرائی .امام باقر عليه السلام نے فرمایا:
نعم، يا أبا الجارود! شهادة أن لا إله إلّا اللَّه وحده لا شريك له ، وأنّ محمّداً عبده ورسوله ، وإقام الصلاة وإيتاء الزكاة ، وصوم شهر رمضان ، وحجّ البيت ، وولاية وليّنا ، وعداوة عدوّنا ، والتسليم لأمرنا ، وانتظار قائمنا عليه السلام ، والورع والإجتهاد .
ہاں!اے ابا الجارود!اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے اور یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں ہے اور محمد(ص) اس کا بندہ اور رسول ہے۔نماز قائم کرنا،زکاةدینا، اور ماہ رمضان کے روزے رکھنا،خانہ خدا کا حج کرنااور ہمارے محبوں کو دوست رکھنا اور ہمارے دشمنوں سے نفرت کرنا ،ہمارے امر کے سامنے تسلیم ہونا ، ہمارےقائم کا انتظار کرنا،تقوی و پاک دامی (اور دین میں)سعی و کوشش کرنا۔(1)
1) الدعوات : 135 ح 335 ، بحار الأنوار : 13/69 ح 14 (کچھ فرق کے ساتھ) .
منبع: فضائل اهل بیت علیهم السلام کے دریا سے ایک قطرہ.جلد دوم صفحه 562








