(12)
امام باقر عليه السلام
کی زبان سے اهل بيت عليهم السلام کی قدرت
جابر کہتے ہیں:
میں اپنے مولا امام باقر عليه السلام میں شرفیاب ہوا اور اور اپنی حاجت اور ضرورت کا اظہار کیا:
آنحضرت نے فرمایا:
اے جابر! میرے پاس ابھی ایک درھم بھی نہیں ہے.
ابھی کچھ دیر ہی ہو ئی تھی کہ کمیت شاعر آیا اور اس نے امام عليه السلام سے عرض کیا: میں آپ پر قربان ! میں نے آپ کی شان میں ایک قصیدہ لکھا ہے اگر اپ اجازت دیں تو میں آپ کی خددمت میں پڑھوں؟
فرمایا:
پڑھو . كميت نے اپنےاشعار پڑھے . امام عليه السلام نے اپنے غلام سے فرمایا :
اس کمرے میں جا ؤ اور پیسوں کی تھیلی کمیت کے لئے آؤ.
(غلام کمیت کے لئے وہ تھیلی لے آیا).
كميت نے عرض کیا: میں آپ پر قربان جاؤں! اگر آپ کی اجازت ہو تومیں ایک دوسرا قصیدہ بھی پڑھوں؟
حضرت نے فرمایا:
بخوان . كميت نےقصيده پڑھا . امام عليه السلام نے اپنے غلام سے فرمایا :
دوسری تھیلی بھی لے آؤ.
وہ دوسری تھیلی بھی لے آیا .
كميت نے عرض کیا: میں آپ پر قربان جاؤں! اگر آپ کی اجازت دیں تومیں ایک اورقصیدہ بھی پڑھوں؟
امام عليه السلام نے فرمایا :
پڑھو اور اس نے تیسرا قصیدہ بھی پڑھا امام عليه السلام نے اپنے غلام سے فرمایا :
ایک اور تھیلی بھی لے آؤ.
غلام نے اطاعت کی اور ایک اور تھیلی بھی لے آیا .
كميت نے عرض کیا: میں آپ پر قربان جاؤں؛ خدا کی قسم! آپ سےمیری محبّت اورمداحى دنیا کے لءے نہیں ہے، ان اشعار سے میری مراد صرف پيامبر خدا صلى الله عليه وآله وسلم کا تقرب اور ان سے صلہ ہے اور اس سے میں اس حق کو ادا جرنے کا قصد کرتا ہوں جو خدا نے مجھ پر واجب کیا ہے۔
جابر کہتے ہیں: امام باقر عليه السلام نے اس کے لئے دعا بھی کی ، اور پھر فرمایا :
اے غلام ! یہ تھیلیاں واپس ان کی جگہ پر رکھ دو .
(جب میں نے یہ واقعہ دیکھا تو)دل میں کہا: حضرت نے مجھ سے فرمایا تھا: «میرے پاس ایک درھم بھی نہیں ہے» اور اب کمیت کو تیس ہزار درھم انعام دینے کا حکم کیا ہے۔
اس وقت كميت اٹھ کر چلے گئے ، میں نے امام باقر عليه السلام سے عرض کیا : میں آپ پر قربان جا ؤں !آپ نےمجھ سے فرمایا تھا: «میرے پاس ایک درھم بھی نہیں ہے» لیکن اب آپ نےکمیت کو تیس ہزار درھم انعام دینے کا حکم کیا ہے؟!
امام باقر عليه السلام نے مجھ سے فرمایا:
جابر! اٹھو اور کمرے میں جا ؤ۔
میں اٹھ کر کمرے میں گیا لیکن مجھے کوئی درھم بھی دکھائی نہ دیا ،میں واپس چلا آیا۔
حضرت نے فرمایا :
يا جابر ! ما سترنا عنكم أكثر ممّا أظهرنا لكم .
اى جابر!جو کچھ ہم (خدا کی وقت سے)تم سے چھپاتے ہیں وہ اس سے زیادہ ہے جو کچھ تم پر ظاہر کرتے ہیں۔
پھر حضرت اٹھے اور میرا ہاتھ پکڑ کر کمرے میں داخل ہوئی اور اپنے پاؤں سے زمین کو مارا تو اچانک ایسے سونے کے سکے نمایاں ہوءے جیسے اونٹ کی گردن نمایاں ہوتی ہے،اس وقت آنحضرت نے فرمایا:
يا جابر ! انظر إلى هذا ولا تخبر به أحداً إلّا من تثق به من إخوانك ، إنّ اللَّه أقدرنا على ما نريد ، ولو شئنا أن نسوق الأرض بأزمّتها لسقناها .
اے جابر!ان سکوں کی طرف دیکھو اور کسی کو اس کے بارے میں نہ بتاؤ مگر اپنے ان بھائیوں کو کہ جن پر تمہیں بھروسہ ہو.
بے شک خداوند نے ہمیں ہر اس چیز کی قدرت دی ہے جسے ہم چاہیں اور زمین کی لگام ہمارے اختیار میں ہے ہم اسے جہاں چاہیں لے جا سکتے ہیں.(1)
1) الإختصاص : 265 و266 ، بصائر الدرجات : 375 ح5 ، بحار الأنوار : 239/46 ح 23 .
منبع: فضائل اهل بیت علیهم السلام کے دریا سے ایک قطرہ.جلد دوم صفحه 564








