امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(1) ایک گھنٹے سے پہلے ان کی حاجت پوری ہو جاتی

(1)

ایک  گھنٹے  سے  پہلے  ان  کی  حاجت  پوری  ہو جاتی

کتاب «چهره درخشان قمر بنی هاشم ابوالفضل العباس علیه السلام : 2 /509» میں  لکھتے  ہیں:

 عالم باعمل ،مكتب محمد و آل محمد علیهم السلام کے حامی جناب حجة الاسلام و المسلمين سيد مرتضى مجتهدى سيستانى ، فرزند سلاله السادات جناب حاج سيد محمد جواد مجتهدى سيستانى (1) ، كتاب «کامیابی  کے  اسرار» کی  دوسری  جلد  میں حضرت اباالفضل العباس عليه السلام کے  حرم  میں  اپنے  مشاہدہ  کو  یوں  بیان  کرتے  ہیں:

مجھے  ١٣٤٨ شمشی میں کچھ مہینوں تک مقامات مقدسہ کی زیارت کی توفیق حاصل ہوئی اور میں حضرت ابا الفضل العباس علیہ السلام کے حرم میں مکرر بیماروں کے شفایاب ہونے اور لوگوں کی حاجتیں پوری ہونے کا شاھد ہوں۔

بعض اوقات جو لوگ اپنے بیماروں کو حضرت عباس علیہ السلام کی مقدس ضریح کے ساتھ باندھ دیتے تھے ،ایک گھنٹے سے بھی کم  وقت میں ان کی حاجت پوری ہو جاتی تھی اور جب ان کی حاجت روا ہو جاتی توعرب کی عورتیں اپنی رسم کے مطابق  ہلہلہ کرتیں اور ضریح مقدس اور زائرین کی طرف خشک میوے  نچھاور کرتی ہیںاور حرم مطہر کی فضا خوشی کے نعروں سے جھوم جاتی۔کبھی کبھار وہ زیادہ تشکر کا اظہار کرنے کے لئے نقل کے ساتھ عراق میں رائج پیسے بھی پھینکتے۔

ان کا اعتقاد و یقین اس حد تک تھا کہ بعض اوقات وہ اپنے بیمار کے ساتھ خشک میوے اور پیسے بھی لے کر آتے تھے اور جونہی ان کے بیمار کو شفا ملتی ،وہ فوراً ہلہلہ کرتے اور پھر خشک میوے اور پیسے نچھاور کرنے میں مشغول ہو جاتے اور خوشی سے تشکر کا ظہار کرتے اور کہتے''ابو فاضل نشکرک''

ایک دن وہ کسی پاگل جوان کو حرم میں لائے اور انہوں نے اسے تین دن تک ضریح کے ساتھ باندھ دیا اس کے رشتہ دار اس کے اردگرد  جمع تھے ۔یہ  بڑے تعجب کی بات تھی کہ کس طرح اتنا زیادہ وقت گزر انے کے باوجود بھی ان کی حاجت پوری نہیں ہوئی!

ایک بیمار کا تین دن تک شفا یاب نہ ہونا  ہمارے لئے تعجب کی بات تھی چونکہ معمولاً ایسا نہیں ہوتا تھا ؛کیونکہ آنحضرت  سے متوسّل ہونے والوں کا بڑاعجیب اعتقاد تھا اور اس کے لئے زیادہ لمبی مدت کی کوئی ضرورت نہیں تھی ۔وہ اپنے یقین کامل سے یہ اظہار کرتے ہیں''ابوفاضل باب الحوائج'' اور حضرت ابا الفضل العباس علیہ السلام بھی ان کی حاجتوں کوپورا فرماتے کیونکہ وہ لوگ حضرت اباالفضل العباس علیہ السلام کے لطف و کرم پر مکمل یقین کے ساتھ آپ  سے متوسّل ہوتے ۔

اس بات کو بیان کرنے کا یہ مقصد تھا کہ بہت سے توسّلات میں کچھ دوسری جہات بھی ہوتی ہیں جو تطہیر قلب کی جگہ لے لیتی ہیں۔اہلبیت علیھم السلام کے لطف و کرم کے موارد میں  اور دوسرے موارد میں لوگوں کا یقین و اعتقاد ان ہستیوں کی عنایات کا باعث بنتا ہے۔ 


(1) مرحوم مغفور سلاله الاطياب جناب حاج سيد محمد جواد مجتهدى سيستانى نے  اپنی پوری بابرکت عمر  کو  سچائی  اور  خلوص  کے  ساتھ  خاندان پاك ولايت عليهم السلام   کی  خدمت  کی  راہ  میں  گزاری  اور ان  ہستیوں  کی  عزاداری  میں  مجالس  کا انعقاد  کیا كه جو بحمدالله  اب تک جاری و ساری ہیں، آپ 1415 هجرى قمرى میں  عاشورہ  کے  دن  زيارت عاشورا   پڑھنے  کے  بعد حضرت سيدالشهدا عليه السلام   کی  مجلس  عزا  میں  ہی آنحضرت  سے  جا  ملے۔

عزاداری  کی  ان  مجالس  کے  انقاد  ان  کے  حلوص  اور  سچائی  کے  علاوہ   اس  مرحوم  کی  کامیابی  کا  ایک  راز  ان  کی حضرت ابوالفضل العباس عليه السلام سے  خاص  محبت  اور  لگاو  تھا ۔اور  وہ  ہر  سال  واجب  حقوق  اداد  کرنے  کے   بعد  باقی سالانہ  منافع  میں  حضرت عباس عليه السلام کے  ساتھ  شریک  ہوتے  تھے  اور آنحضرت  کے  حصہ کو  اهل بيت عليهم السلام کی  مجالس  عزا  میں  خرچ  کرتے  تھے.

 

منابع : 

۱)  کتاب «چهره درخشان قمر بنی هاشم ابوالفضل العباس علیه السلام : 2 /509»

۲) سايت بي باک


 

بازدید : 1559