امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
حضرت محسن علیه السلام کی شہادت

حضرت محسن علیه السلام کی شہادت

حضرت فاطمه زیرا سلام الله عليها کی شہادت کا سبب

*********************************************

تین ربیع الاوّل؛ امیرالمؤمنین حضرت علی علیه السلام کے گھر پر حملہ اور حضرت محسن علیه السلام کی شہادت

*********************************************

عن ابى بصير عن ابى عبدالله عليه السلام قال و كان سبب و فاتها ان قنفذا مولى الرجل لكزها بنعل السيف بامره فاسقطت محسنا و مرضت من ذالك مرضا شديدا و لم تدع احدا ممن اذاها يدخل عليها. (دلائل الامامه طبرى صفحه 45)

ابوبصير نے حضرت امام صادق عليه الصلوه و السلام سے روايت کی ہے کہ کاشف حقائق نے امام صادق سے نقل فرمایا: آپ (حضرت فاطمہ علیہا السلام) کی شہادت کا سبب یہ تھا کہ اس شخص کے غلام قنفذ نے اس کے حکم پر (حضرت فاطمہ علیہا السلام کو ) تلوار کے غلاف سے ایسا مارا کہ جس کی وجہ سے محسن  سقط ہو گئے جس کے وجہ سے آپ شدید بیمار ہو گئیں اور آپ نے اذیت کرنے والوں میں سے کسی کو عیادت کی اجازت نہیں دی۔

حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کی شہادت کے سبب کے بارے میں محدث قمی نے کتاب بیت الأحزان کے صفحہ ۱۶۰ پر اسی مضمون سے قریب ایک روایت نقل کی ہے۔

یہ چیز مسلم اور واضح ہے کہ بیت پیغمبر حضرت فاطمۂ زہراء سلام اللہ علیہا کی وفات طبیعی نہیں تھی بلکہ آپ کی شہادت کا سبب وہی تھا جو امام صادق علیہ السلام کی زبان سے کاشف حقائق سے نقل ہوا ہے اور ظالم و ستمگار دشمن کی انہی تکالیف کی وجہ سے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اس یادگار کی شہادت واقع ہوئی۔ حیرت ہے کہ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے بارہا یہ فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، فاطمہ کو اذیت و تکلیف دینا مجھے اذیت دینا ہے اور مجھے اذیت دینا خدا کو پہنچانا ہے؛ لیکن اس کے باوجود ان منافق اور ظالم لوگوں نے پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اپنے بیٹی کے بارے میں فرامین کا خیال نہ کیا بلکہ جہاں تک ہو سکا انہوں نے عصمت کبریٰ فاطمۂ زہراء علیہا السلام پر ظلم و ستم کئے ، آپ کا اور آپ کے شوہر کا حق غصب کر لیا ، تلوار کے غلاف سےآپ کو مارا جس کے نتیجہ میں آپ کے شکم میں چھ ماہ کے محسن سقط ہو گئے ، بنت پیغمبر کے چہرے پر چمانچہ مارے ،طمانچوں سے آپ کے چہرے کا رنگ نیلا ہو گیا، آپ کو تکالیف پہنچائی، ایسی ایسی بے احترامی، توہین اور جسارت کی گئی کہ جنہیں لکھتے ہوئے قلم کو بھی شرم آئے ۔ بس فاطمہ سے یہ کہنا چاہئے کہ یا فاطمۃ الزہراء خدا آپ کو صبر و اجر عطا فرمائے۔ 

اى مه برج حيا و عصمت كبرى

بانوى حوران خلد حضرت زهرا (ع)

قدر تو مجهول ماند و قبر تو مخفى

حق تو مغصوب گشت چشم تو عبرا

محسن ششماهه تو چون بزمين خورد

طفل خود از بر فكند مادر عيسى

روز قيامت بس است بهر شفاعت

محسن و اصغر به نزد خالق يكتا

آپ کی زیارت میں پڑھتے ہیں: (المغصوبته حقها المكسوره ضلعها الممنوعته ارثها المظلوم بعلها المقتول ولدها)

اختصار سے لکھے گئے مذکورہ بیان کے بعد حضرت فاطمۂ زہراء علیہا السلام کی شہادت کا سبب واضح ہو گیا اور آپ جوانی کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہوئیں اور یہ عظیم خاتون راہ اسلام و قرآن اور راہ ولایت کی پہلی شہید ہیں۔

آپ پر، آپ کے بابا، آپ کے شوہر اور آپ کی اولاد اطہار پر بے انتہا ازلی و ابدی و سرمدی درود و سلام ہو۔.(1)

 


(1) آئینه ایزدنما حضرت فاطمه زهرا سلام الله علیها : 87. 

 

منبع : غیر مطبوع ذاتی نوشتہ جات

 

 

بازدید : 1118