جنگ بنی نضیر کے بارے میں مطلب
**********************************************
22 ربیع الاوّل؛ جنگ بنى نضير (سنہ ۴ ہجری)
**********************************************
امام حسن مجتبى عليه السلام کا مناظرہ
شيخ طبرسى نے كتاب احتجاج، ابن ابى الحديد نے شرح نهج البلاغه، ابى مخنف اور يزيد بن ابى حبيب مصرى نے روايت كیا ہے کہ اسلام میں اس سے زیادہ سخت اور زیادہ گفتگو کا دن کوئی اورنہیں تھا کہ جس دن ایک گروہ معاویہ بن ابی سفیان کی مجلس میں حضرت امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام سے مناظرہ کے لئے جمع ہوئے۔ ان لوگوں میں عمرو بن عثمان بن عفّان، عمرو بن عاص، عتبة بن ابى سفيان، وليد بن عقبة بن ابى معيط اور مغيرة بن ابى شعبه شامل تھے جنہوں نے حضرت امام حسن مجتبى عليه السلام کو دشنام دینے اور آپ کی توہین کرنے کے لئے ایک دوسرے سے ساز باز کر لی تھی.
عمرو بن عاص نے معاويه سے درخواست كی کہ حسن بن على (عليهما السلام) کو دربار میں بلانے کے لئے کسی کو بھیجو تا کہ وہ انہیں مجلس میں حاضر کرے؛ کیونکہ انہوں نے اپنے باپ کی سنت کو زندہ کیا ہے اور وہ جہاں بھی جاتے ہیں لوگ ان کے پیچھے چلتے ہیں اور ان کے حکم کی اطاعت کرتے ہیں اور وہ جو کچھ بھی کہیں لوگ ان کی بات کی تصدیق کرتے ہیں اور یہ چیز ان کے اور ان کے باپ کی شان سے زیادہ ان کے مقام کی رفعت کا باعث بنی۔ اگر تم انہیں طلب کرو گے تو ہم پوری طرح انہیں اور ان کے باپ کو قصوروار ٹھہرائیں گے نیز انہیں اور ان کے باپ پر سبّ و شتم کریں گے ، ان کے اور ان کے باپ کے مقام و مرتبہ کو حقیر شمار کریں گے یہاں تک کہ وہ تمہاری خلافت کی تصدیق کر دیں.
معاويه نے اس کے جواب میں کہا:مجھے یہ خوف ہے کہ کہیں وہ یہ طوق تمہاری گردن میں نہ ڈال دیں اور پھر تمہارے لئے صرف ننگ و عار اور ذلت و خواری باقی بچے گی یہاں تک کہ تم اسی ننگ و عار کے ساتھ قبروں میں چلے جاؤ گے۔ خدا کی قسم! میں ہر گز انہیں نہیں دیکھتا مگر یہ کہ مجھے ان کے دیکھنے سے کراہت ہوتی ہے اور میں ان کے عتاب سے ڈرتا ہوں اور اگر میں انہیں طلب کرنے کے لئے کسی کو بھیجو ں تو ان کے حق میں انصاف کروں گا.
عمرو بن عاص نے کہا:کيا تم ڈر رہے ہو کہ وہ اپنے باطل کو ہمارے حق پر غلبہ دیں گے اور اپنی بیماری کو ہماری صحت پر برتری دیں گے؟!
معاويه نے کہا: نہیں.
عتبه نے کہا: مجھے نہیں معلوم کہ یہ کیسی رائے ہے؟ خدا کی قسم!تم لوگ ان کے ساتھ مناظرہ نہیں کر سکتے اور وہ ایسے خاندان سے ہیں جو جدال نہیں کرتے!
پس امام حسن عليه السلام کو طلب کرنے کے لئے بھییجا. اور جب معاویہ کا بھیجا ہوا شخص آنحضرت کے پاس حاضر ہوا تو عرض کیا: معاويه نے آپ کو طلب کیا ہے.
امام حسن عليه السلام نے فرمایا: اس کے پاس کون ہے؟
اس نے کہا: اس کے پاس فلاں فلاں لوگ موجود ہیں اور اس نے سب کے نام بھی بتائے.
حضرت امام حسن مجتبى عليه السلام نے فرمایا:وہ کیا چاہتے ہیں؟ خدا ان کے سروں پر چھت خراب کرے اور ان پر ایسی جگہ سے عذاب بھیج کہ وہ سمجھ نہ سکیں.
پس آپ نے اپنی کنیز سے فرمایا:میرا لباس لے آؤ اور پھر آپ نے یہ دعا پڑھی:
أللّهمَّ إنّي أدْرأُ بك في نحورهم، وأعوذ بك من شرورهم، وأستعين بك عليهم، فاكفنيهم بما شئت وأنّى شئت من حولك وقوّتك يا أرحم الرّاحمين.
خدايا! میں تیری مدد سے ان کے گلوں میں جو کچھ ہے اسے دفع کروں گا اور میں ان کی بدی سے تیری پناہ میں آتا ہوں اور ان سے پہچنے والے نقصان پر تجھ سے مدد طلب کرتا ہوں، پس مجھے ان کے شر سے محفوظ رکھ اور تو جو کچھ اور جیسے چاہتا ہے ، اپنی توانائی اور قوت سے۔ اے سب سے زیادہ رحم کرنے والے.
پس آپ نے اپنے قاصد سے فرمایا: یہ دعائے فرج ہے.
اور جب آپ معاويه کے پاس گئے تو اس نے آپ کو خوش آمدید کہا اور آپ پر درود بھیجا اور آپ سے مصافحہ کیا۔ آنحضرت نے فرمایا:
تم نے مجھ پر جو درود بھیجا ہے اور مجھ سے جو ہاتھ ملایا ہے کیا اس میں سلامتی ہے اور میں امان میں ہوں؟
معاويه نے کہا: جی ہاں!ان لوگوں نے میرا حکم نہیں مانا اور آپ کی طرف بھیج دیا تا کہ آپ سے یہ اقرار لیں اور آپ یہ کہیں کہ عثمان مظلومانہ طور پر قتل ہوا اور آپ نے باپ نے اسے قتل کیا۔ پس آُ ان کی بات سنیں اور انہیں جواب دیں اور میرا خیال نہ کریں؛ انہیں جواب دینے کے لئے میں آپ کی راہ میں حائل نہیں ہوں.
پس حضرت امام حسن مجتبى عليه السلام نے فرمایا:
فَسُبْحانَ اللَّهِ، اَلْبَيْتُ بَيْتُكَ وَالْإِذْنُ فيهِ إِلَيْكَ، وَاللَّهِ لَئِنْ أَجَبْتَهُمْ إِلى ماأَرادُوا، إِنّي لَأَسْتَحْيي لَكَ مِنَ الْفُحْشِ وَإِنْ كانُوا غَلَبُوكَ عَلى ما تُريدُ، إِنّي لَأَسْتَحْيي لَكَ مِنَ الضَّعْفِ فَبِأَيِّهِما تُقِرُّ وَمِنْ أَيِّهِما تَعْتَذِرُ، وَأَمَّا إِنّي لَوْعَلِمْتُ بِمَكانِهِمْ وَاجْتِماعِهِمْ لَجِئْتُ بِعِدَّتِهِمْ مِنْ بَني هاشِمٍ مَعَ أَنّي مَعَ وَحْدَتي هُمْ أَوْحَشُ مِنّي مِنْ جَمْعِهِمْ، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّوَجَلَّ لِوَلِيِّيَ الْيَوْمَ فَمُرْهُمْ فَلْيَقُولُوا فَأَسْمَعُ وَلا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلّا بِاللَّهِ الْعَلِيِّ الْعَظيمِ.
خدا منزّه ہے (یہ کلام تعجّب کے مقام پر کہا جاتا ہے)،یہ گھر تمہارا گھر ہے، اس میں تمہاری اجازت کے بغیر نہیں آ سکتے، اور خدا کی قسم! یہ جو کچھ کہنے کا ارادہ رکھتے ہیں اگر تم ان کی اجابت کرو تو میں تمہیں گالی دینے سے حیا ءکرتا ہوں اور اگر یہ تم پر غالب ہیں اور تمہارے حکم کے برخلاف بات کرتے ہیں تو میں تمہاری ناتوانی اور کمزوری کی حیاء کرتا ہوں۔ تم ان دونوں میں سے کس کا اقرار کرو گے اور ان دو میں سے کس کا عذر طلب کرو گے؟ اگر مجھے اس کا علم ہوتا اور یہاں ان کے اجتماع کی خبر ہوتی تو میں ان کے مطابق بنی ہاشم میں سے کچھ افراد اپنے ساتھ لے کر آتا حالانکہ اب میں تنہا ہوں۔ یہ گروہ میرے لئے سب سے زیادہ وحشتناک ہے اور آج خدائے عزوجل میرا ولی ہے۔ پس انہیں حکم دو کہ یہ جو کہنا چاہتے ہیں کہیں اور میں سنو۔ اور خدائے علی و عظیم کے سوا کوئی طاقت و قوت نہیں ہے.
پس عمرو بن عثمان بن عفّان نے بات کا آغاز کیا اور کہا: میں نے آج تک یہ نہیں سنا کہ خلیفہ عثمان کے قتل کے بعد عبد المطلب کے بیٹوں میں سے کوئی باقی بچا ہو اور اسلام میں اس کی کوئی ایسی فضیلت ہو جو مقام و منزلت، رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم سے مخصوص ہونے، وارث علم ، تكریم اور پسندیدہ صفات کے حامل ہونے کے لحاظ سے عثمان کی طرح ہو کہ جو ان کی بہن کا بیٹا ہے۔ خدا کے نزدیک ان لوگوں کے لئے کیسی بری کرامت ہے جنہوں نے دشمنی، فتنہ، حسد، جاہ طلبی اور ایسے مقام کی طلب کی وجہ سے ان کا خون بہایا کہ جس کے لئے ان میں اہلیت نہیں تھی۔ وہ خدا، رسول اور اسلام کے سلسلہ میں جو مقام و سابقہ رکھتے تھے اس لحاظ سے یہ کیسی ذلت و خواری ہے کہ حسن (عليه السلام) اور عبدالمطلّب کی سب اولاد روئے زمین پر زنده ہو اور عثمان اپنے خون میں رنگے ہوں جب کہ ہمیں جنگ بدر میں بنی امیہ میں سے قتل ہونے والے دوسرے انیس افراد کے خون کا انتقام لینے کا حق ہے.
پھر عمرو بن عاص نے گفتگو کا آغاز کیا اور خدا کی حمد و ثناء کے بعد کہا: اے فرزند ابو تراب! ہم نے تمہیں یہاں اس لئے طلب کیا تا کہ تم سے اقرار لیں کہ تمہارے باپ نے ابوبکر صدیق کو زہر دیا! اور وہ عمر فاروق کو قتل کرنے میں بھی حصہ دار تھے اور عثمان ذوالنورين کے قتل میں بھی شریک تھے، وہ مظلومانہ طور سے قتل ہوئے اور انہوں نے اس چیز کا دعویٰ کیا جو ان کا حق نہیں تھا (يعنى خلافت کا دعویٰ کیا) اور وہ انہیں مل گئی، انہوں نے فتنوں کو بھڑکایا اور فتنہ میں وارد ہونے کے لئے ان کی سرزنش و ملامت کی.
اس کے بعد کہا: اے عبدالمطلب کے بیٹو ! خدا نے مُلك کو آپ کا مطيع قرار نہیں دیا کہ اس میں ایسی چیز پر سوار ہو جائیں کہ جو آپ کے لئے حلال نہیں ہے۔ اے حسن! آپ خود یہ سوچ رہے ہیں کہ آپ امیر المؤمنین بن جائیں حالانکہ آپ کے پاس عقل نہیں ہے اور نہ تو خلافت کے لئے کوئی رائے ہے! آپ کس طرح اس کے لائق ہو سکتے ہیں حالانکہ آپ نے خود اسے سلب کیا ہے اور قریش میں اس سے نادانی کی وجہ سے باقی رہے ہیں اور یہ تمہارے باپ کے برے اعمال کا نتیجہ ہے۔ ہم نے تمہیں اس لئے بلایا ہے کہ تمہیں اور تمہارے باپ پر سبّ و شتم کریں اور تم ہمارے کسی عیب کو بیان نہ کر سکو اور ہماری تکذیب نہ کر سکو ۔ پس اگر تم یہ دیکھو کہ ہم تمہاری تکذیب کر رہے ہیں اور کسی باطل چیز کے بارے میں بات کر رہے ہیں یا ہمارا دعویٰ حق کے برخلاف ہے تو تم بات کرو ورنہ یہ جان لو کہ تم اور تمہارا باپ خدا کی بدترین مخلوق ہے۔ اور جہاں تک بات ہے تمہارے باپ کی؛ تو خدا نے انہیں قتل کرنے کے لئے ہماری کفایت کی اور وہ تنہائی میں قتل ہو گئے لیکن تم ہمارے ہاتھوں میں گرفتار ہو۔ خدا کی قسم! اگر ہم تمہیں قتل کر دیں تو آپ کے قتل کی وجہ سے خدا کی بارگاہ میں گناہگار نہیں ہیں اور لوگوں کی نظروں میں بھی کوئی عیب نہیں ہے.
اس کے بعد عتبة بن ابى سفيان نے اپنی بات کا آغاز کیا اور اس نے سب سے پہلے جو بات کی وہ یہ تھی كہ: اے حسن! تمہارا باپ قریش کے لئے بدترین تھے اور انہوں نے سب سے زیادہ قطع رحم کیا اور سب سے زیادہ خونریزی کی اور تم عثمان کے قاتلوں میں سے ہو اور حق یہ ہے کہ اس کی پاداش میں تمہیں قتل کر دیا جائے اور خدا کی کتاب میں تمہارے لئے قتل کا حکم ہے اور ہم تمہارے قاتلوں میں سے ہیں۔ تمہارے باپ کو قتل کرنے میں خدا متفرّد تھا اور ہمارے لئے اس کے امر نے کفایت کی اور تم خلافت کی امید نہ رکھو کہ تم اس کے اہل نہیں ہو اور تم اس بارے میں تم برتری نہیں رکھتے.
اس کے بعد وليد بن عقبه نے کلام کیا اور اس کی باتیں بھی اس کے ساتھیوں کی طرح ہی تھی۔ اس نے کہا:اے گروہ بنی ہاشم!سب سے پہلے تم لوگوں نے بغاوت کی اور عثمان کے عیب بیان کئے اور لوگوں کو اس کے خلافت بغاوت کے لئے بھڑکایا اور پھر تم لوگ جس چیز کے حریص تھے اسی کی وجہ سے انہیں قتل کر دیا اور قطع رحم کیا اور امت کو ہلاکت میں ڈال دیا اور خلافت کے حصول کے لئے امت کا خون بہایا اور یہ سب خبیث دنیا طلبی کے لئے تھا حالانکہ عثمان آپ کا خالو اور آپ کے لئے نیک خالو تھا اور آپ کا داماد اور آپ کے لئے نیک داماد تھا۔ سب سے پہلے تم لوگوں نے ان سے حسد کیا اور انہیں طعنہ دیا اور انہیں قتل کر دیا ۔ خدا تم لوگوں کے ساتھ کیا کرے گا؟
پس مغيرة بن شعبه نے اپنی بات کی اور اس کی باتوں میں صرف امیر المؤمنین علی علیہ السلام کی بدگوئی بیان کی گئی تھی۔ اس نے کہا: اے حسن! عثمان مظلومانہ طور پر قتل ہوئے اور تمہارا باپ ہرگز اس بارے میں معذور نہیں ہے کہ وہ یہ کہے کہ میں عثمان کے قتل سے بیزار ہوں اور ان کے گناہگار ہونے میں کوئی عذر نہیں ہے. اے حسن! ہم صرف یہی سوچتے ہیں کہ تمہارا باپ ان قاتلوں کے ساتھ تھا اور اس نے انہیں جگہ دی اور ان کا دفاع کیا اور یہ اس چیز کی دلیل ہے کہ وہ ان کے قتل پر راضی تھے اور تمہارے باپ کی تلوار اور زبان بہت دراز تھی۔ بنی ہاشم کے لئے بنی امیہ خود بنی ہاشم سے زیادہ خیر خواہ تھے ۔ اور اے حسن! معاویہ تمہارے لئے تم سے زیادہ بہتر اور تمہارے بابا رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کی زندگی میں ان کے دشمن تھے اور انہیں ڈرایا کرتے تھے اور ان کے قتل کا ارادہ رکھتے تھے اور رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم بھی اس امر سے آگاہ تھے اور پیغمبر کے بعد وہ ابوبکر کی بیعت کرنا پسند نہیں کرتے تھے یہاں تک کہ انہیں زبردستی پکڑ کر لائے اور پھر انہوں نے ابوبکر کو زہر دے دی اور زہر سے انہیں قتل کر دیا اور اس کے بعد عمر سے نزاع و اختلاف کیا اور اپنی پوری ہمت سے عمر کو قتل کرنے کی کوشش کی اور انہیں قتل کرے کا ارادہ رکھتے تھے اور عمر کے بعد عثمان سے دشمنی رکھتے تھے، اسے طعنہ دیتے اور یہاں تک کہ انہیں قتل کر دیا اور وہ ان سب کے خون میں شریک تھے۔ اے حسن! ان سب کے باوجود خدا کے نزدیک ان کا کیا مقام ہو گا۔ حالانکہ خدا نے اپنی نازل کردہ کتاب میں مقتول کے ولی کو تسلط دیا ہے اور معاویہ مقتول کا ولی ہے کہ جو ناحق قتل ہوئے اور اب حق یہ ہے کہ تمہیں اور تمہارے بھائی کو قتل کیا جائے اور علی( علیہ السلام) کا خون عثمان کے خون سے زیادہ قیمتی نہیں ہے۔ خدا نے نبوت اور خلافت کو عبدالمطلب کے فرزندوں میں جمع نہیں کیا.
اس کے بعد وہ خاموش ہو گیا.
پھر ابومحمّد حسن بن على عليهما السلام نے یوں بیان فرمایا:
اس خدا کی حمد و ستائش؛ جس نے تمہارے اوّل کی ہمارے اوّل اور تمہارے آخر کی ہمارے آخر کی طرف ہدایت کی اور میرے جد محمد رسول اللہ اور ان کی اہلبیت پر خدا کا دائمی درود ہو ۔ اب میری بات سنو اور اپنے طعنوں کو ظاہر کرنے کے لئے اس پر غور کرو:
اے معاويه!میں تم سے اپنی بات کا آغاز کرتا ہوں۔ اس عمر کی قسم جو خدا نے مجھے عطا کی! تیرے سوا کسی نے میرے خلاف ہرزہ سرائی نہیں کی اور تیرے سوا کسی نے مجھے گالی نہیں دی۔ اس گروہ نے مجھے گالی نہیں دی مگر یہ کہ تم نے مجھے گالی دی اور میرے خلاف ہرزہ سرائی کی۔ اور تم نے میرے خلاف بدگوئی کی اور یہ سب میرے خلاف تمہاری بدی، گمراہی، دشمنی اور حسد کی وجہ سے ہے اور یہ تمہاری اس عداوت کا نتیجہ ہے جو تم زمانۂ قدیم سے اب تک محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے رکھتے ہو.
خدا کی قسم! اگر میں مسجد رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم میں اس جماعت کے ساتھ ہوتا اور مہاجر و انصار میرے اطراف میں ہوتے تو ان لوگوں میں بات کرنے کی جرأت نہ ہوتی اور وہ یہ ہرزہ سرائی نہیں کر سکتے تھے اور میرے روبرو نہیں ہو سکتے تھے۔اے ایک دوسرے کی مدد کرنے والے گروہ! سن لو؛ میرے حق کو نہ چھپاؤ اور اگر میں باطل پر مبنی بات کروں تو اس کی تصدیق نہ کرو.
اے معاویہ !میرا پہلا خطاب تم سے ہے اور میں صرف تمہاری کچھ برائیوں کو بیان کروں گا ۔ میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ جس شخص (یعنی علی علیہ السلام) کے خلاف تم لوگ ہرزہ سرائی کر رہے ہو؛ یہ وہ شخص ہے جس نے دونوں قبلوں کی طرف پیغمبر صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی جب کہ تم لوگ گمراہی میں مبتلا تھے اور تم لوگ اپنے دو بتوں لات اور عزّی کی عبادت کرتے تھے۔ کیا کوئی ہے جس نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دو مرتبہ بیعت کی ہو ایک مرتبہ بیعت رضوان اور دوسری مرتبہ بیعت فتح۔ اور اے معاویہ! پہلی بیعت کے وقت تم کافر تھے اور دوسری بیعت میں تم نے اپنی بیعت توڑ دی.
پھر آپ نے فرمایا:میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں؛ کیا تم جانتے ہو کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں وہ حق ہے؟میرے بابا نے رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کے ہمراہ تم لوگوں سے بدر کے دن ملاقات كی۔ رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کا علم ان کے پاس ہی تھا جب کہ اے معاویہ تم مشرکین کے علمدار تھے اور لات و عزّیٰ جیسے بتوں کی پوجا کرتے تھے اور رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم سے جنگ کو واجب سمجھتے تھے.احد میں بھی میرے بابا رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ تھے اور تم مشرکین کے علمدار تھے.
میرے بابا نے احزاب کے دن تم لوگوں کے ساتھ ملاقات کی جب کے ان کے پاس رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا پرچم تھا اور تم مشرکین کے علمدار تھے اور ان تمام واقعات میں خدا نے اپنی حکومت کو فتح و ظفر سے نوازا اور ان کی دعوت کو ثابت کیا اور ان کی باتوں کو سچ ثابت کیا اور ان کے پرچم کی مدد کی اور ان تمام مقامات پر پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ان سے راضی و خوشنود تھے جب کہ وہ تم سے ناراض اور غضبناک تھے .
میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں;کیا تم لوگ جانتے ہو کہ جب رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم بنى قريظه اور بنى نضير کا محاصرہ کیا تو عمر کو مهاجرين کا سرکردہ قرار دیا اور پرچم کے ساتھ مہاجرین کو ان سے جنگ کے لئے بھیجا اور سعد بن معاذ کو پرچم دے کر انصار کے ساتھ بھیجا؛ سعد زخمی ہو گئے اور اسے زخمی حالت میں اٹھا کر لے آئے اور عمر وہاں سے بھاگ آیا ،وہ ڈرا ہوا تھا اور اپنے ساتھیوں کو بھی ڈرا رہا تھا اور اس کے ساتھی بھی اسے ڈرا رہے تھے؛ پس رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا: کل میں یہ علم اسے دوں گا کہ خدا اور رسول کو دوست رکھتا ہے اور خدا و رسول بھی اسے دوست رکھتے ہیں، جنگوں میں پے در پے حملہ کرتا ہے اور کبھی دشمن سے بھاگا نہیں اور تب تک واپس نہیں آیا کہ جب تک خدا اسے فتح سے ہمکنار نہ کر دے.
پس عمر، ابوبکر اور ان کے علاوہ مہاجرین و انصار سب اس چیز کے انتظار میں تھے کہ شاید رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم اسے علم سونپ دیں اور اس دن علی علیہ السلام آشوب چشم میں مبتلا تھے۔ پس رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے علی علیہ السلام کو طلب کیا اور ان کے آنکھوں پر اپنا لعاب دہن لگایا جس کے نتیجہ میں آپ صحتیاب ہو گئے اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے آپ کو اپنا علم عطا کیا۔ پس آپ گئے اور خدا نے اپنے فضل و کرم سے انہیں فاتح قرار دیا جب کہ تم اس دن مکہ کے خدا اور اس کے رسول کے دشمن تھے.
کیا خدا اور اس کے رسول کے لئے نصیحت کرنے والے اور خدا اور اس کے رسول کے دشمن برابر ہو سکتے ہیں؟خدا کی قسم! اب تک تمہارے دل نے اسلام قبول نہیں کیا لیکن تمہاری زبان جو کچھ کہتی ہے وہ تمہارے دل میں نہیں ہے.
میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں! کیا تم جانتے ہو کہ جب رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ قسلم غزوۂ تبوک کے لئے جانا چاہتے تھے تو آپ نے انہیں مدینہ میں اپنا خلیفہ قرار دیا اور اس بارے میں منافقین نے باتیں کیں جس کی وجہ سے آپ نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے عرض کیا: یا رسول اللہ! آپ مجھے مدینہ میں نہ چھوڑیں کیونکہ میں اب تک کسی غزوہ میں بھی آپ سے جدا نہیں ہوا.
رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا: تم میرے وصىّ و جانشين ہو کہ جس طرح ہارون موسیٰ کے خلیفہ تھے۔ پس آپ نے علی علیہ السلام کا ہاتھ پکڑا اور فرمایا: جو مجھے اپنا ولی سمجھے اس نے خدا کو اپنا ولی سمجھا، اور جو علی کو اپنا ولی سمجھے اس نے مجھے اپنا ولی سمجھا اور جو میری اطاعت کرے اس نے خدا کی اطاعت کی اور جس نے علی کی اطاعت کی اس نے میری اطاعت کی اور جو مجھے دوست رکھے اس نے خدا کو دوست رکھا اور جو علی کو دوست رکھے اس نے مجھے دوست رکھا.
پھر آپ نے فرمایا: میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے حجّة الوداع کے سفر میں فرمایا: اے لوگو! میں تم میں ایسی چیز باقی چھوڑے جا رہا ہوں کہ جس سے ہرگز گمراہ نہیں ہو گے اور وہ کتاب خدا اور میری عترت و اہلبیت ہے، پس ان کے حلال کو حلا اور ان کے حرام کو حرام سمجھو، ان کے محکم پر عمل کرو اور ان کے متشابہ پر ایمان رکھو اور کہو کہ ہم ہر اس چیز پر ایمان لائے جو خدا نے اس کتاب میں بھیجی ہے اور میری عترت و اہلبیت کو دوست رکھو اور جو انہیں دوست رکھے اسے دوست رکھو اور ان سے دشمنی رکھنے والوں کے خلاف ان کی مدد کرو اور یہ دونوں (قرآن اور اہلبیت) ہمیشہ تمہارے ساتھ ہیں اور روز قیامت میرے پاس حوض کوثر میں وارد ہوں گے.
پس آپ نے اسی حالت میں علی علیہ السلام کو منبر پر بلایا اور آپ کا ہاتھ پکڑ کر کہا: خدایا! جو انہیں دوست رکھے تو اسے دوست رکھ اور جو انہیں دشمن رکھے تو اسے دشمن رکھ۔ خدایا! جو علی علیہ السلام کو دشمن رکھے اس کے لئے زمین پر بیٹھنے اور آسمان میں صعود کی راہ قرار نہ دے اور ان سے دشمنی رکھنے والے کو اسفل السافلین میں قرار دے۔
اور میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کیا تم جانتے ہو کہ رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے علی علیہ السلام کے بارے میں فرمایا:آپ قیامت کے دن میرے حوض (کوثر) سے سیراب کرنے والے ہیں اور آپ اس طرح سے سیراب کریں گے جیسے تم میں سے کوئی آب افتادہ مقام سے دور اپنے اونتوں کو سیراب کرتا ہے؟
اور میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مرض الموت میں وہ یعنی علی علیہ السلام آنحضرت کے پاس گئے تو رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے گريه كیا اور على عليه السلام نے عرض کیا: اے رسول خدا! آپ کس وجہ سے رو رہے ہیں؟
فرمایا: میں تمہارے خلاف اپنی امت کے مردوں کے دلوں میں کینہ کی وجہ سے رو رہا ہوں اور وہ یہ کینہ ظاہر نہیں کریں گے مگر میری موت کے بعد کہ جب میں تم سے دور چلا جاؤں گا؟
اور میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے اپنی حالت احتضار میں(جب آپ اس دنیا سے جا رہے تھے)اپنی اہلبيت کو اپنے پاس جمع کیا اور فرمایا: خدایا! یہ میری اہلبیت اور میری عترت ہے۔ خدایا! اسے دوست رکھ جو انہیں دوست رکھے اور اسے دشمن رکھ جو انہیں دشمن رکھے۔ اور فرمایا: تمہارے درمیان میری اہلبیت کی مثال کشتی ِنوح کی طرح کہ جو اس پر سوار ہو گیا وہ نجات پا گیا اور جس نے روگردانی کی وہ ہلاک ہو گیا۔
اور میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں! کیا تم جانتے ہو کہ رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے انہیں ( یعنی علی علیہ السلام ) کو ولی کے عنوان سے سلام کیا جب کہ ابھی تک رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم زنده تھے؟
اور میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے اصحاب میں على عليه السلام وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے اپنے نفس پر سب خواہشات کو حرام کیا۔ پس خداوند عزوجل نے ان کے حق میں آیت نازل کی جس کا ظاہری مفہوم یہ ہے:
اے ایمان لانے والو! خود پر ان پاکیزہ چیزوں کو حرام نہ کرو جنہیں خدا نے تمہارے لئے حلال فرمایا اور حکم حق سے سرپیچی نہ کرو اور تجاوز نہ کرو کیونکہ خدا تجاوز کرنے والوں کو دوست نہیں رکھتا اور خدا کی دی ہوئی روزی سے کھاؤ جب کہ وہ حلال اور پاکیزہ ہو اور ان کے پاس علم آجال، علم قطع خصومات اور قرآن میں بیان شدہ امور کا علم ہے۔
نیز ایک ایسا گروہ ہے کہ جن کی تعداد دس تک بھی نہیں پہنچتی کہ خدا نے جن کے مؤمن ہونے کی خبر دی ہے اور تم لوگ اس گروہ میں تھے کی جن کی تعداد اس مؤمن گروہ کے برابر تھی یعنی دس افراد کہ جن پر پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لعنت کی ہے پس میں تم لوگوں کے لئے اور تمہارے خلاف یہ گواہی دیتا ہوں کہ تم سب پر خدا نے زبان پیغمبر خدا صلی صلى الله عليه وآله وسلم سے لعنت کی ہے.
اور میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے تمہیں طلب کیا تا کہ بنى خزيمه کے لئے خط لکھو؛ ان تمام مصیبتوں کے بعد جو خالد بن ولید کی طرف سے ان پر وارد ہوئیں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین مرتبہ تمہیں طلب کیا لیکن قاصد تینوں مرتبہ واپس آیا اور اس نے کہا کہ وہ کھانے میں مشغول ہے۔ پس رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے کہا: خدايا! اسے کے پیٹ کو کبھی سیر نہ کرنا۔ اسی وجہ سے تمہاری صفت پرخوری ہے اور تم قیامت تک اس لعنت میں شامل رہو گے.
پھر آپ نے فرمایا:میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں! کیا تم جانتے ہو کہ میں جو کچھ کہہ رہا ہوں سچ کہہ رہا ہوں؟ اے معاویہ! احزاب کے دن تمہارا باپ ایک سرخ اوپٹ پر سوار تھا اور تم اس کے پیچھے تھے اور تمہارا یہ بھائی جو یہاں بیٹھا ہوا ہے یہ اپنے قائد کے آگے تھا۔ پس رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے سات مقامات پر ابوسفیان پر لعنت کی:
پہلا مقام: جب آپ مکہ سے مدینہ کی جانب باہر گئے اور ابوسفیان شام سے آرہا تھا۔ ابوسفیان نے آنحضرت کو ہرزہ کہا اور آپ کو گالی دی اور ڈرایا اور آپ پر بہت سختی کی اور وہ آپ کو قتل کرنا چاہتا تھا لیکن خدا نے آنحضرت سے اس کے شر کو دور کیا.
دوسرا مقام: جس دن شام سے قافلہ واپس آ رہا تھا اور ابوسفیان نے قافلہ کو الگ کر کے راہ سے دور کر دیا.
تیسرا مقام: احد کے دن رسول خداصلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا: خدا ہمارا ولىّ ہے اور تمہارا کوئی ولی نہیں ہے۔ ابوسفیان نے کہا:عُزّى جو کہ ایک بزرگ بت ہے وہ ہم سے مخصوص ہے اور عزّیٰ تم سے مخصوص نہیں ہے،پس خدا، فرشتوں، خدا کے پيغمبروں اور سب مؤمنین نے اس پر لعنت کی.
چوتھا مقام: حنین کے دن اور یہ وہ دن تھا کہ جب ابوسفیان قریش کی ایک جماعت اور قبيله هوازن کے ساتھ آیا اور عُيينه قبيلهٔ غطفان اور يہود کے ساتھ آیا اور خدا نے ان پر اپنا غیظ و غضب کیا اور وہ خیر و خوبی تک نہ پہنچ سکے اور خداوند عزوجل نے قرآن کے دو سوروں میں ابوسفیان اور اس کے اصحاب کو کافروں کا نام دیا۔ اور اے معاویہ! تم اس دن مشرک تھے اور تم مکہ میں اپنے باپ کا نظریہ رکھتے تھے اور اس دن علی علیہ السلام رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کے ساتھ تھے اور آنحضرت کے نظرئے اور دین کے مالک تھے.
پانچواں مقام: جب خدائے عزّوجلّ نے فرمایا کہ قربانی اٹھا لی گئی لیکن تم اور تمہارا باپ اور قریش کے مشرکین رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کے راہ میں مانع بنے۔ پس خدا نے تمہارے باپ پر ایسی لعنت کی جس میں وہ اور اس کی ذریت شامل ہے.
چھٹا مقام: احزاب کے دن کہ جب ابوسفيان قریش کی ایک جماعت کے ساتھ آیا اور عيينه بن حصين بن بدر قبيلهٔ غطفان کے ساتھ آیا کہ رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے ان پر اور ان کے پیروکاروں پر قیامت تک کے لئے لعنت کی۔ پس رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا گیا کہ: کیا ان کے پیروکاروں میں کوئی مؤمن نہیں ہے؟ فرمایا: لعنت مؤمن کو معيوب نہیں کرتی، مؤمن جس کا اتباع کریں اس کو لعنت نقصان نہیں پہنچاتی لیکن ان لوگوں کے پیشواؤں میں کوئی مؤمن نہیں ہے اور نہ ہی ان میں کوئی دعوت حق کو قبول کرنے والا اور نجات پانے والا ہے.
ساتواں مقام:ثنيّه کے دن يعنى عقبه كه جب بارہ افراد نے رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم پر بہت سختی کی كہ جن میں سے ساتھ افراد کا تعلق بنی امیہ سے تھا اور بقیہ پانچ افراد قریش کے دوسرے قبائل سے تھے، پس خداوند تبارك و تعالى اور رسول خداصلى الله عليه وآله وسلم نے لعنت کی کہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سوا جو کوئی بھی عقبه میں داخل ہو وہ راندہ شدہ ہے.
اور میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں! کیا تم جانتے ہو کہ جس دن لوگوں نے عثمان کی بيعت کی تو یہ اس کے پاس مسجد رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم میں گیا اور کہا:اے میرے بھتیجے! یہاں کوئی بیگانہ یا جاسوس تو نہیں ہے؟ کہا: نہیں! پس ابوسفیان نے کہا: اے جوانان بنی امیہ ! خلافت اپنے ہاتھوں میں لے لو۔ اس کی قسم کہ جس کے قبضہ میں ابوسفیان کی جان ہے کہ کوئی جنت اور دوزخ نہیں ہے.
اور میں تمہیں خدا کی قسم دیتا ہوں کہ کیا تم جانتے ہو کہ جس دن لوگوں نے عثمان کی بیعت کی تو ابو سفيان نے حسين عليه السلام کا ہاتھ پکڑ کر کہا تھا: اے میرے بھتیجے! چلو ہم ایک ساتھ بقیع چلتے ہیں اور پھر وہ وہاں سے باہر نکل گیا اور قبروں کے درمیان کھرے ہو کر بلند آواز سے کہنے لگا: اے اہل قبور! تم نے خلافت پر ہم سے جنگ کی اور اب خلافت ہمارے پاس آ گئی ہے اور تم لوگ زیر خاک بوسیدہ ہو چکے ہو۔ پس حسين بن على عليهما السلام نے فرمایا: خدا تمہارے چہرے کے سفید بالوں کو زشت اور برا قرار دے۔ پھر آپ نے اپنا ہاتھ چھرایا اور اسے چھوڑ کر چلے آئے اور اگر نعمان بن بشير نہ ہوتا کہ جو اس کا ہاتھ پکڑتا تو وہ حتمی طور پر ہلاک ہو جاتا.
اے معاويه! یہ ہیں تمہارے کردار کی برائیاں۔ کیا تم ان چیزوں رد کر سکتے ہو اور ہماری طرف پلٹا سکتے ہو اور یہ چیزیں تمہارے لئے لعنت کا باعث ہیں۔ اور جب تمہارے باپ نے مسلمان ہونا چاہا تو تم نے اپنے مشہور اشاعر کہے کہ جو قریش اور ان کے علاوہ دوسرے لوگوں میں معروف ہیں کہ تم نے اسے مسلمان ہونے سے روکنے کے لئے اسے لکھے تھے.
تم جن چیزوں کی وجہ سے لعنت کے مستحق ہو ان میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب عمر بن خطّاب نے تمہیں شام کا حاکم بنا دیا تو تم نے اس سے خیانت کی اور جب عثمان نے تمہیں حاکم بنایا تو تم اس کی موت کا انتظار کر رہے تھے اور ان سب سے برھ کر تم نے خدا اور اس کے رسول کے خلاف جرأت دکھائی اور علی علیہ السلام سے جنگ کی جب کہ تم انہیں جانتے تھے اور خلافت کے سلسلہ میں ان کے علم و فضل اور شائستگی کو جانتے تھے کہ وہ تم سے اور تمہارے علاوہ دوسرے لوگوں کی بنسبت خدا اور لوگوں کے نزدیک خلافت کے زیادہ حق دار تھے لیکن اس کے باوجود تم نے انہیں اذٰت پہنچائی اور لوگوں پر امر مشتبہ کر دیا اور فریب و مکاری اور دھوکہ دہی سے خدا کی مخلوق کا خون بہایا اور یہ اسی شخص کا کام ہو سکتا ہے جو قیامت سے نہیں ڈرتا اور جسے عذاب الٰہی سے ڈر نہیں لگتا اور جب دنیا میں تمہاری مدت تمام ہو جائے تو تمہارے لئے بدترین مقام ہو گا اور علی علیہ السلام بہترین مقام پر منتقل ہوں گے اور خدا تمہاری کمین میں ہے.
اے معاويه! یہ ہیں تمہاری برائیاں؛ جو صرف تم سے مخصوص ہی اور میں تمہاری تمام برائیوں اور عیبوں کو بیان کرنا اور بات کو طول دینا پسند نہیں کرتا.
اور اے عمرو بن عثمان! تم اپنی نادانی کی وجہ سے جواب سننے کے لائق نہیں ہو کہ تم ایسے کاموں میں پڑھو۔ تمہاری مثال ان مکھی کی طرح ہے جو کجھور کے درخت سے کہے: اپنی حفاظت کرنا تا کہ میں تم سے نیچے اتر آؤ اور اس کے جواب میں کجھور کا درخت کہے میں اب آرام سے ہوں اور میں یہ نہیں سمھ سکا کہ تمہارا نیچے آنا میرے لئے مشقت کا باعث ہو۔ خدا قسم اے پسر عثمان! میں نیہں جانتا تھا کہ ہم ایسی جسارت اور گستاخی کرو گے اور مجھ سے دشمنی کرو گے۔ تمہاری یہ جسارت مرے لئے باعث مشقت ہے اور میں تمہارے جواب میں یہ کہتا ہوں:
کیا تمہارا على عليه السلام کو گالی دینا ان کے حسَب میں کوئی نقص وارد کرتا ہے؟ کیا یہ انہیں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دور کرتا ہے ؟ یا یہ کہ انہوں نے اسلام میں برے امتحان دیئے یا حکم کرنے میں ظلم و جور کیا یا وہ دنیا کی طرف مائل تھے۔ پس اگر تم ان کے حق میں کوئی ایک بات بھی کہو تو تم جھوٹ بول رہے ہو۔
اور تم نے یہ جو کہا ہے کہ تم بنی امیہ کے مشرکین کے انیس افراد کے خون کی ولایت رکھتے ہو کہ جو جنگ بدر میں قتل ہو گئے تھے تو جان لو کہ انہیں خدا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قتل کیا ہے ۔ اور مجھے میری جان کی قسم ہے کہ بنی ہاشم میں سے انیس افراد کو قتل کرو گے اور انیس افراد کے بعد مزید تین افراد کو قتل کرو گے اور اس کے بعد بنی امیہ کے انیس اور انیس یعنی اڑتیس افراد ایک ہی جگہ قتل ہوں گے اور یہ اس کے علاوہ ہے کہ جو بنی امیہ کا قتل عام ہو گا کہ جن کی تعداد خدا کے علاوہ کوئی نہیں جانتا.
اور رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا ہے کہ: جب بُزمجه (سام ابرص) کے بیٹوں میں ان کے مردوں کی تعداد تیس تک پہنچ جائے تو وہ خدا کے مال کو اپنی حکومت میں قرار دیں گے اور خدا کے بندوں کو اپنا غلام بنائیں گے اور کتاب خدا سے مکر و حیلہ کریں گے اور جب ان کی تعداد تین سو دس افراد تک پہنچ جائے تو ان کے لئے لعنت ثابت ہو جائے گی اور یہ ان کے ضرر میں ہو گا اور جب چار سو پچھتر تک پہنچ جائیں تو ان کا ہلاک ہونا ایک کھجور کھانے سے بھی زیادہ آسان ہے اور سریع ہے۔ اسی وقت حكم بن ابى العاص داخل ہوا تو رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا: آہستہ بات کرو کہ بُزمَجّه سن لے گا اور رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کلمات تب کہے کہ جب آپ نے خواب میں دیکھا تھا کہ ان کی رحلت کے بعد وہ مالک بن جائیں گے اور ان میں سے وہ امت کے امور کے والی و حاکم بن جائیں گے۔ آنحضرت پر یہ سخت ناگوار گزرا اور آپ پریشان ہوئے یہاں تک کہ خداوند عزوجل نے آیت نازل کی کہ جس کا مفہوم کچھ یوں ہے: «ہم نے تمہیں جو خواب دکھایا ہے ، وہ صرف لوگوں کے لئے امتحان ہے »اور قرآن میں شجر ملعونہ سے مراد بنى اميّه ہیں اور نیز خدا نے یہ آیت نازل فرمائی: «شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے»، پس ہم تمہارے لئے گواہی دیتے ہیں اور تمہارے نقصان کی شہادت دیتے ہیں کہ علی علیہ السلام کے قتل کے بعد تمہاری سلطنت کا دور باقی نہیں رہے گا مگر ہزار ماہ اور خدا نے یہ مدت اپی کتاب میں بیان کی ہے.
اور اے عمرو بن عاص! تم کینہ رکھنے والے، لعنت شده اور خیر سے جدا شدہ ہو۔ تمہاری کوئی عاقبت نہیں ہے۔ پہلے تم ایک پاگل کتے تھے اور تمہاری ماں زانیہ تھی اور مشترک ازدواج کی پیداوار ہو اور تمہارے لئے قریش کے مردوں نے ایک دوسرے سے اختلاف کیا جن میں ابوسفيان، بن حرب ، وليد بن مغيره، عثمان بن حرث ، نضر بن حرث بن كلده اور عاص بن وائل شامل تھے جن میں سے ہر کوئی یہ دعویٰ کر رہا تھا کہ تم اس کے بیٹے ہو اور اس اختلاف میں ان لوگوں پر قریش میں سے وہ شخص غالب آیا کہ جس کا حسب پست تر اور جس کا منصب خبیث تر اور جو سب سے زیادہ گمراہ تھا اور تم وہ ہو جس نے یہ خطبہ پڑھا تھا اور کہا تھا کہ محمد وہ شخص ہے کہ جس کا کویہ بیٹا نہیں ہے اور جب وہ مر جائے گا تو اس کا ذکر بھی زبان پر نہیں آئے گا۔ پس خداوند تبارک و تعالی نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخاطب قرار دیتے ہوئے آیت نازل کی کہ تم سرزنش شدہ اور خیر سے جدا شدہ ہو اور جو بیٹا نہ ہونے کی وجہ سے تمہاری سرزنش کر رہا ہے اس کے پیچھے کوئی نہیں رہے گا۔ اور تمہاری ماں عبد قيس کے پاس جاتی تھی اور اس سے درخواست کرتی تھی کہ وہ اس سے زنا کرے، وہ ان کے گھروں میں ان کے مردوں کے ساتھ زنا کرنے کے لئے آتی تھی ۔ تم ہر جنگ میں پیغمبر کے دشمن تھے اور تم پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سب سے شدید اور سخت دشمن تھے اور تم نے سب سے زیادہ رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کی تكذيب کی ،اور تم نے اصحاب کو قتل کیا اور تم نجاشی کے غضب کی آگ کو بھڑکانے اور جعفر بن ابیطالب اور تمام مہاجرین کا خون بہانے کے لئے اس کے پاس حبشہ گئے۔ لیکن تم اپنے بچھائے ہوئے جال میں خود پھنس گئے اور وہاں سے واپس چلے آئے۔ تمہاری کوششیں خاک میں مل گئیں ،تمہاریں آرزوئیں باطل اور باتیں جھوٹی ثابت ہوئیں اور خدا نے کفار کے کلمات کو پست قرار دیا اور اپنے کلمہ کو برتری دی.
اور تم نے جو کچھ عثمان کے بارے میں کہا ہے:اے وہ شخص کہ جس میں حیاء اور دین کی کمی ہے اور تم آگ کی چنگاری کو ہوا دے کر خود فلسطین بھاگ گئے تھے اور تم اپنے اس کام کے انجام کے منتظر تھے اور جب تم تک اس کے قتل کی خبر پہنچی تو تم نے خود کو معاویہ کے لئے وقف کر دیا اور اپنے دین کو اس کی دنیا پر فروخت کر دیا ۔ اور ہم وہ نہیں ہیں جو ہم سے رکھنے والی دشمنی اور کینہ کی وجہ سے تمہاری ملامت کریں اور تمہاری سرزنش کریں تا کہ تم ہمارے دوست بن جاؤ.
تم جاہلیت اور اسلام میں ہمیشہ بنی ہاشم کے دشمن تھے۔ تم نے پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا مذاق ارانے کے لئے اشعار کے ستر مصرع کہے تھے اور رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا:میرے لئے شعر کہنا بہتر نہیں ہے اور میرے لئے سزاوار نہیں ہے کہ میں شعر کہوں۔ خدایا! تو عمرو بن عاص کے شعر کے ہر مصرع کے لئے اس پر ہزور مرتبہ لعنت کر۔
اے عمرو! تم وہی ہو جس نے اپنے دین کو دنیا کے مقابلہ میں بیچ دیا اور تم ہی نجاشی کے لئے تحائف لے کر گئے اور جب تم اس کے پاس سے ناامید اور ذلیل و خوار ہو کر واپس لوٹے ۔ لیکن تمہارے لئے یہ ذلت و خواری اور ناامیدی کافی نہیں تھی لہذا تم دوبارہ اس کے پاس گئے اور دونوںمرتبہ مغلوب اور حسرت زدہ واپس چلے گئے حالانکہ تم جعفر اور ان کے ساتھیوں کی موت چاہتے تھے لیکن جب تمہارا تیر نشانہ پر نہ لگا اور تمہاری امید رنگ نہ لائی تو تم نے جعفر اور ان کے ساتھیوں کی موت کی ذمہ داری اپنے دوست عمارہ بن ولید کو سونپ دی.
اور اے وليد بن عقبه! خدا کی قسم میں تمہاری ملامت نہیں کروں گا کہ تمہارے دل میں علی علیہ السلام کے لئے کیوں بغض و کینہ ہے۔ کیونکہ شراب پینے کی حد جاری کرتے ہوئے انہوں نے تمہیں اسّی کوڑے مارے تھے اور بدر کے دن تمہارے باپ کو قتل کیا تھا۔ ہاں! تم کس طرح انہیں گالی دے رہے ہو؟ حالانکہ خدا نے قرآن کی دس آیتوں میں انہیں مؤمن کہا ہے اور یہ قول خداوند عزوجل ہے کہ: «کيا مؤمن اور فاسق برابر ہیں» دوسرے مقام پر فرمایا: «اگر تمہارے پاس کوئی فاسق خبر لے کر آئے تو اس کے بارے میں تحقیق کرو کہ کہیں نہ جاننے کی وجہ سے کسی گروہ کو نقصان نہ پہنچائے، پس صبح کرو اور اپنے کئے پر پشیمان ہو».
تمہیں قریش سے کیا کام ہے جو تم انہیں یاد کر رہے ہو۔ تم تو اہل صفوریہ میں سے عجمی کفار کے بیٹے ہو کہ جس کا نام ذکوان ہے۔ اور تمہارا یہ جو خیال ہے کہ ہم نے عثمان کو قتل کیا ہے؟ ذات خدا کی قسم! طلحہ و زبیر اور عائشہ میں اتنی طاقت و قدرت نہیں تھی کہ وہ علی بن ابی طالب علیہما السلام کے بارے میں یہ بات کرتے؟ تم نے کس طرح یہ بات کی ہے؟ تم اپنی ماں سے پوچھو کہ تمہارا باپ کون تھا؟ اس نے ذکوان کو چھوڑنے کے بعد تمہیں عقبہ بن ابی معبط سے چپکا دیا تا کہ اپنے لئے بلند اور رفیع مقام حاصل کر سکے حالانکہ خدا نے تمہارے اور تمہارے ماں باپ کے لئے دنیا و آخرت میں ننگ و عار رکھا ہے اور خدا اپنے بندوں پر ظلم نہیں کرتا.
اے وليد! تم عقبہ کے منہ بولے بیٹے ہو اور تم اس کے صلبی بیٹے نہیں ہو۔ تم کس طرح علی علیہ السلام کو دشنام دے رہے ہو؟ جاؤ اپنے باپ سے اپنی نسبت ثابت کرو کہ تم ذکوان کے بیٹے ہو نہ کہ عقبہ کے اور اسی وجہ سے تمہاری ماں تمہیں کہا کرتی تھی:اے میرے بیٹے! تمہارا باپ عقبہ سے زیادہ لئیم اور خبیث تھا.
اور تم اے عُتبه بن ابى سفيان! خدا کی ذات کی قسم! تم محکم اور خلل ناپذید شخص نہیں ہو کہ جو میں تمہیں جواب دوں، تم عام نہیں ہو کہ میں تمہاری سرزنش کروں اور اہل خیر نہیں ہو کہ تم سے امید رکھوں اور اگر تم علی علیہ السلام کو دشنام دو تو میں اس پر تمہاری سرزنش نہیں کروں گا کیونکہ تم تو علی علیہ السلام کے غلام کے بھی برابر اور ہم وزن نہیں ہو ۔ لیکن خدائے عزوجل تمہارے اور تمہارے ماں باپ کی کمین میں ہے اور تم اس باپ کی ذریت ہو جن کے بارے میں خدا نے قرآن میں فرمایا ہے کہ وہ عمل کرنے اور رنج اٹھانے والے ہیں اور وہ اس آگ میں جلیں گے جو نہات گرم اور جلانے والی ہے اور انہیں اس چشمہ سے سیراب کیا جاے گا جس کا پانی انتہائی گرم اور جلانے والا ہے اور ان کی خوراک آگ کے کانٹے ہوں گے، صبر سے زیادہ تلخ، مردار سے زیادہ بدبودار اور اس کی گرمی آگ سے زیادہ ہو گی اور وہ دنیاوی کانٹوں کی طرح ہوں گے اور نہ ہی تو ان سے بھوک مٹے گی.
اور یہ کہ تم مجھے موت سے ڈراتے ہو! تم نے اسے کیوں نہیں قتل کیا جو تمہارے بستر پر تمہاری بیوی سے ہمبستر ہوا تھا، اور جو اس کی شرمگاہ میں دخول کرنے میں تم پر غالب آ گیا اور اپنے فرزند میں تمہارے ساتھ شریک ہو گیا تا کہ وہ زنازادہ کو تمہارے ساتھ ملحق کر دے کہ جس کا نطفہ تم سے نہیں تھا؟ وای ہو تم پر! اگر تم اس کے بارے میں سوچتے، اس کا خون طلب کرتے اور اسے قتل کرتے تو بہتر تھا اور یہ کام مجھے قتل کرنے اور قتل سے ڈرانے سے زیادہ بہتر تھا، میں تمہاری سرزنش نہیں کروں گا کہ تم علی علیہ السلام کو دشنام دے رہے ہو کیونکہ انہوں نے تمہارے بھائی کو جنگ میں قتل کیا اور وہ تمہارے جد کے قتل میں حمزہ بن عبد المطلب کے ساتھ شریک تھے اور خدا نے ان کے ہاتھ سے ان دونوں کو واصل جہنم کیا اور انہیں دردناک عذاب کا مزہ چکھایا اور میرے بابا نے تمہارے چچا کو رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے حکم پر ملک بدر کر دیا تھا.
اور یہ کہ میں خلافت کی امید رکھتا ہوں؛ اس عمر کی قسم جو خدا نے مجھے عطا کی ہے ! اگر مجھے اس کی امید ہے تو یہ میرا مسلم حق ہے اور میں نے کئی مرتبہ یکے بعد دیگرے اسے طلب کیا ہے۔ لیکن تم اپنے بھائی کی طرح اور اپنے باپ کے جانشین نہیں ہو کیونکہ تمہارا بھائی تم سے زیادہ خدا کے حکم کی نافرمانی اور اس کے مقابلہ میں زیادہ سرکش تھا اور مسلمانوں کا خون بہانے کے لئے تم سے زیادہ جستجو کرتا تھا اور یہ کہ تم اس کے لائق نہیں ہو یعنی خلافت مکر و فریب سے حاصل ہوتی ہے کیونکہ اس میں لوگوں کو دھوکہ دیتے ہیں ان سے مکر کرتے ہیں تو خدا بھی مکر کرتا ہے اور خدا مکر کرنے میں سب سے بہتر ہے۔
اور تم نے یہ جو کہا ہے کہ على عليه السلام قريش میں سب سے بدترین ہیں تو ذات خدا کی قسم! انہوں نے کسی رحمت شدہ کو خوار نہیں کیا اور کسی مظلوم کو قتل نہیں کیا.
اور تم اے مغيره بن شعبہ! تم خدا کے دشمن، اس کی کتاب کو پس پشت ڈالنے والے اور اس کے پیغمبر کی تکذیب کرنے والے ہو۔ تم وہ زانی ہو کہ تمہیں سنگسار کرنا واجب ہو گیا تھا اور تمہارے خلاف ان اشخاص نے گواہی دی کہ عادل، نیک اور پرہیزگار تھے اور زنا کرنے کی وجہ سے تمہارے سنگسار ہونے میں تأخیر ہو گئی اور جھوٹی اور غط باتوں سے سچی باتوں کو رد کر دیا گیا اور تم سے سنگسار کی حد کو برطرف کر دیا گیا اور اسی وجہ سے خدا نے تمہارے لئے دردناک عذا مہیا کی ہے اور تمہیں دنیا میں خوار کیا ہے اور یقیناً آخرت کا عذاب اس سے زیادہ خوار کرنے والا ہے.
اور تم نے فاطمه عليها السلام بنت رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کو طمانچے مارے تھے یہاں تک کہ ان کا بچہ شکم یں سقط ہو گیا اور یہ تمہارے خلاف رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کا استدلال تھا اور یہ ان کے حکم کی مخالفت و نافرمانی تھی اور اس سے تم نے ان کے احترام کو پامال کیا، حالانکہ رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا: اے فاطمه! آپ ااہل جنت عورتوں کی سردار ہیں.
واللَّه اے مغيره! تم آتش جہنم میں جاؤ گے اور خدا تمہیں اس میں جگہ دے گا، پس تم ان تین امور میں سے کس کی وجہ سے على عليه السلام کو دشنام دے رہے ہو؟ کيا ان کی نسبت میں کوئی نقص ہے؟ کیا وہ پیغمبر خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے دور ہیں؟ کیا نہوں نے اسلام میں ان کا امتحان برا تھا یا انہوں نے ظلم پر مبنی حکم دیا یا وہ دنیا کی طرف مائل تھے؟ تم ان میں سے جو بھی کہو تو تم نے جھوٹ بولا ہے اور لوگ تمہیں جھٹلائیں گے.تم یہ گمان کر رہے ہو کہ على عليه السلام نے عثمان کو مظلومانہ طور پر قتل کر دی۔ خدا کی قسم! علی علیہ السلام اس بارے میں ملامت کرنے والوں سے زیادہ پرہیزگار اور پاکیزہ ہیں۔ مجھے میری جان کی قسم! اگر فرض کریں کہ علی علیہ السلام نے عثمان کو مظلومانہ طور پر قتل کیا ہے تو اس بارے میں تمہاری کوئی حیثیت نہیں ہے ۔ نہ تم نے اس کی زندگی میں اس کی مدد کی اور نہ موت کے بعد۔ تمہارا گھر ہمیشہ طائف میں تھا اور تم ہمیشہ زانیہ عورتوں کے پیچھے ہوتے تھے اور تم امر جاہلیت کو زندہ کرتے تھے اور اسلام کو مار دیتے تھے اور پھر گذشتہ دنوں میں جو ہونا تھا وہ ہو گیا.
اور جہاں تک بنی ہاشم اور بنی امیہ کے بارے میں اعتراض کی بات ہے تو یہ دعویٰ معاویہ پر کرو.
اور تم نے جو کچھ خلافت اور حکومت کے بارے میں کہا ہے اور جو کچھ تمہارے ساتھی ملک کے مالک بن جانے کے بارے میں کہہ رہے ہیں تو فرعون بھی چار سو سال تک مصر کا مالک اور حمکران تھا اور موسیٰ و ہارون عليهما السلام دو پيغمبر مرسل تھے اور اس سے اذیت کا سامنا کرتے تھے۔ حکومت صرف خدا کی حکومت ہے اور وہ نیک اور فاجر میں سے جسے چاہے عطا کر دیتا ہے۔ اور خدا نے یوں فرمایا ہے اور میں نہیں جانتا شاید یہ تمہارے لئے امتحان ہو اور شاید یہ کچھ مدت کے لئے اس سے بہرہ مند ہونے کے لئے ہو اور خدا فرماتا ہے: «جب بھی کسی شہر کے لوگوں کا ارادہ تو ہم ان میں سے سرکش اور ظالمنوں کو اطاعت کا حکم دیتے ہیں پس وہ اس شہر میں نافرمانی کرتے ہیں اور ان کے لئے سختی سے عذاب و ہلاکت کا حکم کرتے ہیں».
پھر امام حسن عليه السلام کھڑے ہوئے اور آپ نے اپنے لباس کو جھٹکا اور فرمایا:
خبیث عورتیں خبیٹ مردوں کے لئے ہیں اور خبیٹ مرد خبیث عورتوں کے لئے ہیں ۔ اے معاویہ! خدا کی قسم!یہ تم ، تمہارے یہ ساتھی اور تمہارے پیروکار ہیں۔ اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لئے ہیں۔ اس گروہ سے بیزار ہیں اور اس سے مبرا ہیں اور خیر علی بن ابیطالب علیہما السلام ،اور آپ کے ساتھیوں اور شیعوں کے لئے ہے.
پھر آپ باہر چلے گئے اور معاویہ سے فرمایا:اب تم اس کا مزہ چکھو جو تمہارے ہاتھوں نے کمایا ہے اور جو تم نے ظلم کئے ہیں اور خدا نے جس چیز کا وعدہ دیا کہ تمہیں دنیا میں ذلیل و خوار کرے گا اور آخرت میں دردناک عذاب دے گا.
پس معاويه نے اپنے ساتھیوں سے کہا:اب تم بھی اس چیز کا مزہ چکھو کہ جو تم نے ظلم کیا ہے.
وليد بن عقبه نے کہا: خدا کی قسم! ہم نے اس طرح مزہ نہیں چکھا کہ جس طرح تم نے چکھا ہے.
معاويه نے کہا: کیا میں نے تم سے نہیں کیا تھا کہ تم ہرگز اس شخص پر کوئی نقص و عیب ثابت نہیں کر سکتے ؛ تم نے کیوں میری اطاعت نہیں کیا۔ تم نے انہیں رسوا کرنا چاہا لیکن انہوں نے تم سب کو ذلیل و رسوا کر دیا۔ خدا کی قسم!انہوں نے میرے لئے گھر کو تاریک کر دیا ہے ۔ مجھ میں ہمت آٗی تھی کہ ان پر حملہ کروں اور اس دن کے بعد ان پر سختی کروں اور آج کے بعد تمہارے لئے خیر نہیں ہے.
(راوى نے کہا: ) مروان حكم نے معاویہ اور اس کے ساتھیوں سے امام حسن عليه السلام کے مناظرہ کا واقعہ سنا تو وہ ان کے پاس آیا جب کہ وہ سب گھر میں تھے اور ان سے کہا: حسن (عليه السلام) کا واقعہ کیا ہے؟ میں نے سنا ہے کہ وہ بہت بانشاط انداز سے مجلس سے باہر گئے ہیں.
اس کے لئے اس واقعہ کو بیان کیا گیا تو اس نے کہا: تم لوگوں نے مجھے کیوں نہیں بلایا۔ خدا کی قسم میں انہیں، ان کے باپ اور اہلبیت کو دشنام دیتا کہ جس پر غلام اور کنیزیں بھی اس پر گائیں گی.
معاويه اور اس کے اصحاب نے کہا: تم سے کوئی چیز فوت نہیں ہوئی کیوکہ جب جانتے ہیں کہ مروان بے شرم، بدزبان اور گالیاں دینے والا ہے.
مروان نے کہا: اے معاويه! کسی کو بھیجو تا کہ وہ حسن بن على (عليهما السلام) کو لے آئے.
اور جب معاویہ کا بھیجا ہوا شخص آپ کے پاس آیا تو آپ نے فرمایا:
یہ سرکش باغی و طاغی مجھ سے کیا چاہتا ہے؟ خدا کی قسم! اگر انہوں نے اپنی گذشتہ باتوں کو دہرایا تو میں ان ان کے کان ایسی چیزوں سے اس طرح سے سنگین کر دوں کا کہ پھر قیامت تک ان کے لئے ننگ و عار اور ذلت و خواری کے سوا کچھ باقی نہیں رہے گا.
پس امام حسن عليه السلام اس کے پاس گئے اور اس مجلس کو اسی حالت میں دیکھا کہ جیسے اسے چھوڑ کر گئے تھے مگر یہ حاضرین میں مروان کا اضافہ ہو گیا تھا۔ پس حضرت امام حسن عليه السلام اس تخت پر بیٹھ گئے کہ جہاں معاويه اور عمرو بن عاص بیٹے ہوئے تھے اور آپ نے معاویہ سے فرمایا:تم نے کس لئے مجھے طلب کیا ہے؟
معاویہ نے کہا: میں نے آُ کو طلب نہیں خیا بلکہ آپ کو مروان نے طلب کیا ہے.
پس مروان نے کہا: اے حسن! تم قریش کے مردوں کو دشنام دے رہے ہو؟
امام حسن علیہ السلام نے فرمایا:اب کیا چاہتے ہو؟
مروان نے کہا: خدا کی قسم! میں تمہیں، تمہارے پدر اور اہلبیت کو ایسے دشنام دوں گا کہ گانے والے غلام اور کنزیں بھی اس پر گانا گائیں گے.
پس حضرت امام حسن عليه السلام نے فرمایا:اے مروان! تم یہ جان لو کہ میں تمہیں اور تمہارے باپ کو گالی نہیں دوں گا لیکن خدائے عزوجل نے تم پر، تمہارے باپ، تمہاری اہلبیت اور ذریت اور قیامت تک تمہارے باپ کے صلب سے آنے والی اولاد پر پیغمبر کی زبان سے لعنت کی ہے۔ ذات خدا کی قسم! اے مروان! نہ تو تم اس کا انکار کرتے ہو اور نہ کوئی اور اس کا نکار کرتا ہے کہ جو وہاں موجود تھے اور جنہوں نے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی زبان سے تمہارے اور تمہارے آباء و اجداد کے لئے اس لعنت کو سنا۔ اور بیشک خدا اور اس کے رسول کا قول سچ ہے.
خداوند تبارك و تعالى نے فرمایا ہے: «وَالشَّجَرَةَ الْمَلْعُونَةَ فِى الْقُرْآنِ وَنُخَوِّفُهُمْ فَمَا يَزِيدُهُمْ إِلَّا طُغْيَاناً كَبِيراً»(2873).
اے مروان! تو اور تمہاری ذریت قرآن میں وہ شجر ملعونہ ہے اور یہ رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم ، جبرئيل اور خدائے عزّوجلّ کی جانب سے ہے.
پس معاويه اپنی جگہ سے کھڑا ہوا اور امام حسن عليه السلام کے منہ پر ہاتھ رکھ کر کہا: اے ابو محمّد! تم فحّاش( گالیاں دینے والے) اور بى عقل نہیں تھے.
اس کے بعد حضرت امام حسن عليه السلام نے اپنے لباس کا جھٹکا اور اپنی جگہ سے اٹھ کر مجلس سے باہر چلے گئے اور وہ سب لوگ غصہ کے عالم میں دنیا و آخرت کی رو سیاہی اور ذلت و خواری کے ساتھ وہاں سے اٹھ کر چلے گئے.(2874)
2873) سوره اسراء، آيه 60.
2874) كنوز الحكم وفنون الكلم: 51 - 79.
منبع: معاویه ج... ص ....








