حضرت فاطمه معصومه سلام الله عليها کے بارے میں مطلب
**********************************************
۲۳ ربيع الاوّل؛ امام موسى كاظم علیه السلام کی بیٹی حضرت فاطمۂ معصومہ علیہا السلام کا شہر قم میں آنا (سنہ ۲٠۱ ہجری)
**********************************************
حضرت فاطمه معصومه عليها السلام
شفاعت کرنے کے بارے میں ایک اہم نکتہ
یہاں حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام کی شیعوں اور محبوں کے لئے شفاعت کے بارے میں ایک اہم نکتہ بیان کرتے ہیں۔
حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام دو جہات سے عظیم معنوی شخصیت رکھتی ہیں۔
١۔ حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام ؛ائمہ اطہار علیہم السلام سے انتساب اور ان کا معصومین علیہم السلام سے نزدیکی نسب،کیونکہ حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام امام کی بیٹی ،امام کی بہن،امام کی پھوپھی ، امام کی نواسی اور....ہیں۔ہم ان کی زیارت میں پڑھتے ہیں؛
اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ ... اَلسَّلامُ عَلَيْكِ يا بِنْتَ مُوسَى بْنِ جَعْفَرٍ.
٢۔ حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام معصومین علیہم السلام سے ظاہری نسبت اور قرب کے علاوہ ان کا معصومین علیہم السلام سے معنوی قرب بھی قابل غور ہے۔
یہ نکتہ توجہ اور دقت کے قابل ہے کہ عظیم الشأں امامزادوں میںقرب نسبی اور ظاہری کے لحاظ سے بہت سے افراد حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام کی مانند ہیں،لیکن قرب معنوی اور باعظمت روحانی شخصیت کے لحاظ سے کوئی بھی حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام کی مانند نہیں ہے۔
اب قابل غور نکتہ یہ ہے کہ حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام کا یہی معنوی قرب اور باطنی مقام ان کے مقام شفاعت کا سبب ہے۔
حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام کی زیارت اوران کی شخصیت کے بارے میں حضرت امام رضا علیہ السلام کے فرامین پر غور کرنے سے ہم اس حقیقت تک پہنچ سکتے ہیں کہ حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام خاندان عصمت و ولایت علیہم السلام کے ساتھ انتساب کے لحاظ سے عظیم معنوی شخصیت کے علاوہ خود بھی مقام ولایت رکھتی ہیں۔
حضرت امام رضا علیہ السلام نے ان کی معصومین علیھم السلام سے نسبت کو بیان فرمایا تا کہ سب سمجھ جائیں کہ حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام شفاعت کے عظیم مقام کی مالک ہیں۔یہ نکتہ اس بات پر دلالت نہیں کرتا کہ حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام کاصرف ائمہ اطہار علیہم السلام سے نزدیکی رشتہ ہے بلکہ یہ حکم دیا گیا کہ زائرین یوں کہیں: «يا فاطمة؛ اشفعي لى في الجنّة» ، اور حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام سے شفاعت کا تقاضا کریں۔
نیز یہ نکتہ بھی توجہ کے قابل ہے کہ یہ جملہ«يا بنت رسول اللَّه» یا پھر «يا بنت أميرالمؤمنين و...» سے شروع نہیں ہوا کہ زائرین اس وجہ سے ان سے شفاعت طلب کریں ،کیونکہ یہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی یا امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بیٹی ہیں،بلکہ اس جملہ«يا فاطمة؛ إشفعي» کے ذریعہ خود حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام سے شفاعت طلب کی گئی ہے۔حضرت امام رضا علیہ السلام نے اس تعبیر میں جو لطافت استعمال کی ہے اور اس کے ذریعہ انہوں نے ہمیں یہ سمجھا دیا ہے کہ ان کا سب کے لئے شفاعت جیسا عظیم مقام صرف خاندان وحی علیہم السلام سے انتساب کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ یہ عظیم خاتوں خود شخصاً یہ مقام رکھتی ہیں۔
اس حقیقت کو مزید آشکار کرنے کے لئے زیارت کے کچھ اور جملوں کوبیان کرتے ہیں۔
«فإنّ لكِ عنداللَّه شأناً من الشّأن»
یہ جملہ اس حقیقت وواقعیت کو بیان کرنے کے لئے ہے کہ حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام خدا کے نزدیک قرب الٰہی اور ولایت کی شان کی مالک ہیں۔
اس بناء پر جیسا کہ ہم اس زیارت میں دیکھتے ہیں کہ زیارت میں رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بیٹی ، امیرالمؤمنین علیہ السلام کی بیٹی یا امام کی بہن اور پھوپھی جیسے جملات سے حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام کی توصیف بیان کی گئی ہے۔ لیکن جب ان سے شفاعت کی درخواست کا مرحلہ آتا ہے تو زیارت کی تعبیر بدل جاتی ہے اور گذشتہ عبارات کی بجائے حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام کا نام لیا جاتا ہے اور آپ کا نام لے کر آپ سے شفاعت اور جنت میں داخل ہونے کا تقاضا کیا جاتا ہے۔
جس طرح حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام قیامت کے دن لوگوں کو قیامت کے پرخطر واقعہ سے نجات دلا کر انہیں جنت کی طرف بھیجیںگی اسی طرح غیبت کے زمانہ میں بھی یہ شان و منزلت رکھتی ہیں کہ وہ لوگوں کو زمانۂ غیبت کی مشکلات سے نجات دلائیں اور خدا کی بارگاہ میں مقام شفاعت کی وجہ سے سب کو مشکلات اور مصائب سے نجات دلائیں اور یہ امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کے ظہور کے لئے واسطہ بنیں۔
یہ واضح سی بات ہے کہ جب حضرت فاطمه معصومه عليہا السلام یہ مقام و منزلت رکھتی ہیں تو پھر چودہ معصومین علیہم السلام بدرجہ ٔ اولیٰ یہ مقام رکھتے ہیں۔
اس بناء پر زائرین پر لازم ہے کہ وہ اس نکتہ پر توجہ کریں کہ جب باعظمت معنوی مقامات سے مشرّف ہوں تو فقط اپنی نجات کے لئے ہی نہیں بلکہ دنیا اور دنیا والوں کی نجات اور کائنات پر ولایت کی شمع کے روشن ہونے کے لئے بھی دعا کریں اور اس درخواست کو اپنی بنیادی اور سب سے اہم حاجت قرار دیں تاکہ انشاء اللہ حضرت امام مہدی عجل اللہ فرجہ الشریف کی آفاقی حکومت کے شاہد بن سکیں اور اسی دنیا میں بہشت موعود کا نظارہ کر سکیں۔
منبع: صحيفه رضويه ص ۵۵۵








