امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
سقیفہ میں داڑھی نوچنے سے تلوار اٹھانے تک

سقیفہ میں داڑھی نوچنے سے تلوار اٹھانے تک

سقیفہ میں ایک عجیب و غریب ہنگامہ برپا تھا۔ حباب بن منذر [1]زور زور سے چیخ رہے تھے کہ ابوبکر، عمر اور مہاجرین کو اس سرزمین سے باہر نکال دو۔[2] اس صورت میں سقیفہ کا معاملہ سعد بن عبادہ اور انصار کے حق میں ہو جاتا۔ عمر اس پر چیخ رہا تھا: تمہیں موت آئے!

سقیفہ ایک نہایت خوفناک منظر پیش کر رہا تھا، خدا کے خلیفہ کے انتخاب کے لئے  گالی گلوچ سے لے کر تلوار کھینچنے اور داڑھیاں نوچنے تک؛ جو نہایت شرم ناک تھا۔

عمر نے سعد بن عبادہ سے لڑنا شروع کیا اور سعد نے عمر کی داڑھی پکڑ کر کھینچنا شروع کر دیی۔ عمر کہتا تھا: اگر میرے چہرے کا ایک بال بھی ٹوٹا تو میں تمہارے دانت توڑ دوں گا۔ قیس بن سعد، جو ایک نہایت بہادر اور طاقتور نوجوان تھا، عمر کے پاس پہنچا اور اس کی داڑھی پکڑ کر کھینچنے لگا، جبکہ حباب بن منذر نے تلوار نیام سے نکال لی تاکہ جب بھی ضرورت پڑے، وقت ضائع کئے بغیر مخالفین پر حملہ کر سکے۔

انصار کا سربراہ سعد بن عبادہ بیمار تھا اور اس میں کھڑے ہونے بلکہ بیٹھنے کی بھی طاقت نہیں تھی۔ اسے ان لوگوں نے افراتفری میں پاؤں تلے روند ڈالا  جو  خدا کےخلیفہ کو منتخب کرنے کے لئےجانفشانی کر رہے تھے۔ اس کی کمزور آواز کسی تک نہیں پہنچ رہی تھی۔ وہ کہہ رہا تھا: مجھے یہاں سے دور لے جاؤ؛ مگر اس بے مثال ہنگامہ میں کون اس کی کمزور آواز پر توجہ دیتا؟ ابوبکر بھی ایک ناتواں بوڑھا تھا اور عائشہ کے بقول اسے بار بار اپنی شلوار اوپر کھینچنی پڑتی تھی[3]،اس نے ایک چال چلی اور ایک جھوٹے وعدے کے ذریعے انصار کے غصے کی آگ کو کچھ ٹھنڈا کیا۔

جب اس نے دیکھا کہ انصار کسی بھی صورت مہاجرین (ابوبکر، عمر وغیرہ) کے آگے جھکنے اور ان کی پیروی کرنے پر آمادہ نہیں ہیں تو ان کی طرف رخ کر کے کہا: حکومت ہم دونوں گروہ مل کر چلائیں گے؛ خلیفہ مہاجرین میں سے ہوگا اور وزیر انصار میں سے!

لیکن جب وہ خلافت کی کرسی پر بیٹھ گئے تو انہوں نے انصار سے کئے ہوئے  وعدے پر عمل نہ کیا ۔ اسی وعدے کے ذریعے انہوں نے سقیفہ کا شور کم کیا اور خلافت کی کرسی کا رخ  اپنی طرف موڑ لیا۔

* * *

جو کچھ ہم نے بیان کیا، وہ سقیفہ کے واقعے کا ایک حصہ ہے، جہاں چند لوگوں نے رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی جانشینی حاصل کرنے کے لئے ہنگامہ برپا کیا تھا کہ جو  صاحب خلق عظیم تھے: «وَإِنَّكَ لَعَلَىٰ خُلُقٍ عَظِيمٍ»[4]، اس طرح انہوں نے  ایک شرمناک اجتماع میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم  کی خلافت پر قبضہ کر لیا۔

غدیر کے عظیم واقعے اور سقیفہ کے واقعہے کا تقابل کرنے سے یہ حقیقت واضح ہو جاتی ہے کہ سقیفہ نشینوں کا راستہ باطل ہے کہ جو حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کی خلافت پر غصب پر مبنی ہے۔اس حقیقت کے اثبات کے لئے سینکڑوں دلائل موجود ہیں، جن میں سے ہم یہاں ایک محکم دلیل بیان کرتے ہیں۔

 


[1] ۔ حباب بن منذر کا شمار انصار کے بزرگان اور رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے اصحاب میں ہوتا ہے ۔ جنگِ بدر میں رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے مشورے کے بعد حباب بن منذر نے اپنی رائے پیش کی، پھر جبرئیل نازل ہوئے اور فرمایا کہ درست رائے وہی ہے جو حباب نے دی ہے، چنانچہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے اسی پر عمل فرمایا۔(الطبقات الکبریٰ: ۲/ ۱۰) .

[2] ۔رجوع فرمائیں :  الکامل فی التاریخ :۲ /۳۳۰.

[3] ۔ شرح نہج البلاغہ ابن ابی الحدید:.

[4] ۔ سورۀ قلم ، آیت:۴.

    بازدید : 45