امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
اُس زمانے میں مسجدِ نبوی میں موجود افراد سے لے کر ہر دور میں مسجدِ نبوی کی زیارت کرنے والوں تک

اُس زمانے میں مسجدِ نبوی میں موجود افراد سے لے کر ہر دور میں مسجدِ نبوی کی زیارت کرنے والوں تک

اُس دور میں مسجدِ نبوی  میں موجود لوگوں اور حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام کے عظیم خطبے کو سننے والوں سے لے کر، ہر زمانے میں مسجدِ نبوی کے زائرین تک، سب کو چاہئے کہ وہ اس عظیم ہستی کے خطبے،فرمان، کردار اور وصیت سے سبق حاصل کریں کہ رسولِ خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی اکلوتی بیٹی نے نہ تو کبھی ایک لمحے کے لئے سقیفہ نشینوں پر یقین رکھا، بلکہ پوری قوت کے ساتھ اُن کی مخالفت کی اور امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی خلافت کی حمایت اور دفاع فرمایا۔

اس راہ میں نہ صرف بی بی دو عالم، بلکہ آپ کے مظلوم فرزند حضرت محسن علیہ السلام بھی شہادت کے مرتبے پر فائز ہوئے۔ حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام نے اپنے گفتار اور کردار سے سقیفہ نشینوں سے برائت کا اعلان کیا اور امیرالمؤمنین علیہ السلام کے حق کا دفاع فرمایا۔

* * *

آیۂ تطہیر اور حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام کی عظمت و  شخصیت کو مدِنظر رکھتے ہوئے، کیا کوئی شخص خود کو مسلمان سمجھتے ہوئے اس عظیم ہستی کے راستے کے علاوہ کسی اور راستے پر چل سکتا ہے؟

کیا کوئی حضرت صدیقۂ کبریٰ علیہا السلام کے سوا کسی اور کو اپنا اسوہ اور نمونہ قرار دے سکتا ہے؟ حتیٰ کہ عالمِ وجود کی سب سے عظیم شخصیت حضرت امام مہدی عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف بھی حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام کو اپنے لئے اسوہ قرار دیتے ہیں ۔اور اس طرح آپ نے سقیفہ میں بیٹھنے والوں سے اظہارِ  برائت فرمایا ہے۔

پس امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کے تمام محبوں اور شیعوں پر لازم ہے کہ وہ حضرت فاطمۂ زہرا علیہا السلام کی پیروی کریں۔

    بازدید : 43