امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
فضّه، خادمۀ حضرت امیرالمؤمنین علیه السلام

فضّه، خادمۀ حضرت امیرالمؤمنین علیه السلام

جان لو ! اکسیر اور کیمیا کا مالک ہونا، اس کے علم کے حامل ہونے سے مختلف ہے اور ان دونوں کے درمیان زمین و آسمان کا فرق ہے۔ بسا اوقات کچھ لوگ سلاطین کے خزانوں سے یا کسی ماہرِ کیمیاگر کے ذریعے کچھ کیمیا حاصل کر لیتے ہیں اور ضرورت کے وقت اس کی مدد سے کسی دھات کو سونا بنا دیتے ہیں۔ پھر لاعلمی کی وجہ سے یہ گمان کرتے ہیں کہ وہ علمِ کیمیا رکھتے ہیں، حالانکہ اس علم سے ان کی دوری ثَریٰ (زمین) اور   ثُریا(  آسمان کا ستارہ) کے درمیان فاصلہ کی مانند ہے۔

لہٰذا انسان کو ہوشیار رہنا چاہئے ، دھوکے میں نہیں آنا چاہئے، اور فوراً اس علم کے دعویداروں سے متأثر نہیں ہونا چاہئے۔ جناب فضہ سے ایک مشہور روایت منقول ہے، اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ وہ  بی بی  جب امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے  گھر آئیں تو ان کے پاس کیمیا تو تھا، لیکن ان کے پاس  اس کا علم نہیں تھا۔ اگرچہ بعد میں حضرت کے نظر کرم اور نگاہ کیمیا سے وہ اس مقام تک پہنچ گئیں کہ ان کی حالتِ قدس خود اکسیرِ اعظم بن گئی۔

برسی نے ’’مشارق الانوار‘‘ میں اور علامہ مجلسی نے ’’بحار الأنوار‘‘میں روایت نقل کی ہے کہ فضّہ، ہندوستان کے بادشاہ کی بیٹی تھی۔ جب انہیں قید کرنے کا ارادہ کیا گیا تو انہوں نے اکسیر میں سے کچھ اپنے ساتھ لے لیا۔ جب وہ  خادمہ بن کر  حضرت فاطمہ زہرا علیہا السلام اور حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے گھر آئیں تو انہوں نے گھر کے حالات دیکھے کہ گھر میں تلوار، زرہ اور ایک چکی کے سوا کچھ نہیں ہے۔

پس انہوں نے تھوڑا سا تانبہ لیا اور اس پر وہ اکسیر لگایا تو وہ سونا بن گیا، انہوں نے وہ سونا  امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کی خدمت میں پیش کر دیا۔ حضرت نے اسے دیکھ کر  فرمایا:

أحسنت یا فضّة ؛ ولکن لو أذّبت الجسد لکان الصّنع أعلی والقیمة أعلی .

اگر تم تانبے کو پگھلا دیتیں تو یقیناً اس کی صنعت (یا اس کا رنگ) زیادہ عمدہ ہوتا اور اس کی قیمت بھی زیادہ ہوتی۔

فضّه نے  عرض کیا:

 یا سیدی؛ أتعرف هذا العلم ؟

اے میرے سید و سردار! کیا آپ یہ علم جانتے ہیں ؟

حضرت امام علی علیہ السلام نے امام حسن علیه السلام کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا :

وهذا الطفل یعرفه .

یہ بچہ بھی یہ علم جانتا ہے ۔

پھر انہوں نے وہ سونا اٹھا کر امام حسن علیہ السلام کی خدمت میں پیش کیا۔ امام حسن علیہ السلام نے بھی اپنے والدِ بزرگوار ہی کی طرح وہی بات ارشاد فرمائی۔

اس کے بعد حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام نے فرمایا:ہم اس سے بھی بڑھ کر جانتے ہیں۔

پھر آپ نے اپنے دست مبارک  کی طرف اشارہ فرمایا۔ فضّہ نے سونے کی ڈلیاں اور زمین کے خزانوں کو  حرکت کرتے ہوئے دیکھا ۔

 حضرت نے فرمایا:اے فضّہ!تم نے جو سونا  بنایا ہے، اسے اس کے ہم جنس سونے کے ساتھ رکھ دو۔

چنانچہ انہوں نے اسے ان کے اوپر رکھ دیا تو وہ سب بہنے (یا چلنے) لگے۔[1]

 


[1] ۔ وسيلة النجاة در شرح دعاى سمات : ۱۲۸.

    بازدید : 27