امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
عمر کے بقول ابوبکر قریش میں سب سے بڑا حاسد

عمر کے بقول  ابوبکر قریش میں سب سے بڑا حاسد

اس دوران عمر ہمارے درمیان آہستہ آہستہ چلتے ہوئے پوری طرح خاموش ہو گیا اور  پھر اس نے کہا: کیا میں تمہیں قریش کے سب سے زیادہ حسد کرنے والے شخص کے بارے میں بتاؤں؟

ہم نے کہا: جی ہاں، اے امیرالمؤمنین!

اس نے کہا: کیا اسی حالت میں کہ جب تم نے اپنے کپڑے پہنے ہوئے ہیں؟

ہم نے کہا: جی ہاں۔

اس نے کہا: یہ کیسے ممکن ہے جبکہ تم نے اپنے کپڑے پہنے ہوئے ہیں؟

ہم نےکہا: اے امیرالمؤمنین! اس کا کپڑوں سے کیا تعلق؟

اس نے کہا: مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں یہ راز انہی کپڑوں سے فاش نہ ہو جائے۔

ہم نے کہا: کیا تمہیں اس بات کا خوف ہے کہ یہ لباس ، راز کو فاش کر دے گا؟ حالانکہ تمہیں لباس پہننے والے سے زیادہ خوف ہے اور تمہارا مقصود لباس نہیں بلکہ دراصل ہم ہی مراد ہیں ۔

اس نے کہا: ہاں! ایسا ہی ہے۔ پھر وہ چل پڑا اور ہم بھی اس کے  ہمراہ ہو گئے۔ یہاں تک کہ ہم اس کے خیمہ تک پہنچ گئے۔ اس نے اپنے ہاتھ ہمارے ہاتھ سے چھڑاتے ہوئے ہم سے کہا: یہاں سے مت جانا اور خود خیمہ کے اندر داخل ہو گیا۔

میں نے مغیرہ سے کہا: اے بے پدر!ہماری باتیں اس پر اثرانداز ہوئی ہیں اور ایسا لگتا ہے کہ اس نے ہمیں یہاں اس لئے روکا ہے تاکہ اپنی بات کا بقیہ حصہ بیان کرے۔

اس نے کہا: ہم بھی تو یہی چاہتے  ہیں۔

اسی لمحے اس نے ہمیں اندر جانے کی اجازت دی اور دربان نے کہا، آپ اندر چلے جائیں ۔ ہم اندر داخل ہوئے اور دیکھا کہ وہ ایک قالین پر لیٹا ہوا ہے۔ ہمیں دیکھتے ہی اس نے کعب بن زہیر کے ان دو مصرعوں سے تمثیل کرتے ہوئے کہا: اپنے راز امانت دار، نیک اور لائق شخص کے سوا کسی کے سامنے  ظاہر نہ کرو ، اگر تم راز رکھنا چاہتے ہو تو سینہ کشادہ اور دل وسیع ہونا چاہئے ، تاکہ جب بھی تم کوئی راز ان کے سپرد کرو تو وہ اس سے پردہ نہ اٹھائیں ۔

 ہم سمجھ گئے کہ وہ ان مصرعوں کے ذریعہ ہم سے اس بات کی ضمانت چاہتا ہے کہ ہم اس کی بات کو پوشیدہ رکھیں گے۔

 میں نے کہا: اے امیر المومنین! اب جب کہ آپ نے ہمیں یہ بتانے کے لئے مقرر کیا ہے تو ہم اس بارے میں  محتاط اور اس کے پابند رہیں گے۔

عمر نے کہا: اے بھائی اشعری! کس بارے میں؟

میں نے کہا: آپ کے راز کے افشا کرنے اور ہمیں اپنے اہم معاملے میں شریک کرنے کے بارے میں، اور ہم آپ کے لئے اچھے مشیر ثابت ہوں گے۔

اس نے کہا: ہاں!تم دونوں ایسے ہی ہو۔ جو چاہو پوچھ لو۔

پھر وہ دروازہ بند کرنے کے لئے اٹھا ۔ اس نے دیکھا کہ جس دربان نے ہمیں اندر آنے کی اجازت دی تھی، وہ وہیں موجود ہے۔ اس نے کہا: اے بےمادر! یہاں سے چلے جاؤ۔ جب وہ چلا گیا تو وہ دروازہ بند کرکے ہمارے پاس آیا گیا اور  ہمارے ساتھ بیٹھ  گیا اور کہا: پوچھو! تاکہ تمہیں جواب دیا جائے۔

ہم نے کہا: ہم چاہتے ہیں کہ امیرالمؤمنین ہمیں اس قریشی کے بارے میں آگاہ کریں جو سب سے زیادہ حسد کرنے والا ہے اور جس نے اس معاملے میں ہم پر اعتماد نہیں کیا۔

اس نے کہا: تم نے ایک مشکل بات پوچھی ہے، اور میں ابھی تمہیں بتاتا ہوں؛ لیکن جب تک میں زندہ ہوں، یہ راز تمہارے ذمہ رہے اور اسے سچائی کے ساتھ محفوظ رکھا جائے۔ اور جب میں مر جاؤں تو پھر تم خود جانو کہ اسے ظاہر کرنا ہے یا اسی طرح پوشیدہ رکھنا ہے۔

میں نے کہا: ہم عہد کرتے ہیں کہ تمہارا یہ راز ہمارے ذمہ ہوگا۔

ابو موسیٰ اشعری کہتا ہے: میں اپنے دل میں کہہ رہا تھا کہ عمر کی مراد وہ لوگ ہیں جنہیں ابو بکر کی طرف سے اس کا خلیفہ بنایا جانا پسند نہ تھا، جیسے طلحہ اور ان کے علاوہ کچھ اور لوگ، جنہوں نے ابو بکر سے کہا تھا: کیا تم ہمارے اوپر ایک سخت اور تندخو شخص کو خلیفہ بنانا چاہتے ہو؟ لیکن بعد میں معلوم ہوا کہ عمر کے پیشِ نظر وہ بات نہیں تھی جو میں جو سوچ رہا تھا، بلکہ قصہ  کچھ اور ہی تھا۔

عمر نے دوبارہ ایک آہ بھری اور پوچھا: تم دونوں کی نظر میں وہ کون ہو سکتا ہے ؟

ہم نے کہا: خدا کی قسم! ہم نہیں جانتے، بس ایک گمان رکھتے ہیں۔

اس نے پوچھا: تمہارا گمان کس کے بارے میں ہے ؟

ہم نے کہا: شاید آپ کے مدنظر وہ لوگ ہیں جو چاہتے تھے کہ ابو بکر آپ کو خلیفہ نہ بنائیں۔

اس نے کہا: خدا کی قسم، ہرگز نہیں! خود ابو بکر کو  یہ بات سب سے زیادہ ناپسند تھی ، اور جس کے بارے میں تم نے پوچھا ہے ، یہ وہی ہے، اور خدا کی قسم! وہ قریش میں سب سے زیادہ حسد کرنے والا تھا۔

پھر وہ کچھ دیر تک سر جھکائے خاموش رہا ۔ مغیرہ نے میری طرف دیکھا اور میں نے اس کی طرف دیکھا، اور ہم بھی اس کی خاموشی کے باعث خاموش رہے۔ اس کی اور ہماری خاموشی اتنی طویل ہوگئی کہ ہمیں گمان ہونے لگا کہ شاید وہ اپنی اس بات کو ظاہر کرنے  پر پشیمان ہے۔[1]

 


[1] ۔ جلوه تاريخ در شرح نهج البلاغه ابن ابى الحديد: ۱/۲۰۴۔

بازدید : 8