امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
امیرالمؤمنین علیه السلام کی دو انگلیوں سے مرّۃ قیس کا قتل

امیرالمؤمنین علیه السلام کی دو انگلیوں سے مرّۃ قیس کا قتل

امیرالمؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام کے روضۂ مطہر میں سامنے کی جانب سرہانے کے قریب دو سوراخ ہیں۔ جن کے بارے میں یہ مشہور ہے کہ یہ دو انگلیوں کے نشان ہیں۔ کہا جاتا ہے کہ یہ قبر مطہر سے باہر آنے والی دو  انگلیوں کے نشان ہیں اور ان کے ذریعے کافر مرّہ قیس کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا۔

اگرچہ حضرت کا یہ معجزہ معتبر کتب میں نہیں ملتا، لیکن شیعہ حضرات کے نزدیک یہ اس قدر مشہور ہے کہ جو  کسی پر مخفی نہیں۔ قدیم شعراء کی ایک جماعت نے بھی اپنے اشعار میں اس واقعہ کی طرف اشارہ کیا ہے اور اسے حضرت کے مسلمہ مناقب میں شمار کیا ہے۔جیسا کہ چوتھی صدی ہجری کے شعراء میں سے حکیم ابوالقاسم فردوسی فرماتے ہیں:

شهی که زد به دو انگشت مرّه را به دو نیم

 برای قتل عدو ساخت ذوالفقار انگشت

اور پانچویں صدی ہجری کے حکیم سنائی کہتے ہیں :

خواب و آرام مرّه و عنتر    

کرده در مغز عقل زیر و زبر

ایک اور شاعر نے کہا ہے  :

آن است امام کز دو انگشت  

 چون مرّه قیس کافری کشت

اور ملاّ حسن کاشی آملی نے اس معجزے کے بارے میں ایک قصیدہ بھی کہا ہے۔ صفوی دور کے بزرگ عالم فاضل شمس الدین محمد رضوی نے اس واقعہ کو حضرت امیرالمؤمنین علیہ السلام کے معجزات پر مشتمل اپنی کتاب «حبل المتین»  میں کتاب «تبصرة المؤمنین» سے نقل کیا اور فرمایا ہے کہ بعض علماء نے اس کو تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے۔

اسی طرح اہل سنت کے علماء میں سے عالم فاضل محمد صالح حسینی ترمذی المخلص بہ کشفی نے بھی اپنی کتابِ ’’مناقب‘‘ میں اس واقعہ کو نقل کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ بات صحیح اسناد کے ساتھ ثابت ہے۔اور وہ واقعہ  اس طرح ہے کہ مرّۃ بن قیس کفار میں سے تھا جس کے پاس بہت سا مال، خدم و حشم اور لشکر تھا۔ ایک دن وہ اپنی قوم کے ساتھ اپنے آباء و اجداد اور قبیلے کے بزرگوں کا ذکر کر رہا تھا تو انہوں نے اس سے کہا کہ ان میں سے بہت سے افراد کو علی بن ابی طالب علیہما السلام نے قتل کیا ہے۔

جب اس پلید احمق نے یہ بات سنی تو اس نے حضرت کی قبر کے بارے میں پوچھا۔ لوگوں نے اسے نجف اشرف کا راستہ بتایا۔

چنانچہ وہ دو ہزار سوار اور کئی ہزار پیادوں کے ساتھ نجف کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ نجف کے اطراف میں پہنچا تو وہاں کے لوگوں کو اس کی خبر ہو گئی۔ اہلِ نجف  اس کے مقابلہ میں کھڑے ہو گئے لیکن وہ ملعون چھ دن تک ان سے جنگ کرتا رہا، یہاں تک کہ وہ اپنے لشکر کے ساتھ شہر میں داخل ہو گیا۔

جب مسلمانوں نے یہ حالت دیکھی تو وہاں سے ہٹ گئے۔ اس کے بعد وہ خبیث روضۂ مطہر میں داخل ہوا اور حضرت کی شان میں گستاخی کرتے ہوئے کہنے لگا: اے علی! تو نے میرے باپ دادا کو قتل کیا ہے۔ پھر اس نے قبرِ مطہر کو کھودنے کا ارادہ کیا  تو  اچانک ذوالفقار کی مانند دو انگشت مبارک قبر سے باہر آئیں اور اس کی کمر پر وار کیا، جس سے وہ دو ٹکڑوں میں تقسیم ہو گیا، اور اسی وقت اس کے دونوں حصے دو سیاہ پتھر بن گئے۔

پھر اسے اٹھا کر نجف کے دروازے کے پیچھے پھینک دیا گیا اور وہ ہمیشہ وہیں پڑا رہا۔ جو کوئی بھی نجف میں زیارت کے لئے آتا تھا ، وہ اس پر پاؤں مارتا تھا اور اس کی خاصیت یہ تھی کہ کوئی بھی  جانور اس پر پیشاب کئے بغیر وہاں سے نہیں گزرتا تھا ۔ [1]

 


[1] ۔ هديّة الزائرين وبهجة الناظرين : ۲۱۷.

بازدید : 18