امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(1) حضرت امام رضا عليه السلام سے مأمون کی شيطنت و نفاق

(1)

حضرت امام رضا عليه السلام  سے  مأمون کی  شيطنت و نفاق

مرحوم محدث قمی  نے فرمایا ہے؛اگرچہ مامون ظاہری طور پر حضرت امام رضا علیہ السلام کی تکریم و تعظیم کی کوشش کرتا تھالیکن باطنی طور پر وہ آنحضرت  سے منافقت اور دشمنی رکھتا تھا اور اس آیت کے حکم کی رو سے «هُمُ ‏الْعَدُوُّ فَاحْذَرْهُمْ» ان کا حقیقی بلکہ سخت ترین دشمن تھا کہ جو ظاہراً آنحضرت  سے محبت ،دوستی اور اچھے سلوک سے پیش آتا تھا لیکنباطناً وہ  سانپ اور بچھو کی طرح   ہمیشہ آنحضرت  کو ڈسنے کی کوشش کرتا تھا۔مشہور ضرب المثل ہے:''شیطان الفقھاء فقیہ الشیاطین''

جب سے حضرت امام رضا علیہ السلام ولی عہد ہوئے تب سے ان پر مصیبتوں اور تکلیفوں کے پہاڑ ٹوٹنے لگے۔۔جس دن آنحضرت  کی بیعت کی گئی اسی دن کے بارے میں آپ کے ایک صحابی نے کہا ہے:میں  حضرت امام رضا علیہ السلام کی خدمت میں تھا اور ان کے ولی عہد بننے پر خوش تھا ۔آنحضرت  نے مجھے اپنے قریب بلایا اور مجھ سے فرمایا:

اس بات پر خوش نہ ہو کیونکہ یہ کام مکمل نہیں ہو گا اور یہ اس حالت میں نہیں رہے گا۔

حسن بن جہم کی حدیث میں ہے: مامون نے جید علماء اور مشہور فقہا کو جمع کیا تا کہ وہ   حضرت امام رضا علیہ السلام سے مناظرہ و مباحثہ کریں۔لیکن آنحضرت  ان سب پر غالب آئے اور ان سب نے آپ کی فضیلت کا اقرار کیا ۔پھر آپ مامون کی مجلس سے اٹھے اور گھر کی طرف روانہ ہوئے۔میں آنحضرت  کی خدمت میں گیا اور عرض کیا۔میں خدا کی حمد و ثنا کرتا ہوں کہ جس نے مامون کو آپ کا مطیع قرار دیا اور جو آپ کے اکرام کی ہر ممکن کوشش کرتا ہے۔حضرت امام رضا علیہ السلام نے فرمایا:

ابن  جہم!میرے لئے مامون کی محبت تمہیں دھوکا نہ دے؛کیونکہ یہ جلد ہی مجھے ظلم و ستم سے زہر دے کر شہید کرے گا ۔یہ ایسی خبر ہے کہ جو میرے آباء و اجداد کے ذریعہ مجھ تک پہنچی ہے۔جب تک میں زندہ ہوں،اس بات کو پوشیدہ رکھو اور کسی سے بیان نہ کرو۔

مامون کے برتاؤ اور سلوک کی وجہ سے آنحضرت  کے دل میں ایسا درد تھا کہ جس کا وہ کسی سے اظہار بھی نہیں کر سکتے تھے اور آخر میں وہ اس حد تک تنگ آ چکے تھے کہ خدا سے اپنی موت کی درخواست کرتے تھے۔چنانچہ یاسر خادم کہتے ہیں:ہر جمعہ کے دن آنحضرت مسجد کی طرف جاتے اور پسینہ سے شرابور اور گرد آلود حالت میں خدا کی بارگاہ میں اپنے ہاتھوں کو دعاکے لئے اٹھاتے اور درخواست کرتے:

أللّهمّ إن كان فرَجي ممّا أنَا فيه الْمَوْت، فعَجِّلْ لِيَ السَّاعَةَ.

خداوندا؛اگر اس گرفتاری سے  رہائی میری موت سے حاصل ہوتی ہے  تو اس میں جلدی فرما۔

حضرت امام رضا علیہ السلام غم و حزن کے عالم میں اس دنیا سے رخصت ہوئے۔اگر کوئی عقلمند شخصحضرت امام رضا علیہ السلام کے ساتھ  مامون کے سلوک اور برتاؤ کے بارے میں غور وفکر کرے تو وہ اس بات کی تصدیق کرے گا۔کیا کوئی صاحب عقل یہ تصور بھی کر سکتا ہے کہ مامون جیسا دنیا پرست اور ریاست طلب ( جس نے اپنے بھائی محمد امین کو دردناک طریقہ سے قتل کرکے اس کا سر لانے اور اسے اپنے گھر کے صحن میں لکڑی پر لٹکائے جانے کا حکم دیا اور جس نے اپنے سپاہیوں کو حکم دیا کہ وہ اس سر پر لعنت کرکے اپنا اپنا انعام وصول کرلیں)حضرت امام رضا علیہ السلام  کو مدینہ سے اصرار کرکے خلافت دینے کے لئے بلوائے ؟حالانکہ خلافت  مامون کی آنکھوں کا نور تھی اور سلطنت کے بارے میں کہا جاتا ہے:''الملک عقیم''اس کا بھائی امین اسے اچھی طرح پہچان گیا تھا۔چنانچہ جب اسے گرفتار کیا گیا تو اس نے احمد بن سلام سے کہا: کیا مامون مجھے قتل کر دے گا؟احمد نے کہا نہیں وہ تمہیں قتل نہیں کرے گا چونکہ اس کے دل میں تمہارا پیار اسے ایسا کرنے سے روکے گا اور وہ تم پر مہربان ہو جائے گا۔امین نے کیا''ھیھات ؛الملک عقیم لا رحم لہ''1

کتاب'' ایجاج الاحزان :میں مامون کا   حضرت امام رضا علیہ السلام  کی ولی عہدی کے بارے میں خط نقل کیا گیاہے اور اس بارے میں آنحضرت  کی دعا بھی ذکر کی گئی ہے۔2

 


1) تتمّة المنتهى: 279.  

2) إيجاج الأحزان: 66. 

 

منبع : صحيفهٔ رضويه : 259

 

بازدید : 1590