امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۲) مأمون کا اہلبیت علیھم السلام اور علویوں کی سرکوبی کے لئے بنی امیہ سے استفادہ کرنا

(۲)

مأمون   کا  اہلبیت  علیھم  السلام  اور  علویوں 

کی  سرکوبی  کے  لئے بنی  امیہ  سے  استفادہ  کرنا

  ایسے بہت سے شواہد موجود ہیں کہ جن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ  حضرت امام رضا علیہ السلام نے ولی عہدی مامون سے محبت کی وجہ سے نہیں بلکہ اس کی گندی سیاست اور منافقت کی وجہ سے قبول کی۔ مامون کی خاندان ولایت علیھم السلام کے ساتھ اس قدر شدید دشمنی تھی کہ کبھی وہ بنی امیہ سے بھی اہلبیت  علیھم السلام اور علویوں کے خلاف مدد لیتا تھا ۔حالانکہ وہ بنی عباس کے خونخوار دشمن تھے۔اب ہم جو واقعہ بیان کرنے جا رہے ہیں ،اس سے یہ بات واضح ہو جائے گی۔جب عبدالرحمن علوی نے یمن میں مامون کے خلاف قیام کیا تو اس زمانے میں مامون نے طالبیّین کو اپنے پاس آنے سے منع کیا ہوا تھا اور اس نے حکم دیا تھا کہ انہیں کالے کپڑے پہننے پر مجبور کیا جائے  (۱)».

اس کے بعد مامون نے یمن کی سرزمین کے لئے ایک نئی سیاست کا آغاز کیا  اور وہاںسے مستقبل  میں اٹھنے والی ہر قسم کی شیعی تحریک کا سد باب کیا۔مامون نے صلاح اسی میں سمجھی کہ یمن میں کوئی ایسا حکمران بھیجا جائے کہ جو قدرت کے لحاظ سے مشہور ہو۔اس کے وزیر حسن بن سہل نے اس سے کہا کہ زیاد بن امیہ کی نسل میں کسی مشہور حاکم کا انتخاب کرے ۔جس شخص کو چنا گیا وہ محمد بن ابراہیم زیادی تھا۔مامون نے اسے یمن کا حاکم مقرر کیا اور سلیمان بن ہشام بن عبدالملک کو اس کا وزیر بنا دیا  (2).

نئے حکمران  محمد بن ابراہیم زیادی نے'' تہامہ'' کو فتح کر لیااور اس نے شہر'' زبید'' کو نئے سرے سے سجایا اور اسے اپنا دارلخلافہ قرار دیا (3) اس نے یمنی قبائل کے دلوں میں جگہ بنا لی تھی۔ابن خلدون کے مطابق یہ علویوں کے ساتھ بہت زیادہ کینہ رکھتا تھا    (4)

  محمد بن ابراہیم زیادی  کی طاقت میں اضافہ ہو رہاتھا اور وہ یمن میں بنی زیاد کی حکومت کو مضبوط کرنے میں کامیاب ہو گیا۔یہ حکومت اپنے خطبوں میں عباسی خلفاء کا نام لیتی اور ان کے لئے تحائف بھیجتی۔اس حکومت کو داخلی طور پر مستقل اور خود مختار حکومت کے طور پر پہچانا جاتا تھا   (5).

محمد بن ابراہیم زیادی  نے اپنی پوری زندگی یمن پر حکومت کی اور اس کے بیٹوں کو یہ حکومت وراثت میں ملی۔پھر اس کے رشتہ داروں اور غلاموں نے حکومت کا نظام اپنے ہاتھوں میں لے لیا اور   ٥٥٣ھ  تک اسی طرح حکومت چلتی رہی۔اس حکومت کویمن کی سر زمین پر پہلی مستقل حکومت کہا جاتا ہے   (6)

محمد بن ابراہیم زیادی کو مامون کی طرف سے ملنے والی طاقت اور اس حکومت کی تقویت کو پسند کرنے کی وجہ سے مامون اس کی فرمانروائی کرتا تھا۔مامون ہزار سواروں کے ساتھ اس کی مدد کرتا کہ جن میں سے سات سو خراسانی بھی تھے۔پھر اس کی یہ حکومت بہت وسیع ہو گئی اور حضر موت،دیار کندہ،شحر،برباط،لحج،عدن اور فلات بھی اسی آبادی میں شامل ہو گئے     (7).(8)

 


1) طبرى: 169/7.  

2) تاريخ اليمن: 185.

3) وہاں ایک وادی تھی کہ جسے وادی زبید ''کہا جاتا تھا۔ محمد بن ابراہیم زیادی نے وہاں ایک نیا شہر بنایا اور اسی وادی کے نام سے اسے ''زبید'' کا نام دیا۔یہ شہر تہامہ یمن میں واقع تھا اور یہاں اکثر اشاعرہ قبیلہ کے افراد مقیم تھے۔(تاریخ الیمن:٣٦،٣٧،المخلاف السلیمانی:١٠٧١)

4) ابن خلدون، العبر: 243/2.

5) بغية المستفيد: خطّى، برگ 45.

6) تاريخ اليمن: 202.

7) دراسات في العصور العبّاسيّة المتأخّرة: 16 - 12.  

8) مبارزات شيعيان در دوره نخست خلافت عبّاسيان: 399. 

 

 

منبع : صحيفهٔ رضويه : 262

 

بازدید : 1531