(3)
هارون کی مجلس میں پردہ پر بنے شیر سے معجزہ کا ظاہر ہونا
ابن شهراشوب نےكتاب «مناقب» میں علىّ بن يقطين سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا :
هارون نے ایک شخص کو بلایا تا کہ وہ حضرت موسى بن جعفر عليهما السلام کی شخصیت کو پامال کرکےانہیں خاموش کرے اور محفل میں شرمندہ کرے .
لہذا ہاروں نے ایک مجلد کا انعقاد کیا:اس نے جادوگر بلایا اور وہاں ایک دسترخوان لگایا گیا،جب سب دسترخوان پر بیٹھ گئے تو اس ودوگر نے اپنا حملہ کیا،اآنحضرت کا خادم جب روٹی اٹھانے لگا تو وہ روٹی اوپر اڑ گئی،ہارون یہ دیکھ کر بہت خوش ہوا اور ہنسنے لگا۔
امام كاظم عليه السلام نے بیہ منظر دیکھا توپردہ پر شیر کی بنی ہوئی تصویر کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا:
يا أسد اللَّه خذ عدوّ اللَّه.
اے خدا کے شیر!دشممن خدا کو پکڑ لے .
اس حکم کے صادر ہوتے ہی وہ تصویر ایک طاقتور شیر بن گئی اور اس نے جادو گر کھالیا۔ہاروں اور اس کے ساتھی غش کھا کر منہ کے بل زمین پر گر گئے اور خوف کے مارے حواس باختہ ہو گئے۔
کچھ دیر کے بعد جب وہ ہوش میں آئے تو ہارون نے حضرت موسى بن جعفر عليهما السلام سے عرض کیا :میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ اس شیر کو حکم فرمائیں کہ اس جادوگر کو واپس کر دے۔
امام عليه السلام نے فرمایا :
إن كانت عصا موسى ردّت ما ابتلعته من حبال القوم وعصيّهم، فإنّ هذه الصورة تردّ ما ابتلعته من هذا الرجل .
اگر موسى کی عصا نے جادوگروں کی کھائی ہوئی رسیاں واپس پلٹائی ہوتیں تو یہ شیر بھی جادو گر کو واپس پلٹا دیتا۔1)
یہ واقعہ ہارون کے ہوش میں آنے کے لئے مؤثر ترین تھا۔
1) مناقب ابن شهراشوب: 299/4، بحار الأنوار : 41/48 ح 17، عيون اخبار الرضا عليه السلام: 78/1 ح1، امالى صدوق : 212 ح 20 مجلس 29 .
منبع: قطره اي از درياي فضائل اهل بيت عليهم السلام :ج 1 ص 585








