(2)
حديث معراج میں صلوات کا ثواب
شيخ ابوالفتوح رازى رحمه الله اپنی تفسير میں رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم سےنقل کرتے ہیں كه آنحضرت نے فرمایا :
میں نے شب معراج آسمان کی سیر کرتے ہوئے ایک فرشتہ کو دیکھا جس کے ایک ہزار ہاتھ تھے اور ہر ہاتھ میں ایک ہزار انگلیاں تھیں اور وہ فرشتہ حساب کر رہا تھا اور انگلیوں پر کچھ گن رہا تھا۔
میں نے جبرئيل سے کہا:یہ فرشتہ کون ہے اور یہ کیا گن رہا ہے؟
جبرئیل نے کہا:یہ فرشته بارش کے قطروں پر موكّل ہے اور یہ حساب کر رہا ہے آسمان سے کتنے قطرے زمین پر گرے ہیں۔
آنحضرت نے اس فرشتہ سے فرمایا : کیا تجھے معلوم ہے کہ ابتدائے خلقت سے آج تک کتنے قطرے زمین پر گرے ہیں؟
اس نےعرض کیا:قسم ہے اس خدا کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ اپنی مخلوق کی طرف رسول بنا کر بھیجا ہے،نہ صرف یہ کہ مجھے معلوم ہے کہ آسمان سے کتنے قطرے زمین پر گرے ہیں بلکہ میں یہ بھی جانتاہوں کہ کتنے قطرے سمندر میں،کتنے قطرے خشکی میں،کتنے قطرے آبادی میں،کتنے قطرے باغ میں،کتنے قطرے شور زمین پر اور کتنے قطرے قبرستان میں پڑے ہیں ۔
رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے فرمایا؛مجھے اس کے حافظہ پر تعجب ہوا،جب اس نے مجھے ایسے دیکھا تو عرض کیا:اے رسول خدا!ہاتھوں اور انگلیوں کے لحاظ سے میرے پاس اتنی طاقت ہے اور میرا حافظہ اتنا قوی ہے لیکن اس کے باوجود میں ایک چیز کا حساب کرنے سے قاصر ہوں.
میں نے پوچھا : وہ کس چیز کا حساب ہے؟
اس نے عرض کیا:
قوم من اُمّتك يحضرون مجمعاً فيذكر اسمك عندهم فيصلّون عليك، فأنا لا أقدر على حصر ثوابهم .
جب آپ کی امت میں سے ایک گروہ جمع ہوا ہو اور آپ کا نام آنے پر درود بھیجتا ہے تو میں اس کا ثواب شمار نہیں کرسکتا .(1)
1) تفسير ابو الفتوح : 228/2 ، المستدرك : 355/5 ح 8 .
منبع: قطره اي از درياي فضائل اهل بيت عليهم السلام ج 1 ص 159








