(1)
ولادت کے وقت حضرت اميرالمؤمنين عليه السلام کا معجزہ
كتاب مناقب میں نقل ہوا ہے :
جب اميرالمؤمنين عليه السلام کعبہ میں متولد ہوئے تو حالت سجدہ میں زمین پر تشریف لائے اور پھر اپنا سر اقدس بلند کیا اور اذان و اقامت کہی ۔اس کے بعد خدا کی وحدنیت اور محمّد صلى الله عليه وآله وسلم کی رسالت اور اپنی ولايت و جانشينى کی گواہی دی۔پھررسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کی طرف اشاره كیا اور کہا:
اےرسول خدا ! اجازه ہے کہ میں کچھ پڑھوں ؟
فرمایايپڑھو
پھر اپ نے ان صحیفوں کو پڑھنا شروع کیا و آدم علیہ السلام پر نازل ہوئےتھے اور ان کو ایسے پڑھا کہ اگر شیث ہوتے تو یہ اقرار کرتے کہ على عليه السلام ان صحیفوں کو بہتر جانتے ہیں اور اس کے بعد دوسری آسمانی کتابوں(حضرت نوح،حضرت ابراهيم،تورات موسى اور انجيل عيسى علیھم السلام )کو پڑھا اور پھر قرآن کی اس آیت مبارکہ کی تلاوت فرمائی:
«قَدْ أفْلَحَ المُؤْمنُون»(1)
«بیشک مومنین کامیاب ہو گئے ہیں».
پيغمبر اكرم صلى الله عليه وآله وسلم نے ان سے فرمایا :
نعم أفلحوا إذ أنت إمامهم .
ہاں!مومنین کامیاب ہیں کیونکہ تو ان کا امام ہے .
پھر ان کو اس طرح خطاب کیا جس طرح انبیاء و اوصیاء کو خطاب کیا جاتا ہے اور پھر خاموش ہو گئے ،اس کے بعدرسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم نے ان سے فرمایا :
عد إلى طفوليّتك فأمسك
اپنے بچپن کی طرف لوٹ جا،پس انہوں نے اپنے معجزات ظاہر کرنے سے گریز کیا۔
آپ کے بے انتہا کرامات اور بے شمار فضائل میں سے ایک یہ ہے کہ راهب يمامه نےحضرت ابوطالب عليه السلام کو ولادت على عليه السلام کی بشارت دی اور ان سے عرض کیا:
بہت جلد تمہارے ہاں ایک بچہ ہونے والا ہے جو اپنے زمانے کے لوگوں کا سردار ،صاحب اسرار الهى ، اور اپنے پیغمبر کے زمانے کا یاور و مدگار اور اس کا داماد ہو گا لیکن میں ان کے زمانے کو دیکھ نہیں پاؤں گا۔جب تم انہیں دیکھو تو میرا سلام عر کرنا
جب اميرالمؤمنين عليه السلام متولد ہوئے تو حضرت ابوطالب عليه السلام اس راہب کے پاس گئے تا کہ اسے خبر دیں لیکن وہ اس دنیا سے جا چکا تھا ،پس آپ اميرالمؤمنين عليه السلام کی طرف واپس آئے ،انہین پکڑا اور بوسہ کیا۔ .
اميرالمؤمنين عليه السلام نے اپنے الد بزرگوار کو سلام کیا اور کہا:
اے والد بزرگوار !آپ راهب يمامه سے ہو کر آئےہیں جس نے آپ کو میری آمد کی بشارت دی تھی اور تمام قصہ نقل کیا تھا۔
آپ کے والد حضرت ابوطالب عليه السلام نے کہا : اے خدا کے ولی !آپ نے سچ کہا ہے .(2)
شار نے کیا خوب کہا ہے :
هوالقبلة الوسطى ترى الوفد حولها
لها حرم اللَّه المهيمن والحلّ
وآيته الكبرى وحجّته الّتي
اُقيمت على من كان منّا له عقل
وہ قبلہ وسطی ہیں اور لوگ ان کے اردگرد چکر لگاتے ہیں۔خدا کےحلّ و حرم(3) کہ جو چیزوں کو حفاظت کرنے والے ہیں،وہ خدا کی ظیم نشانی اور اس کی حت ہیں،ان پر جو عقل و فکر کے مالک ہیں۔
ایک عارف شاعرلطف اللَّه نيشابورى نے کہا ہے :
طواف خانه كعبه از آن شد بر همه واجب
كه آنجا در وجود آمد علىّ بن ابى طالب
(1) سوره مؤمنون ، آيه 1 .
(2) مشارق الأنوار : 75 .
(3) جہاں مُحرم نہیں ہیں حلّ ، اور جہاں لباس احرام پہن لیں تو حرم ہے .
منبع: كتاب قطره اى از درياي فضائل اهل بيت عليهم السلام ج 1 ص 232








