امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
جنگ احد میں ابوسفيان اور معاويه کے لئے اتمام حجت

جنگ احد کے بارے میں المنجی ویب سائٹ کے مطلب

************************************

۷ شوال المکرم؛ جنگ احد (سنہ  ۳ ہجری )

************************************

جنگ احد میں ابوسفيان اور معاويه کے لئے اتمام حجت

  كتاب «المغازى» میں مسلمانوں میں سے «خبيب» اور «زيد» نامی دو افراد کے اسیر ہو جانے کے بارے میں لکھتے ہیں:

   کفار خبيب اور زيد کو اپنے ساتھ لے گئے یہاں تک کہ وہ مکہ پہنچ گئے۔ خبيب کو حُجَير بن ابى‏ اہاب نے اسّی مثقال سونا اور پچاس اونٹ دے کر خریدا۔ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ انہیں حارث ‏بن عامر بن نوفل کی بیٹی نے سو اونٹوں کے بدلے خریدا ، لیکن صحيح قول وہی ہے کہ حجير نے انہیں خریدا اور پھر اس کے بھتیجے عقبة بن حارث نے اپنے باپ (  جو جنگ بدر میں قتل ہو گیا تھا)  کا بدلہ لینے کے لئے انہیں قتل کر دیا۔

   زيد بن دثنه کو صفوان بن اميّه نے پچاس اونٹوں کے بدلے خریدا اور انہیں اپنے باپ کا بدلہ لینے کے لئے قتل کر دیا ۔ اور کہتے ہیں: قریش کا ایک گروہ ان کی خریداری میں شریک تھا اور چونکہ انہوں نے ان دونوں کو ذی القعدہ ( جو حرام مہینوں میں سے ہے) کے مہینہ میں خرید کر قید کر دیا تھا۔

   حجير نے خبيب بن عدى کو ماويه - جو بنى عبد مناف ‏کی کنیز تھی – نامی ایک عورت میں گھر میں قید کیا تھا اور صفوان نے زيد کو بنى جمح کے ایک گروہ کے پاس قید کیا تھا۔ نیز کہا گیا ہے کہ اس نے انہیں اپنے غلام نسطاس کے گھر میں قید کیا تھا۔

   جب ماویہ نے اسلام قبول کر لیا اور وہ مسلمان ہو گئی تو وہ کہا کرتی تھی: خدا کی قسم! میں نے خبيب سے بہتر کسی کو نہیں دیکھا۔ میں ایک شگاف سے اس کو پر نظر رکھتی تھی؛ انہیں زنجیروں میں جکڑا ہوا تھا اور میں نے دیکھا کہ وہ ہاتھ میں انگوروں کا ایک خوشہ پکڑے کھا رہے تھے جب کہ اس وقت انگوروں  کا موسم نہیں تھا حتی اس وقت انگور کا ایک دانہ بھی کہیں سے نہیں مل سکتا تھا اور اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ وہ ایک خاص روزی تھی جو خداوند کریم نے انہیں عطا فرمائی تھی۔

   کہتے ہیں: خبيب راتوں کو قرآن پڑھتے تھے تو عورتیں ان کے قرآن پڑھنے کی آواز سن کر گریہ کرتی تھی اور ان کے لئے دل سوز ہوتی تھی۔

   کہتے ہیں: میں نے اس سے کہا: اے خبيب! کیا تمہاری کوئی حاجت ہے؟

   اس نے کہا: نہیں! صرف میرے لئے پانی لے آؤ اور بتوں کے لئے قربان کئے گئے گوشت کو میری خوراک قرار نہ دو اور جب بھی تمیں یہ پتہ چلے کہ وہ مجھے قتل کرنا چاہتے ہیں تو مجھے اس بارے میں بتا دو۔

   کہتے ہیں: جب حرام مہینہ گذر گئے اور انہیں قتل کرنے کا ارادہ کیا گیا تو میں ان کے پاس گئی اور انہیں اس بارے میں مطلع کیا۔ خدا کی قسم! میں نے دیکھا کہ انہیں کسی طرح کا کوئی خوف اور اضطراب  نہیں تھا۔

   انہوں نے کہا: میرے لئے ایک تیغ بھیجو تا کہ میں اپنے بالوں کی اصلاح کروں۔ پس میں نے اپنے بیٹے ابو حسين کے ہاتھ ان کے لئے ایک تيغ بھیجی۔ جب میرا بیٹا ان کی طرف جانے کے لئے روانہ ہوا تو میں نے کہا: آخر میں نے یہ کیا کام کیا؟ کہیں ایسا نہ ہو کہ وہ انتقام لینے کے لئے میرے بیٹے کو قتل کر دے اور کہے: مرد کے مقابلہ میں مرد۔ اتفاقاً جب میرا بیٹا تیغ لے کر گیا تھا تو انہوں نے اس سے وہ تیغ لے لی اور مذاق میں میرے بیٹے سے کہا: تمہارے باپ کی قسم! تم میں بہت جرأت ہے؛ کیا تمہاری ماں میرے لئے تیغ بھیجتے وقت خوفزدہ نہیں ہوئی کہ میں کوئی مکر و حیلہ کروں؟ لیکن کیا ایسا نہیں ہے کہ تم لوگ مجھے قتل کرنا چاہتے ہو؟

   ماويه کہتی ہیں: میں نے یہ بات سنی تو کہا: اے خبيب! میں تم میں وہی امانت الٰہی دیکھ رہی ہوں اور میں نے تمہارے لئے یہ تیغ تمہارے پروردگار کی رضائیت کے لئے بھیجی ہے نہ اس لئے کہ تم میرے بیٹے کو قتل کر دو۔

   انہوں نے کہا: اطمینان رکھو کہ میں اسے قتل نہیں کروں اور ہمارے دین و آئین میں مکر و حیلہ جائز نہیں ہے۔

   پھر میں نے انہیں خبر دی کہ کل صبح تمہیں قتل کرنے کے لئے باہر لایا جائے گا۔

   کہتے ہیں: اگلے دن انہیں اسی طرح زنجیروں میں جکڑی حالت میں باہر نکال کر تنعيم(1) کے مقام پر لے گئے۔ مکہ کے لوگوں میں سے عورتیں، بچہ، بوڑھے اور جوان بڑی تعداد میں تنعيم کے مقام پر گئے اور کوئی ایسا شخص نہیں تھا کہ جو وہاں نہ گیا ہو۔

 کچھ لوگ انہیں خون کا بدلہ سمجھتے تھے اور وہ لوگ انہیں قتل ہوتا دیکھ کر خود کو تسکین پہنچانا چاہتے تھے ، جب کہ وہاں موجود بقیہ لوگ بھی کافر اور اسلام کے مخالفت تھے۔

   جب انہیں اور زيد بن دثنه کو تنعيم کے مقام پر لایا  گیا تو  خبيب نے ان سے کہا: کیا تم مجھے اتنی مدت کے لئے رہا کرو گے اور اجازت دو گے کہ میں دو رکعت نماز ادا کر سکوں؟

   ان لوگوں نے کہا: ہاں! طول دیئے بغیر دو رکعت نماز ادا کر لو۔

   میرے لے ابوہریرہ سے روایت کیا گیا ہے کہ اس نے کہا: سب سے پہلے جنہوں نے قتل ہونے کے موقع پر دو رکعت نماز پڑھی وہ خبيب تھے۔

   کہتے ہیں: انہوں نے کہا: خدا کی قسم! اگر تم لوگ یہ نہ کہتے کہ میں موت سے ڈرتا ہوں تو میں اور نماز پڑھتا۔ پھر انہوں نے کہا: پروردگارا! انہیں یکے بعد دیگرے ختم کر دے اور ان میں سے کسی سے چشم پوشی نہ کرنا۔

   معاويه بن ابى سفيان کہا کرتا تھا: جب خبيب نفرين کر رہے تھے تو میں اس وقت وہیں موجود تھا! اور اگر تم وہاں ہوتے تو دیکھتے کہ ابو سفیان نے مجھے خبیب کی نفرین کے خوف سے زمین پر گرا دیا جس کی وجہ سے میری کمر زمین پر لگی اور میں کافی مدت تک اس کی وجہ سے درد محسوس کرتا رہا۔ (2)


1) تنعيم؛ مكّه سے مدينه کے راستے میں واقع ہے جو مکہ سے تین یا چار میل کے فاصلہ پر واقع ہے۔ (شرح على المواهب اللدنيّة: 83/2). آج تنعيم مكّه سے متصل ہو چکا ہے اور شاہراه مكّه - مدينه کے ساتھ واقع ہے کہ جہاں عمرہ کے لئے احرام باندھتے ہیں۔

2) مغازى: 263/1.

 

منبع: معاويه ج ... ص ...

 

 

 

بازدید : 1192