हमारा लोगो अपनी वेबसाइट या वेबलॉग में रखने के लिए निम्न लिखित कोड कापी करें और अपनी वेबसाइट या वेबलॉग में रखें
(۱) سات شوال کو امير المؤمنين حضرت امام علی عليه السلام سر زمين کربلا میں وارد ہونا

(۱)

سات شوال کو امير المؤمنين حضرت امام علی عليه السلام

سر زمين کربلا میں وارد ہونا

 معاویہ سے جنگ کے لئے صفین کی طرف جاتے ہوئے امير المؤمنين حضرت امام علی ‏عليه السلام زمين كربلا پر پہنچنا.

کتاب ’’ناسخ‘‘ کے ص 200 سے استفاده کیا جاتا ہے کہ سات شوال کو امیر المؤمنین حضرت امام علی علیہ السلام زمين كربلا پر پہنچے اور ہرثمۃ بن سليم کا واقعہ بھی اسی دن پیش آیا اور انہوں نے کہا: جب ہم کربلا کی زمین پر پہنچے تو ہم نے امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے ساتھ نماز ادا کی اور جب نماز کا سلام پڑھا تو آپ نے ایک مٹھی خاک اٹھائی اور اسے سونگھنے کے بعد فرمایا:

واهاً لك أيّتها التربة، ليحشرنّ منك قوم يدخلون الجنّة بغير حساب... الخ.

اے خاك! تم کیسی خاک ہو کہ تمہارے ساتھ کچھ لوگ حساب و کتاب کے بغیر جنت میں داخل ہوں گے... .

نيز سعيد بن وہب کا واقعہ کہ جن کی طرف اميرالمؤمنين ‏عليه السلام نے ہاتھ سے اشارہ کیا اور فرمایا:

هيهنا هيهنا... الخ (نصر بن مزاحم ص 75 و ناسخ ص 201).

اور اسی طرح حسين بن كثير کے باپ (نصر ص 75 اور ناسخ ص 201) اور عبد اللَّه بن‏ عبّاس کا واقعہ کہ انہوں نے کہا: جب امیر المؤمنین امام علیہ السلام زمين كربلا پر پہنچے اور آپ گھوڑے سے نیچے تشریف لائے اور لشکر نے بھی وہاں پڑاؤ ڈالا اور اپنے خیمہ نصب کئے تو میں نے دیکھا کہ امير المؤمنين ‏علی عليه السلام‏ نے اس طرح سے گریہ کرنا شروع کیا کہ آپ کی داڑھی مبارک پر آنسو جاری ہو گئے اور پھر آپ نے فرمایا:

اے ابن عبّاس؛ کیا تم اس بارے میں جانتے ہو؟

میں نے عرض کیا: نہیں! میں نہیں جانتا۔

آنحضرت نے فرمایا: اگر تم اس زمین کو پہچان لیتے تو گریہ کئے بغیر اس زمین سے نہ گذرتے۔

ابن عبّاس نے کہا: پھر على ‏عليه السلام نے بہت دیر تک گریہ کیا یہاں تک کہ آپ کی داڑھی آنسؤوں سے تر ہو گئی اور آپ کے آنسو آپ کے سینہ پر گر رہے تھے اور ہم نے بھی گریہ کیا اور پھر آنحضرت نے فرمایا:

آه آه؛ مجھے سے کیا چاہتی ہے یہ آل ابى سفيان كہ جو حزب شيطان اور اوليائے كفر ہیں۔

پھر آپ نے وضو کرنے کے لئے پانی طلب کیا، وضو کیا اور نماز پڑھنے  کے بعد تھوڑی دیر کے لئے آپ کی آنکھ لگ گئی اور جب آپ بیدار ہوئے تو فرمایا:

ابن عباس! کیا میں نے خواب میں جو چیز دیکھی ہے وہ تم سے بیان نہ کروں ؟ اور پھر آپ نے فرمایا:

میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ آسمان سے نازل ہوئے ہیں کہ جن کے پاس سفید علم اور انہوں نے سفید تلواریں لٹکائی ہوئی تھیں کہ جو چمک رہیں تھیں۔ انہوں نے اس زمین کے اطراد میں ایک خط کھینچ دیا اور گویا کوئی درخت تھے کہ جن کی شاخیں زمین تک آ چکی ہیں اور اس زمین سے تازہ خون جاری ہوا کہ جیسے خون کا دریا بہہ رہا ہو اور گویا میرا پارۂ تن ، میرا حسین خون کے اس دریا میں غرق ہو اور وہ استغاثہ کر رہا ہو اور نصرت طلب کر رہا ہو لیکن کوئی بھی اس کی مدد کے لئے نہیں آ رہا۔ اور آسمان سے نازل ہونے والے وہ سفید افراد انہیں نداء دے رہے ہیں اور سب یہ کہہ رہے ہیں: اے آل رسول: صبر کریں، البتہ آپ بدترین لوگوں کے ہاتھوں قتل ہوں گے اور یہ جنت آپ کی مشتاق ہے۔

پھر انہوں نے مجھے تعزيت پیش کی اور اس دن کی بشارت دی کہ جب لوگ حساب و کتاب کے لئے (قبروں سے) اٹھیں گے۔

پھر آپ نے فرمایا: مجھے قسم ہے اس خدا کی کہ جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے کہ صادق مصدّق ‏ابو القاسم ‏صلى الله عليه و آله و سلم نے مجھے خبر دی ہے کہ: میں اہل طغیان ( اور اہل معصیت) کی طرف جاتے اس زمین سے گزروں گا اور یہ زمین ’’زمین کرب و بلا‘‘ ہے۔ اس زمین پر حسین اور میری اور فاطمہ کی اولاد میں سے سترہ افراد دفن ہوں گے اور آسمانوں میں یہ زمین زمين‏ كربلا کے نام سے معروف ہے کہ جس طرح مكّه و مدينه اور بيت المقدّس کا ذكر ہوتا ہے۔

حقير کا یہ کہنا ہے کہ: اس سفر میں امیر المؤمنین امام علی علیہ السلام کے بے شمار معجزات واقعہ ہوئے؛ منجملہ راہب اور پتھر کا واقعہ  کہ جو «كشف الغمّة» اور «منتهى الآمال: 2/233» میں بھی ذکر ہوا ہے۔ (1)


(1) نفائح العلاّم في سوانح الأيّام: 2/112. 

 

منبع: معاويه ج ... ص ...

 

यात्रा : 958