امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۲) كربلا میں داخل ہوتے وقت امير المؤمنين حضرت امام علی ‏ عليه السلام کا فرمان

(۲)

كربلا میں داخل ہوتے وقت

امير المؤمنين حضرت امام علی ‏ عليه السلام کا فرمان

نصر بن مزاحم کہتے ہیں: منصور بن سلام تميمى نے حيّان تيمى سے، ابوعبيده سے اور ہرثمة بن سليم سے نقل کیا ہے انہوں نے کہا: ہم امير المؤمنين امام على ‏عليه السلام کے ہمراہ جنگ‏ صفين کے لئے جا رہے تھے اور جب ہم كربلا پہنچے تو آپ سواری سے نیچے تشریف لے آئے، پہلے تو آپ نے ہمارے ساتھ نماز ادا کی ،اور نماز کے سلام کے بعد ایک مٹھی خاک اٹھائی اور اسے سونگھنے کے بعد فرمایا:

اے خاك واى ہو تجھ پر! کہ تجھ سے ایک ایسا گروہ محشور ہو کہ جو حساب و کتاب کے بغیر جنت میں جائے گا۔

   کہتے ہیں: جب ہرثمه جنگ سے واپس لوٹے تو اپنے زوجہ ـ جرداء بنت سمير؛ كه جو امير المؤمنين على‏ عليه السلام کے شیعوں میں سے تھی ـ کے پاس آئے اور اپنی زوجہ کو مختلف باتیں بتاتے ہوئے کہا: کیا میں تمہیں تمہارے آقا و پیشواء ابو الحسن کی ایک بات بتاؤں کہ جس سے تم حیرت زدہ ہو جاؤ کہ جب ہم ‏كربلا پہنچے تو آپ نے ایک مٹھی خاک اٹھائی اور اسے سونگھنے کے بعد فرمایا:

اے خاك واى ہو تجھ پر! کہ تجھ سے ایک ایسا گروہ محشور ہو کہ جو حساب و کتاب کے بغیر جنت میں جائے گا۔

   انہیں کہاں سے علم غیب ہے؟

   اس خاتون نے کہا: اے مرد! مجھ سے دستبردار ہو جاؤ کہ امير المؤمنين‏ عليه السلام حق کے سوا کوئی بات نہیں کہتے۔

   (ہرثمه) کا بیان ہے کہ: جب عبيد اللَّه بن زياد نے امام حسين‏ عليه السلام‏ سے جنگ کرنے کے لئے ایک لشکر بھیجا تو اس لشکر کے سواروں میں سے ایک میں بھی تھا اور جب ہم امام حسين‏ عليه السلام اور آپ کے ساتھیوں کے پاس پہنچے تو یہ وہی مقام تھا کہ جہاں امير المؤمنين على‏ عليه السلام نے قیام کیا تھا اور میں نے جگہ کو پہنچان لیا اور میں نے اس جگہ کو بھی پہچان لیا کہ جہاں سے آپ نے خاک اٹھائی تھی اور آپ کی بیان فرمائی ہوئی بات بھی مجھے یاد آ گئی۔ مجھے اپنے یہاں آنے سے کراہت محسوس ہو رہی تھی۔ میں اپنے گھوڑے کے ساتھ آگے بڑھا اور امام حسین علیہ السلام کے پاس جا کر کھڑا ہو گیا اور آپ کو سلام کرنے کے بعد اس مقام پر ان کے بابا (امیر المؤمنین علی علیہ السلام) سنی ہوئی وہ  تمام باتیں آنحضرت سے بیان کیں۔  

   امام حسين‏ عليه السلام نے فرمایا: کيا تم ہمارے ساتھ ہو یا ہمارے خلاف ہو؟

   میں نے کہا: اے فرزند رسول خدا! میں نہ تو آپ کے ساتھ ہوں اور نہ آپ کے خلاف ہوں۔ میں اپنے بیوی اور بچوں کو چھوڑ کر آیا ہوں اور ان کے بارے میں ابن زیادہ سے ڈرتا ہوں۔

   امام حسين ‏عليه السلام نے فرمایا:

یہاں سے جلدی چلے جاؤ تا کہ تم ہمیں قتل ہوتے ہوئے نہ دیکھو۔ اس ذات کی قسم کہ جس کے دست قدرت میں حسین کی جان ہے؛ آج کوئی ایسا شخص نہیں ہو گا کہ جو ہمیں قتل ہوتا ہوا دیکھے اور ہمارے مدد نہ کرے مگر یہ کہ وہ جہنم میں جائے گا۔

   کہتے ہیں: میں تیزی سے وہاں سے روانہ ہوا تا کہ ان کا قتل ہونا مجھ پر مخفی ہو جائے ( یعنی میں ان کے قتل کو نہ دیکھوں)۔

******

   نصر کہتے ہیں: مصعب نے اجلح بن عبد اللَّه كندى کے قول سے اور ابو جحيفه سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا: عروه بارقى؛ سعد بن وہب کے پاس آئے اور کہا:تم علىّ بن ‏ابى طالب ‏عليه السلام سے ہمارے لئئے جو حدیث نقل کرتے تھے وہ حدیث بیان کرو۔

   انہوں نے کہا: جی ہاں! صفین کی طرف جاتے وقت مخنف بن سليم نے مجھے امير المؤمنين على‏ عليه السلام کے پاس بھیجا۔ میں كربلا میں اميرالمؤمنين عليه السلام کی خدمت میں پہنچا اور میں نے دیکھا کہ آپ اپنے ہاتھ سے اشارہ کر رہے ہیں اور فرما رہے ہیں: یہاں، یہاں۔

   کسی شخص نے آنحضرت سے کہا: اے امیر المؤمنین! یہاں کیا ہو گا؟

آپ نے فرمایا: یہاں آل محمد کا ایک کاروان آ کر رکھے گا۔ ان پر تمہارے لئے افسوس ہو، اور تم پر ان کے لئے افسوس ہو۔

   اس شخص نے کہا: اے امير المؤمنين! آپ کے اس فرمان کا کیا معنی ہے؟

امیر المؤمنین علی علیہ السلام نے فرمایا: ان پر تمہارے لئے افسوس سے یہ مراد ہے کہ تم انہیں قتل کرو گے اور تم پر ان کے لئے افسوس سے یہ مراد ہے کہ خداوند ان کے قتل کی وجہ سے تمہیں جہنم میں ڈال دے گا۔

   نصر کا بیان ہے کہ: یہی قول دوسری طرح سے بھی نقل ہوا ہے کہ امير المؤمنين ‏على ‏عليه السلام نے فرمایا:

ان پر تمہارے لئے افسوس ہو، اور تم پر ان کے لئے افسوس ہو۔

   اس شخص نے کہا: «ہم پر ان کے لئے افسوس» کو تو سمجھ گئے ہیں لیکن «ہم پر، ان پر افسوس » کے کیا معنی ہیں؟

فرمایا: يعنى تم دیکھ رہے ہو گے کہ انہیں قتل کر رہے ہیں لیکن تم ان کی نصرت نہیں کر سکو گے۔

   نصر بن مزاحم کہتے ہیں: سعيد بن حكيم عبسىّ نے حسن بن كثير سے اور انہوں نے اپنے والد سے نقل کیا ہے کہ جب امير المؤمنين على‏ عليه السلام كربلا پہنچے تو وہاں کھرے ہو گئے۔

   آپ سے کہا گیا: اے اميرالمؤمنين! یہ كربلا  ہے۔

آپ نے فرمیا: یہ غم و اندوہ اور بلا کا مقام ہے.

پھر آپ نے ایک مقام کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: یہاں ان کے محمل اتارے جائیں گے اور ان کے اونٹوں کا قیام ہو گا۔

پھر آپ نے ایک دوسرے مقام کی طرف اشارہ کیا اور فرمایا: یہاں ان کا خون بہایا جائے گا۔

   اور پھر آپ ساباط کی طرف چلے گئے۔ (1)

 


(1) جلوه تاريخ در شرح نهج البلاغه ابن ابي الحديد: 2/74.

 

منبع: معاويه ج ... ص ...

 

بازدید : 1006