(۱)
قبرستان بقیع کو تباہ کرنے کے لئے انگلستان اور وہابیت کی سازش
ضروری ہے کہ لوگوں کو زیارات سے روکا جائے اور اس مقصد کے پیش نظر پیغمبر، ائمہ اور اولیاء کے مقبروں کے متعلق مسلمانوں کے افکار و عقائد میں شبہات ایجاد کئے جائیں کہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم مدینہ میں نہیں بلکہ) اپنی والدہ کی آرامگاه کے ساتھ مدفون ہیں۔ اور ابو بکر و عمر بقیع میں دفن ہیں جب کہ عثمان کی قبر نامعلوم ہے، اور علی (علیہ السلام) بصرہ میں دفن ہیں اور نجف میں مغيرة بن شعبه کی قبر ہے نہ کہ على (عليه السلام) ی قبر۔ اور حسين (عليه السلام) کا سر قدس مسجد حنّانه میں دفن ہے اور ان کے جد کی قبر نامعلوم ہے اور کاظمین میں دو عباسی خلفاء کی قبریں ہیں نہ کہ اال پیغمبر میں سے (امام) كاظم اور (امام) جواد (عليہما السلام) کی قبریں۔ طوس (مشہد) میں ہارون کی قبر ہے نہ کہ اہلبیت (علیہم السلام) میں سے (امام) رضا (عليه السلام) ، اور سامراء میں بنى عبّاس کی قبریں ہیں نہ کہ اہلبیت ( علیہم السلام) میں سے (امام) ہادى اور (امام) عسكرى (عليہما السلام) کی قبریں۔
اور قبرستان بقيع کو تباہ و برباد اور منہدم کر دیا جائے اور اسی طرح لازم ہے کہ ہم کسی بھی سر زمین پر مسلمانوں کے اولیاء کی قبروں اور مزاروں کے تمام گنبد اور ضریح تباہ کر دیں۔ «1»
(1). اس بناء پر بقیع میں حرم مطہر کی تباہی انگلستان کے احکامات پر وہابیت کا عمل تھا۔
منبع: مزدوران انگليسى، خاطرات همفر جاسوس انگليسى در كشورهاى اسلامى، ص: 81








