(۱)
چودہ شوال المکرم کے دن عبد الملك بن مروان کی ہلاکت
سنہ ۸۴ ہجری میں اس دن عبدالملك بن مروان دمشق میں ہلاک ہوا اور اس نے اکیس سال سے زیادہ حکومت و خلافت کی اور سلطنت سے پہلے وہ ہمیشہ مسجد میں رہتا اور وہاں قرآن کی تلاوت کرتا تھا اور اسے «حمامة المسجد» ( یعنی مسجد کا کبوتر) کہا جاتا تھا۔ اور جیسے ہی اسے سلطنت کی خبر ملی اس نے قرآن کو ایک طرف رکھ دیا اور کہا: «سلام عليك هذا فراق بيني و بينك».
وہ ایک ظالم، سفّاك اور بخيل شخص تھا۔ میں دمیر کی تفصیلات کے مطابق یہی وہ پہلا شخص تھا جس نے پیسوں پر اسلامی سکہ کا نقش کیا۔ اور یہ وہی شخص ہے کہ جس نے چار مرتبہ خواب میں دیکھا کہ اس نے محراب میں پیشاب کیا ہے۔
سعيد بن المسيّب نے اس کی تعبير یوں کی تھی کہ اس کی نسل اور صلب سے چار افراد خلیفہ اور صاحب محراب ہوں گے اور پھر ویسے ہی ہوا جیسے اس نے تعبیر کی تھی اور بعض لوگ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کے فرمان میں «اكبش اربعة» چار خلفاء مراد لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ امیر المؤمنین علی علیہ السلام کا فرمان مروان کے بارے میں ہے کہ جو آپ نے فرمایا: «وهو أبوالأكبش الأربعة» الخ.(1)
1) وقايع الأيام: 73.
منبع: معاويه ج ... ص ...








