امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۲) عبدالملك بن مروان

(۲)

عبد الملك بن مروان

اس دن (چودہ ماه شوّال) کو اور ایک قول کے مطابق سنہ ۸۶ ہجری میں نيمهٔ شوّال کے دن  عبدالملك بن مروان بن حكم دمشق میں ہلاک ہوا. اور اس کی ولادت سنه 26 ہجری میں اور ایک قول کے مطابق سنہ 23 ہجری میں اس کی ولادت ہوئی۔ اور جب سنہ ۶۵ ہجری میں اس کا باپ مروان شہر صيام میں ہلاک ہو گیا تو لوگوں نے اس کی بیعت کر لی اور جیسا کہ بیان کیا گیا ہے کہ خلافت سے پہلے وہ ہمیشہ مسجد میں ہوتا تھا اور مسجد میں قرآن کی تلاوت کرتا تھا کہ جس کی وجہ سے اسے مسجد کا کبوتر یعنی «حَمامة المسجد» کہا جاتا تھا؛ لیکن جیسے ہی اسے سلطنت ملنے کی خبر ہوئی تو اس نے فوراً قرآن کو ایک طرف رکھ دیا اور کہا: سلام عليك بهذا فراق بيني و بينك،

عبد اللَّه بن زبير کے قتل ہو جانے کے بعد وہ مستقر ہو گیا اور ان تمام مالک جیسے حجاز و يمن، عراقين ، آذربائجان ، فارس ، كرمان ، خراسان ، شام اور مصر پر اس کی حکومت تھی اور اس کی حکومت کا دورانیہ اکیس سال پر مشتمل ہے۔

اس کے زمانے  کے اہم واقعات میں جناب مختار ثقفی کا قیام اور ان کا امام حسین علیہ السلام کے قاتلوں کو کیفر کردار تک پہنچانا، ان کا مصعب بن زبیر کے ہاتھوں قتل ہونا؛ جیسا کہ ہم نے چودہ ماہ رمضان کی مناسبات میں بیان کیا ہے۔ نیز اس کے زمانے میں شبیب اور عبد الرحمن بن محمد بن اشعث کا قیام بھی واقع ہوا جیسا کہ حبیب السیر میں اس کی شرح ذکر ہوئی ہے۔ نیز مصعب اور اس کے بھائی زبیر کا قتل بھی اسی کے زمانے میں ہوا کہ جسے ہم نے تیرہ جمادی الثانی کی مناسبات میں ذکر کیا ہے۔

نیز یہ بیان کیا گیا ہے کہ عبدالملك ایک بے رحم، بے‏ باك ، سفّاك اور بخيل تھا اور اسے اس کے انتہائی بخل کی وجہ سے رشح الحجر يا رشح الحجارة کہا کرتے تھے اور اس کے دوسرے القابات میں ابو الذّباب يا ابو الذّبان ہیں کیونکہ اس کے منہ سے گندی بدبو اور عفونت تھی کہ اگر کوئی مکھی اس کے منہ پر بیٹھ جاتی تو وہ اس کے منہ کی بدبو کی وجہ سے مر جاتی تھی۔ وہ دراز قد تھا اور اس کا چہرہ کمزور تھا، اور اس کے کالے اور بدنما دانے تھے اس لئے وہ کبھی بھی ہنستے وقت اپنا منہ نہیں کھولتا تھا کہ کہیں لوگ نہ دیکھ لیں۔

یہ وہ پہلا شخص تھا جو لوگوں کو امر بہ معروف سے منع کرتا تھا اور کتاب حبیب السیر کے صفحہ ۵۰ میں کہتے ہیں: وہ منبر پر چیخ چیخ کر کہا کرتا تھا: لو يأمرني أحداً بتقوى اللَّه بعد مقامى هذا لضربت عنقه؛ يعنى اگر کوئی مجھے میرے اس مقام خلافت کے علاوہ پرہیزگاری اور تقویٰ الٰہی کا امر کرے تو میں اس کی گردن اڑا دوں گا۔ نیز یہ وہ پہلا شخص تھا کہ اس نے سکوں پر اسلامی نقش کئے جیسا کہ کتاب حيوة الحيوان میں اس کی تفصیلات درج ہیں۔ اور یہ وہ پہلا بادشاہ تھا جو لوگوں کو اس کے بارے میں بات کرنے سے منع کیا؛ حالانکہ اس سے پہلے ہر کوئی خلوت یا بادشاہ کی مجلس میں کچھ بھی کہہ سکتا تھا۔ اور یہ وہ پہلا شخص تھا جس نے دیوانی محاسبات کو فارسی سے عربی میں نقل کئے ۔

اس کی خباثت کے لئے یہی کافی ہے کہ اس نے حجّاج بن یوسف ثقفی لعين کو لوگوں پر مسلّط کر دیا اور اسے ‏عراقين کی حکومت سونپ دی اور اس شقی نے بھی ظلم و بربریت میں کوئی کسر نہ چھوڑی۔ ان نے اس کا ترجمہ اور تفصیلات پچیس ماہ صیام کی مناسبات میں ذکر کئے ہیں۔ (1)


1) تاريخ نگارستان: 25.

 

منبع: معاويه ج ... ص ...

 

 

بازدید : 908