(۱)
امام زمانہ عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف کی غیبت اور شیعوں کے حالات کے بارے میں حضرت عبدالعظیم حسنی علیه السلام کی روایت
شيخ صدوق رحمه الله كتاب «كمال الدين» میں عبدالعظيم حسنى رضوان اللَّه عليه سے اور وہ امام جواد عليه السلام سے اور آپ اپنے آباء و اجداد عليہم السلام سے نقل کرتے ہیں کہ امير المؤمنین على عليه السلام نے فرمایا:
للقائم منّا غيبة أمدها طويل، كأنّي بالشيعة يجولون جولان النعم في غيبته ، يطلبون المرعى فلايجدونه ، ألا فمن ثبت منهم على دينه ، ولميقس قلبه لطول أمد غيبة إمامه، فهو معي في درجتي يوم القيامة.
ہمارے قائم کے لئے ایک ایسی غیبت ہے جس کی مدت طولانی ہے ، گویا میں شیعوں کو دیکھ رہا ہوں ان کی غیبت کے زمانے میں بھیڑ بکریوں کی طرح چراگاہ کی تلاش میں ادھر ادھر پھر رہے ہیں اور اسے نہیں پاتے۔ جان لو کہ جو کوئی بھی اپنے دین پر ثابت رہے گا اور غیبت کے طولانی ہونے کی وجہ سے اس کا دل قساوت میں دچار نہیں ہو گا، تو وہ قیامت کے دن میرے ساتھ میرے درجہ میں ہو گا۔
پھر آپ نے فرمایا: ہمارا قائم اس وقت قیام فرمائے گا جب اس کی گردن پر کسی کی بیعت نہیں ہو گی ، اسی وجہ سے ان کی ولادت مخفی ہے اور خود نظروں سے پنہان ہیں۔ (1)
1) كمال الدين: 303/1 ح 14، بحار الأنوار : 109/51 ح1، إعلام الورى: 426، إثبات الهداة: 464/3 ح 115، منتخب الأثر: 255 ح3.
فضائل اهلبیت علیهم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ: 1 / 768 ح 589








