امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۱) حضرت حمزه ‏عليه السلام کی شہادت پر ہند کی جانب سے انعامات

(۱)

حضرت حمزه ‏عليه السلام کی شہادت پر ہند کی جانب سے انعامات

عروه نے عبيداللَّه بن عَدىّ بن خيار کے قول سے روايت کی ہے کہ انہوں نے کہا: ہم عثمان بن عفّان کے زمانے میں شام میں جنگ کر رہے تھے اور غروب کے وقت ہم شہر حِمص ‏پہنچے تو ہم نے اس وحشی  ( جس نے حضرت حمزہ کو شہید کیا تھا) کے گھر کا پتہ پوچھا۔ لوگوں نے کہا: وہ اس وقت نہیں ملے گا کیونکہ وہ صبح تک شراب پیتا ہے۔ ہم اسّی افراد تھے اور ہم نے اس سے ملنے کی غرض سے رات حِمص میں ہی قیام کیا۔ صبح کی نماز پڑھنے کے بعد ہم اس کے گھر گئے وہ بہت بوڑھا ہو چکا تھا۔ وہ ایک چھوٹی سی چٹائی پر لیٹا ہوا تھا کہ جس پر صرف وہ خود ہی بیٹھ سکتا تھا۔ ہم نے اس سے کہا: حمزه کے قتل کے بارے میں بتاؤ اور  پھر اپنے ایمان سے  مسيلمه کے بارے میں بالکل صحیح صحیح بتاؤ۔

   اس کو یہ بات پسند نہ آئی اور وہ خاموش ہو گیا۔ ہم نے اس سے کہا: ہم نے صرف تم سے ملنے کے لئے رات یہاں قیام کیا ہے۔ اور پھر اس نے ہم سے کہا: میں جبير بن مطعم بن عَدى کا غلام تھا اور جب لوگ جنگ احد کے لئے روانہ ہوئے تو اس نے مجھے طلب کیا اور کہا: تمہیں یقیناً یاد ہو گا کہ ‏طعيمةبن عدى کو حمزه نے بدر کے روز قتل کیا تھا اور اس دن سے اب تک ہماری عورتوں نے سروں پر غم و حزن کی چادر اوڑھی ہوئی ہے۔ اگر تم حمزه کو قتل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو میں تمہیں آزاد کر دوں گا۔

   میں کچھ  لوگوں کے ساتھ باہر نکلا جب کہ  ہمارے پاس نیزے تھے۔ اور جب میں ہند بنت عتبه کے قریب سے گذرا تو اس نے مجھ سے کہا:  اے ابا دَسمَه! آج انتقام لو اور ہمارے دل کو تسکین پہنچاؤ! جب ہم احد کے مقام پر پہنچے تو میں نے حمزه کو دیکھا کہ جو ہمارے لوگوں پر شدید حملے کر رہے تھے۔ میں ایک درخت کے نیچے ان کی کمین میں بیٹھ گیا۔ جب حمزہ نے مجھے دیکھا تو وہ میری طرف بڑھے لیکن اسی وقت سباع خزاعى نے ان کا راستہ روک لیا۔ حمزه اس کی طرف متوجّه ہو گئے اور اس سے کہا: اے کنیز اور ختنہ کرنے والی  کے بیٹے! اب تمہاری اتنی جرأت کہ تم ہم پر حملہ کرو! آگے بڑھو۔  حمزه نے اس پر حملہ کیا اور اسے پاؤں سے پکڑ کر زمین پر دے مارا اور پھر اسے قتل کر دیا۔ پھر وہ تیزی سے میری طرف بڑے لیکن ان کے پاؤں کے سامنے ایک ڈھیلا تھا جس سے ٹکرا کر وہ گر گئے اور میں نے اپنا نیزہ ان کی طرف پھینکا جو ان کی ناف کے نیچے جا کر لگا اور ان کے دونوں ٹانگوں نے درمیان سے نکلا۔ اس طرح میں نے انہیں قتل کیا۔ اس کے بعد جب میں ہند بنت عتبه کے پاس سے گذرا تو اس نے مجھے اپنا گراں قیمت لباس اور زر و زیور سے نوازا۔

   اور مسيلمه کے بارے میں یہ کہ جب ہم حديقة الموت میں داخل ہوئے اور جیسے ہی میں نے مسيلمه کو دیکھا تو میں نے اپنا نیزہ ان کی طرف پھینکا کہ جو انہیں جا کر لگا اور اسی وقت انصار میں سے ایک شخص نے ان پر تلوار سے وار کیا۔ اب تمہارا خدا ہی بہتر جانتا ہے کہ کس نے اسے قتل کیا ہے۔ البتہ میں نے سنا کہ ایک عورت چھت سے چیخ رہی تھی کہ: مسيلمه کو حبشى غلام نے قتل کر دیا۔

   عبيد اللَّه بن عدى کہتے ہیں: میں نے اس سے کہا: کیا تم مجھے جانتے ہو؟

   اس نے میری طرف دیکھ کر کہا: کیا تم عدى اور عاتكه بنت ابى العيص کے بیٹے نہیں ہو؟

   میں نے کہا: وہ کیسے؟

   اس نے کہا: خدا کی قسم! جب تم شیر خوار تھے تو میں نے صرف ایک مرتبہ تمہیں دیکھا تھا اور اس دن میں نے تمہیں گہوارے سے اٹھا کر تمہاری ماں کو دیا تھا کہ وہ تمہیں دودھ پلائے۔ اب بھی مجھے تمہاری ٹانگوں کی کمزوری یاد ہے لیکن اس کے بعد میں نے تمہیں کبھی نہیں دیکھا۔

وحشى نے کہا: ہند نے مجھے ظفار گوہر سے بنے ہوئے دو دستبند، چاندی سے بنی دو پازیب اور انگوٹھیاں دیں کہ جو اس نے اپنے ہاتھوں اور پاؤں میں پہنی ہوئیں تھیں۔ (1)


1) مغازى: 206/1.

 

منبع: معاويه ج ... ص ...

 

بازدید : 1012