امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(۲) ایک دوسری روایت کی رو سے حضرت حمزه‏ عليه السلام کی شہادت اور ہند

(۲)

ایک دوسری روایت کی رو سے

حضرت حمزه‏ عليه السلام کی شہادت اور ہند

كتاب «مغازى» میں لکھتے ہیں: وہ وحشى حارث بن عامر بن نوفل کی بیٹی کا غلام تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ وہ جبير بن مطعم کا غلام تھا۔ حارث کی بیٹی نے اس سے کہا: میرا باپ بدر میں قتل ہو گیا ہے اور اب اگر تم میرے بتائے ہوئے ان تین افراد میں سے کسی کو قتل کرو گے تو میں تمہیں آزاد کر دوں گی اور وہ تین افراد محمّد، حمزہ بن عبد المطلب يا علىّ‏ بن ابى طالب (عليہم السلام) ہیں۔ اور میں ان تین افراد میں سے کسی اور کو اپنے باپ کے ہم پلہ نہیں سمجھتی ہوں۔

   وحشى کا بیان ہے کہ: میں نے اسے کہا: رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم کے بارے میں تم خود بھی جانتی ہو کہ انہیں قتل کرنا ممکن نہیں ہے اور میں ان تک نہیں پہنچ پاؤں گا کیونکہ ان کے اصحاب انہیں کبھی تنہا نہیں چھوڑتے۔ میں نے حمزه کے بارے میں خود سے ہی یہ کہا: خدا کی قسم! اگر وہ سو بھی رہے ہوں تو خوف کی وجہ سے مجھ میں اتنی جرأت نہیں ہو گی کہ میں انہیں بیدار کرو۔ لیکن علی (علیہ السلام) کے بارے میں مجھے کامیابی کی امید تھی۔ میں اس مقصد کے پیش نظر لوگوں میں علی کو ڈھونڈ رہا تھا اور جب وہ ظاہر ہوئے میں نے دیکھا کہ وہ ایک ماہر اور دور اندیش ہیں جو اپنی چاروں طرف نظر رکھے ہوئے ہیں۔ پھر میں نے اپنے آپ سے ہی کہا: میں جنہیں تلاش کر رہا تھا یہ وہ نہں ہیں! اچانک میں نے حمزه کو دیکھا کہ وہ کچھ دیکھے بغیر لوگوں پر حملہ کر رہے ہیں۔ میں ایک پتھر کے پیچھے ان کی کمین میں بیٹھ گیا۔ حمزه كی نظر کمزور تھی اور ان کے چہرے پر گرد و خاک پڑی ہوئی تھی۔ سِباع بن امّ انمار ( کہ جس کی ماں شريف بن عِلاج ‏کی کنیز تھی اور جو مكّى لڑکیوں کا ختنہ کرتی تھی) نے حمزه کا راستہ روکا۔ سباع کی کنیت ابو نيار تھی۔

   حمزه نے چیخ کر کہا: اے ختنہ کرنے والی کے بیٹے! اب تمہاری اتنی جرأت کہ تم ہم پر حملہ کرو! آگے بڑھو۔ حمزہ نے اسے چند قدم اپنی طرف بلا اور جیسے ہی وہ ان کے قریب آیا اس کا سر تن سے اس طرح جدا کر دیا کہ جیسے کسی گوسفند کو قتل کرتے ہیں۔ پھر وہ میری طرف متوجہ ہوئے اور میری طرف آگے بڑے لیکن وہ ایسی جگہ پہنچے کہ جہاں سیلاب کی وجہ سے زمین پر کچھ ڈھیلے بن چکے تھے جن سے ٹکرا کر وہ تھوڑا لڑکھڑا گئے تو اسی وقت میں نے اپنا نیزہ ان کی طرف پھینکا اور میں  بہت خوش ہوا کیونکہ وہ نیزہ ان کے ناف کے نیچے جا کر لگا اور ان کے مثانہ سے باہر نکل آیا۔

   ان کے ساتھیوں میں سے کچھ لوگ ان کے گرد جمع ہو گئے اور میں نے سنا کہ وہ انہیں پکار رہے تھے: ابا عماره! لیکن وہ کوئی جواب نہیں دے رہے تھے۔ میں نے خود سے کہا: خدا کی قسم! یقیناً وہ مر گئے ہیں۔ اور پھر میں نے ہند کے باپ، بھائی اور چچا کی مصیبت کو یاد کیا۔ اور جب‏ حمزه کے ساتھیوں کو ان کی موت کا اطمینان ہو گیا تو وہ ان کے اطراف سے پراکندہ ہو  گئے۔ انہوں نے مجھے نہیں دیکھا تھا، میں بھاگتا ہوا گیا اور ان کے پیٹ کو چیر کر ان کا جگر نکال لیا اور اسے ہند بنت عتبه کے پاس لے کر گیا اور اس سے کہا: اگر میں نے تمہارے باپ کے قاتل کو مار دیا ہو تو تم مجھے کیا دو گی؟

  ہند بنت عتبه نے کہا: میں تمہیں اپنے تمام قیمتی لباس اور زر و زيور دے دوں گی۔

   میں نے اس سے کہا: یہ حمزه کا جگر ہے۔ اس نے مجھ سے وہ جگر لے لیا اور دانتوں سے کاٹ کاٹ کر اس کے ٹکڑے ٹکڑے کو چبایا ، وہ اسے کھانا چاہتی تھی لیکن ایسا نہ کر سکی اور پھر اس  نے جگر کے ٹکڑوں کو منہ سے باہر پھینک دیا۔ میں یہ نہیں سمجھ سکا کہ آخر وہ اسے کیوں نگل نہیں سکی۔

   ہند نے اپنا قیمتی لباس اور تمام زر و زيور اتار کر مجھے دے دیا اور کہا: جب تم مکہ آؤ گے تو تمہیں دس دینار دوں گی اور پھر اس نے کہا: مجھے حمزہ کا جسد دکھاؤ۔ میں نے اسے حمزہ کا جسد دکھایا تو اس نے ان کے جسم سے مردانہ اعضاء، کان اور ناک کاٹ کر اپنے لئے دستبند، گوشوارہ اور پازیب بنائی اور وہ ان کے ساتھ مکہ آئی اور وہ اپنے ساتھ مکہ میں حمزه کا جگر بھی لے کر آئی (1). (2)

 


1) مغازى: 205/1.

2) فتح مکہ کے موقع پر دن پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کا ہند کو پکڑے کا حکم دینا۔

  فتح مكّه کے موقع پر رسول خدا صلى الله عليه و آله و سلم نے زبير بن عوام کو كدى کے مقام (کدی؛  پہاڑی سلسلہ میں سے ایک کا نام سلسله جبال‏ كَداء ہے، معجم ما استعجم: 469) سے مکہ میں داخل ہونے کا حکم دیا اور خالد بن وليد کو لِيط کے مقام (لِيط؛ ‏مكّه کے نشیبی علاقے، معجم ما استعجم: 499) سے مكّه میں داخل ہونے کا حکم دیا اور سعد بن عُباده کو حکم دیا کہ وہ كَداء نامی علاقہ سے مکہ میں داخل ہو اور  پرچم اس کے بیٹے قيس بن سعد بن عُباده کے پاس تھا۔ پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم خود اَذاخر کے مقام (اذاخر؛ مكّه کے نزدیک ایک مقام اور دروازہ  کا نام ہے ، منتهى الإِرب) سے مكّه میں داخل ہوئے۔

   پيغمبر صلى الله عليه و آله و سلم نے سپاه کو جنگ سے منع فرمایا تھا اور حکم دیا تھا کہ ان چھ مردوں اور چار عورتوں میں سے جو کوئی بھی ملے اسے قتل کر دو۔ وہ چھ مرد یہ تھے: عِكرمة بن ابى جہل، ہبّار بن اسود، عبد اللَّه بن سعد بن ابى سرح، مِقيس بن‏ صُبابه ليثى، حُوَيرث بن نُقَيذ (يا نُفيل) اور عبد اللَّه بن ہلال بن خَطَل اَدْوَمى.

   اور وہ چار عورتیں یہ تھیں: ہند بنت عُتبة بن ربيعه (ابوسفيان کی بیوی)، ساره (عمرو بن ہاشم کی کنیز)، اور ‏ابى خَطل کی دو کنیزیں کہ جن کے نام قُرَينا اور قُرَيبه تھے اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ان دونوں کنیزوں کے نام فَرْتَنا اور اَرنَبه تھے۔ (مغازى: 631/2)

 

منبع: معاويه ج ... ص ...

 

بازدید : 1001