امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(1) معاويه اور عبدالله بن زبير

(1)

معاويه اور عبدالله بن زبير

روايت ہوئی ہے کہ ایک دن معاویہ خواب سے بیدار ہوا تو اس نے دیکھا کہ عبداللَّه بن زبير اس کے سامنے کھڑا ہوا مسکرا رہا ہے اور اس سے کہہ رہا ہے: اے مؤمنوں کے فرمانروا! اگر میں تمہیں قتل کرنا چاہتا تو میں یہ کام کر سکتا تھا!!...

معاويہ – جب کہ وہ اپنے غصہ کو چھپا نہ سکا – نے کہا: ہمارے بعد تم شجاع ہو گئے ہو!!...

عبداللَّه فخر و مباہات سے کہا: کون سی چیز میری شجاعت کا انکار کر سکتی ہے؟ حالانکہ میں علی بن ابی طالب علیہ السلام کی مقابل صف میں کھڑا ہوں۔

اموی بادشاہ نے اپنے تمسخرانہ انداز میں اس سے کہا:یقیناً انہوں نے تم سے اور تمہارے باپ سے بائیں ہاتھ کے ساتھ جنگ کی ہو گی اور اپنے دائیں ہاتھ سے دوسروں کے ساتھ جنگ کر رہے ہوں گے!!

حتّى عرب (اگرچہ ان کے ساتھ جنگ میں عربوں کی عورتیں بیوہ اور بچہ یتیم ہوئے) ان کی شمشیر سے اپنے سپاہیوں اور سپہ سالاروں قتل ہونے پر افتخار کرتے تھے۔

عمرو بن عبدِوَد (عرب کا وہ بہادر جو جنگ خندق میں حضرت علىّ بن ابى‏طالب‏ عليه السلام کے ہاتھوں قتل ہوا) کی بہن فخر کرتی تھی اور اس نے اپنے بھائی کے لئے مرثیہ میں یہ اشعار کہے:

لو كان قاتل عمرو غير قاتله           بكيته أبداً ما دمت في الأبد

لكنّ قاتله من لايعاب به              من كان يدعى قديماً بيضة البلد

اگر عمرو کا قاتل (حضرت علی علیہ السلام) اسے قتل کرنےوالے کے علاوہ کوئی اور ہوتا تو ہمیشہ اس پر گریہ کرتی۔

لیكن اس کا قاتل وہ ہے کہ جس میں کوئی عیب نہیں ہے ، اور انہیں قدیم الایام سے شہر کا بزرگ کہا جاتا ہے.(1)


1) خاستگاه خلافت: 524.

 

منبع : معاويه ج ... ص ...

 

 

بازدید : 773