(۵)
قصیدۂ ہمزیہ میں حضرت خدیجه علیها السلام کی توصیف
کتاب « فضائل اہلبیت علیہم السلام کے بحر بیکراں میں سے ایک ناچیز قطرہ» ( مشہور بہ القطرہ) میں ’’قصیدۀ ہمزیّه‘‘ نقل ہوا ہے ۔ یہ قصیده شرف الدین ابوعبدالله محمدسعید دلاصی (بوصیری) نے پيغمبر خدا صلى الله عليه و آله و سلم کی مدح و ثناء میں لکھا ہے۔ اس قصیدہ کے ایک حصہ میں حضرت خدیجہ علیہا السلام کے بارے میں یوں ذکر ہوا ہے:
ورأته خديجة والتقى وال زهد فيه سجيّة والحياء
وأتاها أنّ الغمامة والسر أظلّته منهما أفياء
وأحاديث أن وعد رسول اللَّه بالبعث حان منه الوفاء
فدعته إلى الزواج وما أح سن ما يبلغ المنى الأذكياء
وأتاه في بيتها جبرئيل ولذي اللب في الاُمور ارتياء
فأماطت عنها الخُمُر لتدري أهوى الوحي أم هو الإغماء
فاختفى عند كشفها الرأس جبري ل فما عاد أو اعيد الغطاء
فاستبانت خديجة أنّه الكنز الّذي حاولته والكيمياء
... حضرت خديجه عليها السلام نے اس حال میں پیغمبر صلی الله علیه و آله و سلم کا دیدار کیا کہ وہ عفت وحیاء اور تقویٰ و پرہیزگاری جیسی صفات حمیدہ سے مزین تھے۔
جس وقت وہ (رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) حضرت خديجه عليها السلام کو دیکھنے کے لئے گئے تو ان پر ابر سایہ کئے ہوئے تھے کہ جو انہیں سورج کی حرارت سے محفوظ رکھے ہوئے تھے۔
اور وہ احادیث جو رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم کی بعثت کو بیان کرتی ہیں ان کے پورا ہونے کا وقت آ پہنچا تھا۔
حضرت خديجه عليها السلام نے انہیں ازدواج کی پیش کش کی ، کس قدر اچھا ہے کہ نیک لوگ اپنی اس آرزو کا پا لیتے ہیں۔
حضرت خديجه عليها السلام کے گھر میں تھے کہ جب جبرئيل آنحضرت کی زیارت کے لئے آئے ، در حقیقت ان امور میں صاحبان عقل و خرد کے لئے غور و فکر کی منزل ہے۔
رسول خدا صلى الله عليه وآله وسلم وحى الٰہى دریافت کر رہے تھے اور آپ نے اپنے اوپر چادر اوڑھی ہوئی تھی ، حضرت خديجه عليها السلام نے ان کے چہرۂ اقدس سے چادر ہٹائی تا کہ یہ دیکھیں کہ وحی الٰہی دریافت فرما رہے ہیں یا عالم بیہوشی میں ہیں؟
جب انہوں نے آنحضرت کے چہرے سے چادر ہٹانی چاہی تو جبرئيل ان کی آنکھوں سے پنہاں ہو گئے اور آپ نے دوبارہ ان کے چہرۂ اقدس پر چادر ڈال دی۔
اس بناء پر حضرت خديجه عليها السلام سمجھ گئیں کہ یہ وحی ایک خزانہ اور نایاب کیمیاء ہے کہ انہیں جس کی تلاش تھی.....
«فضائل اہلبیت علیہم السلام کے بحر بیکراں میں سے ایک ناچیز قطرہ : 2 / 137»








