امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(3) حضرت امّ البنين عليهاالسلام سے توسل

(3)

حضرت امّ البنين عليهاالسلام سے توسل

 مرحوم حجة الاسلام و المسلمین جناب ربانی خلخالی میں یوں لکھتے ہیں:
ہمارے معاشرہ میں صرف حضرت ابو الفضل العباس علیہ السلام سے ہی توسل کرنا مرسوم نہیں ہے کہ بلکہ آنحضرت کی مادر گرامی حضرت ام البنين عليہا السلام سے بھی توسل کرنا رائج ہے۔

بہت سے دیندار اور نیک افکار لوگ اپنی مشکلات سے نجات پانے اور سختیوں کے برطرف ہونے کے لئے حضرت ام البنين عليہا السلام سے متوسل ہوتے ہیں اور جلد ہی ان کی حاجت پوری ہو جاتی ہے۔ اور یہ بذات خود خداوند متعال کی بارگاہ میں اس غم دیدہ بی بی کی عظمت و جلالت اور شان کی واضح و آشکار دلیل ہے۔

مجرب ختومات میں سے ایک میں چودہ معصومین عليہم السلام کے بعد حضرت ام البنين عليہا السلام سے بھی متوسل ہوتے ہیں اور انہیں خدا کی بارگاہ میں وسیلہ قرار دیتے ہیں اور اپنی حاجت طلب کرتے ہیں۔ کتاب ’’مجموعہ علم جفر‘‘ میں اس ختم کا طریقہ یوں ذکر ہوا ہے:

اس ختم کو انجام دینے کا وقت نماز صبح یا نماز عشاء کے بعد ہے اور اگر اس ختم کو مہینہ کے آغاز سے شروع کریں تو بہتر ہے۔

پہلے دن خاتم الأنبياء حضرت محمد بن عبدالله صلى الله عليه و آله و سلم کی نیت سے، دوسرے دن حضرت اميرالمومنين على بن ابيطالب عليه السلام کی نیت سے، تیسرے دن حضرت فاطمۂ  زہرا سلام اللہ علیہا کی نیت سے، چوتھے دن حضرت امام حسن مجتبى عليه السلام کی نیت سے، پانچویں دین حضرت امام حسین علیہ السلام کی نیت سےاور اسی ترتیب سے چودہویں دن حضرت بقيه الله الاعظم امام زمانہ عجل اللہ فرجہ الشریف کی نیت سے ہر دن ہزار مرتبہ «وعجّل فرجهم» کے ساتھ صلوات پڑھی جائے  اور اس کے ضمن کے پندرہویں دن حضرت ابوالفضل العباس عليه السلام  اور سولہویں دن حضرت ام البنين عليہا السلام اور سترہویں دن حضرت زينب كبرىٰ علیہا السلام کی نیت سے ہزار مرتبہ صلوات بھیجی جائے اور آخری دن صلوات کو تمام کرنے کے بعد معروف دعائے توسل پڑھی جائے کہ جو مفاتيح الجنان میں ذکر ہوئی ہے اور جس کا آغاز«اللهم انى اسئلك و اتوجه اليك بنبيك نبى الرحمه ...» سے ہوتا ہے۔

مذکورہ کتاب میں ایک موثق شخص کے قول سے نقل ہوا ہے کہ بعض لوگوں نے ایک ساتھ اس ختم کو انجام دیا اور ختم کے آخر میں انہیں حضرت باب الحوائج قمر بنى هاشم اباالفضل العباس عليه السلام کی زيارت ہوئی اور آنحضرت نے ان سے فرمایا:«حاجاتكم مقضية « يعنى تمہاری حاجتیں پوری ہو گئیں ہیں۔

اس شخص نے قسم کھائی کہ ہم چند افراد تھے اور ہم سے ہر ایک کی حاجات پوری ہوئیں۔ (*)

(*) آیت اللہ  سيد مرتضى مجتهدى سيستانى کے نوشتہ جات سے اقتباس.

 

منبع: کتاب «چهره درخشان قمر بنی هاشم ابوالفضل العباس علیه السلام : 2 / 69 »

 

 

بازدید : 853