امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
(2) عبدالله بن زبير کا اميرالمؤمنين‏ حضرت علی عليه السلام کی بیعت نہ کرنا

(2)

عبدالله بن زبير کا

اميرالمؤمنين‏ حضرت علی عليه السلام کی بیعت نہ کرنا

   اس دن عبداللَّه بن زبير،قریش کے ایک گروہ، طلحة بن عبيداللَّه، زبير بن عوام، عبداللَّه بن عمر، سعيد بن عاص، مروان بن حكم، سعد بن ابى وقّاص، محمّد بن مسلمه، حسّان بن ثابت، اسامة بن زيد اور قریش کے کچھ دوسرے افراد نے اميرالمؤمنين‏ حضرت علی عليه السلام کی بیعت کی مخالفت کی. اميرالمؤمنين‏ علی عليه السلام منبر پر گئے اور خدا کی حمد و ثناء بجا لانے اور پيغمبر پر درود بھیجنے کے بعد فرمایا:(1)

اے لوگو!تم نے اسی چیز کی بناء پر میری بیعت کی کہ جس کی بناء پر تم نے مجھ سے پہلے دوسروں کی بیعت کی تھی۔ لوگوں کو بیعت کرنے سے پہلے اختیار ہے لیکن جب وہ بیعت کر لیں تو پھر انہیں اس پر کوئی اختیار نہیں ہے۔ امام پر لازم ہے کہ وہ امور میں استقامت سے کام لے اور لوگوں پر لازم ہے کہ وہ مطيع اور فرمانبردار ہوں۔ یہ بیعت؛ مسلمانوں کے لئے عام بیعت ہے، جو اس سے روگرداں ہوا اس نے اسلام سے روگردانی کی اور اس نے راہ ہدایت کے علاوہ کسی اور راہ کی پیروی کی۔ آپ لوگوں کا میری بیعت کرنا کوئی فتنہ (ایجاد کرنا) نہیں تھا، میرا اور تمہارا کام یکساں نہیں ہے، میں تمہیں خدا ئے عزّ وجلّ کی رضا کے لئے چاہتا ہوں اور تم مجھے اپنے لئے چاہتے ہو۔ خدا کی قسم! میں دشمنوں سے خیرخواہی اور مظلوموں سے انصاف سے پیش آؤں گا۔  عبداللَّه، سعد، مروان، محمّد، حسان اور اسامه کے سلسلہ میں مجھ تک ناخوشگوار خبریں پہنچی ہیں۔ میرے اور ان کے درمیان حق فیصلہ کرے گا۔(2)


1) ارشاد: 243/1 تھوڑت سے اختلاف کے ساتھ.

2) نبرد جمل: 61.

 

منبع : معاويه : ج ... ص ...

 

 

بازدید : 789