(۳)
وليد کی شراب خوری اور…
وليد بن يزيد شرابخور اور عيّاش تھا اور موسیقی میں دلچسپی رکھتا تھا۔یہ وہ پہلا شخص تھا کہ جس کے پاس مختلف شہروں سے گلوکاروں کو بھیجا جاتا تھا اور اس کا گانے بجانے والوں کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا تھا۔اس نے شراب خوری،عيّاشى اور موسيقى کو رواج دیا۔ابن سريج نغمه گر،معبد، غريض، ابن عائشه ، ابن محرز ، طويس اور دحمان اسی کے ہم عصر تھے۔اس کے زمانے میں خود اس پر اور تمام لوگوں پر آواز و ساز کا غلبہ تھا۔اس کی بہت سی کنیزیں تھیں،وہ بے پرواہ اور وحشی تھا۔اپنی خلافت سے دو رات پہلے وہ خوشی سے سویا نہیں تھا اوروہ اس مضمون کے کچھ شعر پڑھتا تھا:
«میری رات لمبی ہو گئی اور میں نے ساری شراب پی لی ،مجھے خوشخبری سنانے والا آیا اور عصا کے ساتھ میرے لئے خلافت کی انگوٹھی بھی لے کر آیا »۔
اس کے بےشرمی اور بے حیائی پر مبنی کلام میں سے کچھ اشعار تھے کہ ہشام کی موت کے وقت جب خوشخبری سنانے والا آیا اور اس نے اسے خلیفہ کے عنوان سے سلام کیا تو اس نے یہ اشعار کہے کہ جن کا مضمون یہ تھا: «میرے دوست! میں نے رصافہ کی طرف سے رونے کی آواز سنی، میں آ رہا تھا اور یہ کہہ رہا تھا کہ عورتوں کا کیا حال ہے میں نے دیکھا کہ ہشام کی بیٹیاں اپنے باپ پر آہ و نالہ کر رہی ہیں اور رو رہی ہیں اور ان پر بدبختی حاکم تھی اور حق یہ ہے کہ میں مخنث ہوں اگر ان سب کو ...».
وليد سے کہا گیا: تمہیں کس چیز سے لذت کا احساس ہوتا ہے؟
اس نے کہا: چاندنی راتوں میں دوستوں کے ساتھ خاکی ٹیلوں پر رہنے سے۔
وليد کو خبر ملی كه شراعة بن زيد محفل جمانے میں ایک سلیقہ مند شخص ہے۔اس نے مجلس کا انعقاد کیا اور اسے بھی بلایا گیا۔جب وہ ولید کے پاس آیا تو اس سے کہا:میں نے تمہیں کتاب و سنت کے بارے میں پوچھنے کے لئے نہیں بلایا کیونکہ میں ان چیزوں کا اہل نہیں ہوں۔میں تم سے شراب کے بارے میں پوچھتا ہوں۔
ولید نے پوچھا:مشروب کے بارے میں تمہارا کیا کہنا ہے؟
اس نے کہا:کون سی مشروب؟
ولید نے پوچھا:پانی کے بارے میں کیا کہتے ہو؟
اس نے کہا:گھوڑے اور گدھے بھی پیتے ہیں۔
ولید نے پوچھا:انگور کی شراب کے بارے میں؟
اس نے کہا:وہ خمار کا ذریعہ ہے اور جائز ہے۔
ولیدنے پوچھا:کھجور کی شراب کے بارے میں کیا کہتے ہو؟
کہا:پیٹ کی ہوا ہے۔
ولید نے پوچھا:اور شراب؟
اس نے کہا:یہ بدن کی تقویت اور دل کی مونس ہے۔
ولیدنے پوچھا:موسیقی کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے؟
اس نے کہا:غموں کی یاد دلاتی ہے ،دوست کو ماٴنوس کرتی اور عاشق کو خوش اور دل کی آگ کو بجھاتی ہے اور یادداشت کو ایسا بنا دیتی ہے کہ پھر کوئی بھی کسی دوسرے کام میں سرگرم نہیں ہو سکتا اور پھریہ بدن کے اجزا ء میں نفوذ کرکے جان کو جلاتی ہے اور حواس کو تقویت پہنچاتی ہے۔
ولید نے پوچھا:تمہیں کون سی محفل و مجلس زیادہ پسند ہے؟
کہا:ایسی مجلس و محفل کہ جس میں آسمان دیکھوں اور کوئی تکلیف نہ دیکھوں۔
پوچھا:غذا کے بارے میں تمہارا کیا کہنا ہے؟
کہا:کھانا کھانے والے کے پاس اختیار نہیں ہے جو بھی لایا جائے ،اسے کھائے۔
ولید نے اسے اپنا درباری بنا لیا۔ولید کے دلپذید کلمات میں سے ایک شعر ہے کہ جس کا مضمون کچھ یوں ہے: «اور یہ زرد صورت کہ جو جام میں زعفران کی طرح ہےاور تاجر اسے عسقلان سے اسیر بنا کر لا لئے ہیں ۔جام کو نمودار کرتے ہیں لیکن جام کے لب اسے چھونے کی راہ میں حائل ہیں۔اس کے کچھ بلبلہ ہیں کہ اگر ان میں جنبش آئے تو وہ برق یمانی کی طرح چمکے ».
شراب کے بارے میں اس کے بیہودہ کلام میں سے کچھ اشعار ہیں جو اس نے اپنے ساقی سے خطاب کرتے ہوئے کہے اور جن مضمون کچھ یوں ہے:«اے يزيد! مجھے حلق دار جام میں شراب دو کہ میں مست ہو چکا ہوں اور میری صدائے نالہ بلند ہے، مجھے شراب دو، شراب دو؛ کیونکہ میرے گناہ اس قدر زیادہ ہو چکے ہیں کہ اب ان کا کوئی كفّاره نہیں ہے».
ابوخليفه فضل بن حباب جمحى؛ محمّد بن سلام جمحى سے نقل کرتے ہوئے کہتے ہیں: اہل شام کے بزرگوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے نقل کیا کہ میں بھی وليد بن يزيد کی صحبت میں تھا کہ میں نے ابن عائشه قرشى کو اس کے پاس دیکھا،وليد نے ابن عائشه سے کہا: میرے لئے گانا گاؤ۔ اس نے اس مضمون پر مبنی کچھ اشعار پڑھے:«قربانی کے دن صبح سویرے میں نے کالی آنکھیں دیکھیں کہ جنہوں نے میرا صبر چھین لیا۔ ان ستاروں کہ طرح کہ جو رات کے وقت چاند کے گرد طواف کرتے ہیں۔ میں اجر الٰہی کی امید میں گھر سے باہر نکلا تھا لیکن گناہوں کی سنگینی کے ساتھ واپس لوٹا».
وليد نے اس سے کہا:خدا کی قسم! اے میرے امیر تم نے بہت عمدہ کلام پڑھا ہے، تمہیں عبد شمس کے حق کی قسم! اسے مکرر پڑھو۔ اور اس نے پھر یہ اشعار پڑھے۔ ولید نے پھر اس سے کہا: خدا کی قسم! تم نے بہت اچھا کلام پڑھا ہے، تمہیں اميّه کے حق کی قسم، اسے پھر پڑھو۔ اور اس نے ایک بار پھر یہ اشعار پڑھو۔ اور اسی طرح اس نے اپنے آباء و اجداد میں سے سے ہر ایک کا نام لے کر اسے یہ اشعار بارہا پڑھنے کے لئے کہا یہاں تک کہ اس کی اپنی نوبت آ گئی تو اس نے کہا: تمہیں میری قسم! ان اشعار کو پھر پڑھو اور اس نے ایک بار پھر یہ اشعار پڑھے۔ پھر وليد اٹھا اور ابن عائشہ کے پاس جا کر اس کے بدن کے اعضاء کو چومتے ہوئے کہنے لگا: میں کس قدر مست ہو چکا ہو۔ پھر اس نے اپنا لباس اتار کر ابن عائشه پر پھینک دیا اور جب تک اس کے لئے کوئی دوسرا لباس نہ لایا گیا وہ اسی طرح برہنہ تھا اور اس کے حکم پر اسے ایک ہزار دینار دیئے گئے اور اسے ایک سواری پر سوار کیا اور کہا: تم میری سواری پر سوار ہو کر جاؤ کہ تم نے مجھے آگ لگا دی ہے۔
مسعودى کہتے ہیں: ابن عائشه نے یہی اشعار ولید کے باپ يزيد بن عبدالملك کے لئے پڑھے اور اس بھی مست کر دیا تھا۔
کہتے ہیں: وليد مستی کے عالم میں ملحدانہ باتیں کرتا تھا اور کافر ہو گیا تھا۔ منجملہ اس نے اپنے ساقی سے کہا: تمہیں چوتھے آسمان کی قسم! مجھے شراب دو۔ اس لحاظ سے ان اشعار پر وليد کا مست ہو جانا اسے اس کے باپ سے میراث میں ملا تھا۔
وليد کو بنى مروان کے لا پرواہ کا نام دیا گیا تھا۔ ایک دن اس نے ایک آیت پڑھی کہ جس کے معنی یہ تھے: «گردن کشی کرنے والا مغرور نا امید ہو گا، جهنّم اس کے انتظار میں ہے اور اسے پانی، گندگی اور خون پلایا جائے گا »، پھر اس نے قرآن کو پکڑا اور اسے تیر کا ہدف قرار دیا اور وہ قرآن پر تیر برساتے ہوئے کہتا تھا: تم گردن کشی کرنے والے مغرور اور متکبر کو ڈراتے اور دھمکاتے ہو؟ میں بھی گردن کشی کرنے والا ایک متکبر ہوں؛ جب روز محشر تم اپنے پروردگار کے پاس جاؤ تو کہو: اے پروردگار! وليد نے مجھے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا!
محمّد بن يزيد مبرّد نحوى کہتے ہیں: وليد – خدا اسے ذلیل و خوار کرے – نے پيغمبرصلى الله عليه و آله و سلم کے بارے میں ایک شعر کے ضمن میں کفر بکا کہ پروردگار کی طرف سے ان پر کوئی وحى نہیں آئی؛ منجملہ یہ شعر ہے: «ایک ہاشمى وحى اور كتاب کے بغیر خلافت کو بازيچہ بنا لیا اور خدا سے کہو کہ مجھے کوئی غذا نہ دے اور خدا سے کہو کہ مجھے کوئی مشروب نہ دے ». وہ یہ بات کہنے کے بعد زیادہ دن زندہ نہ رہا اور قتل ہو گیا۔ وليد بن يزيد کی ماں حجّاج کی ماں اور محمّد بن يوسف ثقفى کی بیٹی تھی اور اس کی کنیت ابوالعبّاس تھی۔
وليدکے لئے بلور اور ایک قول کے مطابق سنگ يشب سے جام بنایا گیا تھا۔ بعض فلاسفہ کا یہ نظریہ ہے کہ جام يشب میں شراب پینے والا مست نہیں ہوتا۔ اور ہم نے اس کی خاصیت كتاب «القضايا والتجارب» میں ذکر کی ہے کہ جو کوئی اس کا ایک ٹکڑا اپنے سرہانے کے نیچے رکھے یا اس کی انگوٹھی پہنے تو ہمیشہ اچھے خواب دیکھے گا۔
وليد نے کہا: جب تک شراب کا جام بھرا گیا، چاند نکل چکا تھا اور وہ شراب پی رہا تھا اور اس کے درباری حاضر تھے۔ اور پھر اس نے کہا: آج چاند کس کہاں ہے؟
اس کے درباریوں میں سے ایک نے کہا: چاند فلاں برج میں ہے۔
دوسرے نے کہا: چاند تو جام میں ہے کہ چاند کا عکس شراب جان میں نمودار ہے۔
وليد نے کہا: میرے ذہن میں بھی کچھ ایسا ہی تھا اور پھر اس پر بہت زیادہ مستی طاری ہو گئی اور اس نے کہا: سات ہفتہ صبح کروں گا اور اس نے سات ہفتوں کا لفظ فارسی میں کہا۔ اس کے خاص افراد میں ایک اس کے پاس آیا اور اس نے کہا: اے امير المؤمنین! عرب اور قریش کے کچھ لوگ یہاں ہے اور یہ شأن خلافت کے مطابق نہیں ہے۔
اس نے کہا: انہیں شراب دو۔ انہوں نے شراب سے منع کیا تو ان کے منہ میں شراب کی بوتل ڈالی گئی اور انہیں اس قدر شراب پلائی گئی کہ ان پر بھی مستی طاری ہوگئی۔ (1)
1) مروج الذهب: 217/2.
منبع : معاويه : ج ... ص ...








