(۳)
گہوارہ میں معجزہ
قطب الدين راوندى رحمه الله نے كتاب «خرائج» میں محمّد بن ميمون سے نقل كیا ہے کہ انہوں نے کہا:
میں حضرت امام رضا عليه السلام کے ساتھ مكّه میں تھا اور ابھی تک آنحضرت خراسان کے سفر پر نہیں گئے تھے۔جب میں نے واپسی کا ارادہ کیا تو عرض کیا: مىں مدینہ لوٹنا چاہتا ہوں ابوجعفر عليه السلام (امام تقی علیہ السلام) کے لئے خط تحریر فرما دیں کہ میں ساتھ لے جاؤں گا۔
امام علیہ السلام مسکرائے اور خظ تحریر فرمایا کہ جسے میں اپنے ساتھ مدینہ لے آیا۔ اس وقت میری بینائی جا چکی تھی۔خادم حضرت امام تقی عليه السلام کو گہوارے می اٹھا کر لائے اور میں نے آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ آنحضرت نے موّفقِ نامی اپنے خادم کو حکم دیا کہ خط کی مہر کی مہر کھولے، موفق نے خط کھول کر آپ کی خدمت میں پیش کیا۔ آنحضرت نے اسے ملاحظہ کیا۔
پھر مجھ سے فرمایا:
يا محمّد، ما حال بصرك؟
اے محمّد! تمہاری آنکھیں کیسی ہیں؟
میں نے عرض كیا: میں اپنی صحت و سلامتی کو کھو یٹھا ہوں اور نابینا ہو چکا ہوں جیسا کہ آپ مشاہدہ فرما رہے ہیں۔ آنحضرت نے اپنا دست مبارک میری آنکھوں پر پھیرا اور آپ کی برکت سے میری بینائی واپس آ گئی اور میں شفا یاب ہو گیا۔ میں نے آپ کے مبارک قدموں کا بوسہ لیا اور آپ کی خدمت سے جانے رخصت طلب کی، جب کہ میں ہر چیز کو دیکھ سکتا تھا۔(1)
(1) الخرائج: 372/1 ح1، بحار الأنوار : 46/50 ح 20، مدينة المعاجز: 372/7 ح 73، حلية الأبرار: 540/4 ح4،كشف الغمّة: 365/2.
منبع: فضائل اهلبيت عليهم السلام کے بحر بیکراں سے ایک ناچیز قطرہ:ج 1 ص 652








