امام صادق علیه السلام : اگر من زمان او (حضرت مهدی علیه السلام ) را درک کنم ، در تمام زندگی و حیاتم به او خدمت می کنم.
معاویه اور عمر کی بدعتیں

معاویه  اور عمر کی بدعتیں

اے بھائی! تمہیں کیا خبر ہے کہ عمر نےخدا کے بھیجے ہوئے دین میں کیا کیا تصرّف کئے ہیں۔

عمر بن خطاب نے دینِ اسلام میں سینکڑوں ایسی بدعتیں ایجاد کی ہیں اور کسی نے ان پر اعتراض نہیں کیا اور نہ ہی کوئی پوچھ تاج  کی۔ اگر یہ بھی رہنے دیتے تو وہ اس کو بھی جاری رکھتے اور لوگ دوسری سنتوں کی طرح اسے بھی قبول کر لیتے، اور عجم کشی کو بارگاہِ الٰہی میں تقرّب کا ذریعہ سمجھنے لگتے۔

عمر بن خطاب نے مناسکِ حج کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی سنت کے برخلاف اپنی رائے اور اجتہاد سے تبدیل کیا۔

اسی طرح عمر بن خطاب نے صاع اور مد کی مقدار میں بھی پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی تعیین کردہ  مقدار کے برخلاف اضافہ کیا۔

عمر بن خطاب نے مجنب شخص کو تیمم کرنے سے روکا اور رسولِ  خدا صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے حکم کے برخلاف عمل کیا، اور آنحضرت کے اس فرمان کو منسوخ کر دیا جس میں تیمم کو غسل کے بدلے قرار دیا گیا تھا۔

عمر بن خطاب نے اپنی مرضی سے دینِ اسلام میں تبدیلیاں اور تحولات پیدا کئے۔ اس صورت میں کیا ہی بہتر ہوتا کہ عجم کشی بھی ایک پسندیدہ سنت کے طور پر اسی کے ہاتھوں امتِ اسلام میں باقی رہتی اور ہم اس قوم کے خطرے سے محفوظ ہو جاتے۔

لیکن اے بھائی، اے زیاد بن ابی سفیان! تم نے انہیں اس کام سے روک دیا اور ہمیں بدستور خوف و ہراس میں مبتلا چھوڑ دیا۔

اب بھی خوابِ غفلت سے بیدار ہو جاؤ، اب بھی دیر نہیں ہوئی۔ اس سے پہلے کہ موقع ہاتھ سے نکل جائے، ایرانیوں (عجم)کو ختم کر دو اور اس قوم کی جڑ وں کو جلا کر خاکستر کر دو۔[1]، [2]

 


[1] ۔ اس خط کے عربی متن کو ملاحظہ کرنے کے لئے كتاب ’’ناسخ التواريخ کی چھٹی جلد  اور دوسرے ایڈیشن سے صفحه ۵۹  تا ۶۲ کی طرف رجوع فرمائیں ۔

[2] ۔ تاريخ سياسى اسلام : ۴۷۹.

    بازدید : 11